انسان اور انسانیت / میاں محمد محسن

آئے دن بڑھتا ہوا ظلم ۔ دولت کی حرص، خود کو بڑا ثابت کرنے کے لیے کمزوروں پر تشدد کے واقعات اور نوجوان نسل کا غیر اخلاقی رویہ، یہ سب بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
میری ایک عادت ہے کہ میں حیرتیں تلاش کرتا رہتا ہوں اور جتنا میں سوچتا ہوں میری حیرتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
نئی نسل کی بے مقصد اور بے سمت زندگی ہدف تنقید بنتی جارہی ہے۔
نہ کچھ سیکھتی ہے نہ سکھلا رہی ہے ۔
بس یہی سوچتا ہوں کہ دیکھوں ، پڑھوں، سوچوں ، لکھوں کچھ کام کر جاؤں۔
یہ جارحیت و سفلی مرکبات کا اک زندہ و عجیب قفس
یہ ظلم و جبر کی سموم گرم گرم ہوا
یہ ملکیت کی ہوس کہ
یہ ساری درندگی جو ہے انسان میں اسی سے ہے۔
آج ہم ظالم کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ ہم ظلم کو برداشت کرنا سیکھ چکے ہیں ۔ جس کی بدولت ظالم مضبوط ہو رہا ہے اور ظلم حد سے تجاوز کر رہا ہے ۔
میرے لیے بے حد اہم سوال یہ ہے کہ کیا میں جان بچانے کے لیے پیدا ہوا تھا ؟
جان میں ایسی کیا چیز ہے جس کو بچایا جائے ! میں سوچتا ہوں کہ ایسی جان کا کیا فائدہ ہے جو خاموشی کے باعث اس طرح کے غیر انسانی جرائم اور استحصال کی بھی اتحادی ہو۔
میں ایک خوف کا مارا ہوا انسان ہوں مگر میرے اندر ایک تجسّس ہے۔ جو بار بار میرے خوف پر غالب آ جاتا ہے۔ میں خوف کو جھٹک کر پھر سے اندھے غار میں روشنی تلاش کرنا شروع کر دیتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں روشنی ہے بھی یا نہیں ۔ اگر ہے بھی تو کیا میں اس ظلمت کے دور میں اس روشنی سے استفادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہوں۔
یہاں دو ایک باتیں غور طلب ہیں ۔ ایک تو یہ کہ کیا آدمی اور جانور کی جارحیت یکساں ہیں ؟
عمومی تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ جانور کی نوعیت تو دفاعی نوعیت کی یا فطری طلب ( بھوک ) کی تسکین تک محدود ہوتی ہے ۔ جب کے آدمی ان دو باتوں سے ہٹ کر بھی جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے۔ آدمی ہوس ملکیت اور حرص زخیرہ اندوزی کی خاطر جس ظلم و جارحیت کا بازار گرم کرتا ہے۔ اس کی کوئی مثال جانوروں میں بھی نہیں ملتی ۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس حقیقت کو انسان صدق دل سے قبول کر سکتا ہے ؟
کیا وہ سمت کے لا یقینی کے اندھیرے میں گھرے ہونے کا ادراک کر کے ہاتھ پاؤں مارنے سے باز رہ سکتا ہے ؟
کیا وہ کٹھ پُتلی بنے رہنے پر اکتفاء کر سکتا ہے ؟
میں نے بہت کم عمری میں ہی کچھ سوالات دریافت کر لیے تھے مگر جواب نہ ہونے کے باعث بری طرح تشکیک کا شکار ہوا تھا؟ کبھی کبھی تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں تشکیک کے اس عجائب خانے سے نکلا کیسے ؟
مگر یہ بھی ممکن ہے میں ابھی تک وہیں اسیر ہوں۔ جس سے نکلنے کی جدوجہد میری زندگی کا مطمح ہے مگر ” لا حاصل”
یہ بہت مشکل ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم سب اسی رو میں جبرا” بہے جا رہے ہیں ۔ ہمیں کیا خبر آ نے والی جو نسلیں ہیں کیا سوچیں گی کیا کہیں گی ۔
بڑے ہوں یا چھوٹے ، سب کو پیدا ہو کر ایک وقت تک جینا اور اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ ازل سے اب تک اربوں انسان پیدا ہوئے، بہت دن جیئے اور مر گئے، لیکن تاریخ کے ریکارڈ میں سبھی نام تو نہیں آتے اور جن کے نام ہیں بھی ناجانے کب تک باقی رہیں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے پچھلے نام فراموش ہوتے جاتے ہیں، نئے نام ابھرتے آتے ہیں۔ اگلے ناموں کی بھی یہی کیفیت ہوگی۔ اصل بات یہ ہے کہ سب کو اپنا اپنا کردار ادا کر کے چلے جانا ہے۔ اس طرح سوچنے اور لکھنے والوں کا بھی ایک رول ہوتا ہے۔ انہیں اپنے مطالعے، مشاہدے، تجربے اور فکر کی کہانی کہنی ہوتی ہے اور بس جس طرح سنا سکیں، جس حد تک سنا سکیں، آگے دنیا جانے اور وقت جانے۔




