کالم

خاموش چیخیں، بند سماعتیں: ریپ اور پدرشاہی کے سائے میں جیتا پاکستان” / احسن بودلہ

"ریپ کا ذمہ دار صرف ریپسٹ ہے، متاثرہ عورت نہیں

 

پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں، لیکن اجتماعی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ کچھ لمحے کا غم اور احتجاج ہوتا ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔

حالیہ واقعات ہی دیکھ لیجیے:

حافظ آباد میں شوہر کے سامنے اس کی بیوی کا گینگ ریپ ہوا۔ راولپنڈی میں میٹرک کی طالبہ کو شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اسے بلیک میل کیا گیا۔ اسی شہر میں قربانی کے گوشت کے بہانے ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ:

کیا ریپ صرف جنسی تسکین کے لیے کیا جاتا ہے؟ یا یہ طاقت، جبر اور کنٹرول کا ذریعہ ہے؟

ریپ کی نفسیات: طاقت اور قابو کی جبلّت

ماہرین نفسیات اور فیمینسٹ اسکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ ریپ عام طور پر مردوں کی جانب سے جنسی لذت کے حصول کے لیے نہیں کیا جاتا۔ یہ طاقت، قابو، اور حکمرانی کا فعل ہے۔

مشہور امریکی مصنفہ اور فیمینسٹ سوسن براون ملر کے مطابق:

"ریپ مردوں کا عورتوں پر قابو پانے کا سب سے سستا اور پرتشدد ہتھیار ہے۔”

اسی طرح فیمینسٹ ، بیل ہوکس ریپ کو ایک سیاسی عمل قرار دیتی ہیں جو عورتوں کو خوفزدہ رکھ کر مردوں کی اجارہ داری کو مضبوط کرتا ہے۔ ان کے نزدیک ریپ صرف جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک سماجی اور نظریاتی ہتھیار ہے۔

اور میکینن کا کہنا ہے کہ جنسی عمل پدرشاہی ڈھانچے میں عدم مساوات پر مبنی ہوتا ہے، اور ریپ اس نظام کا ظاہری اظہار ہے۔ ان کے مطابق، قانون بھی ریپ سے نمٹنے میں ناکام ہے کیونکہ وہ اسی پدرشاہی سوچ کی پیداوار ہے۔

پاکستان میں بھی یہی صورت حال پائی جاتی ہے جہاں مرد اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے یہ وحشیانہ عمل کرتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ پدرشاہی ڈھانچے پر قائم ہے جہاں مرد کو اختیار، طاقت اور فیصلہ سازی کی مکمل آزادی حاصل ہے، جبکہ عورت کو عزت، غیرت، اور کردار کے خول میں قید رکھا جاتا ہے۔

اس لیے ہمارے ہاں ریپ جیسے جرائم کے پیچھے صرف فرد کا کردار نہیں ہوتا، بلکہ پورا معاشرہ، اس کے رویے، رسومات اور سوچ اس جرم کے لیے فضا فراہم کرتے ہیں۔

معاشرتی طرزِ عمل اور ریپ کلچر

ریپ اس طرح کے جرائم قانون کا مسئلہ نہیں، بلکہ معاشرتی رویوں کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں عوام میں مردوں کی غیراخلاقی سوچ —victim blaming—عام ہے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق، پاکستانی افراد میں "rape myths acceptance” یعنی "ریپ کے افسانوں پر یقین” اور "low empathy” یعنی "غیر ہمدردی” رویے پائے گئے ۔ اس میں یہ نظریے شامل ہیں کہ:

"عورتیں جو ریپ ہوتی ہیں، وہ ہی چاہتی ہیں”

"ریپ صرف بدکردار خواتین کے ساتھ ہوتا ہے”

ریپ کلچر ایک ایسا ماحول ہے جہاں:

عورت کو اس کے لباس یا حرکات پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے؛

ریپ کو کبھی "معاشرتی بدنامی” تو کبھی "محبت کا دھوکہ” کہہ کر کم سنگین ظاہر کیا جاتا ہے؛

اور اکثر اوقات پولیس، خاندان، حتیٰ کہ عدالتیں بھی متاثرہ کو تحفظ دینے کے بجائے سوالوں کی زد پر رکھتی ہیں۔

ایک ریپ سروائیور کو یہ سننا پڑتا ہے:

"اس نے باہر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس وقت کیوں گئی؟ لباس کیسا تھا؟”

یہ وہ سوالات ہیں جو انصاف کو قتل کرتے ہیں اور مجرم کو طاقتور بناتے ہیں۔

پاکستان میں ریپ کے اعداد و شمار: ایک تکلیف دہ تصویر

حکومتی اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق:

صرف پنجاب میں 2023 کے دوران 7010 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔

2021 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ہر دن اوسطاً 11 سے 12 خواتین ریپ کا شکار ہوتی ہیں۔

HRCP کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ:

> "پاکستان میں ہر دو گھنٹے بعد ایک ریپ، اور ہر ایک گھنٹے میں ایک گینگ ریپ ہوتا ہے۔”

یاد رہے، یہ صرف رپورٹ ہونے والے واقعات ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے کیسز کی ہے جو خوف، بدنامی یا پولیس کے رویے کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

فیمینسٹ نظریہ: "میرا جسم میری مرضی” صرف نعرہ نہیں

پاکستان میں فیمینسٹ تحریک جسے اکثر غلط سمجھا جاتا ہے، دراصل ان ہی ظلم کی داستانوں کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔ "میرا جسم میری مرضی” جیسے نعرے کا مقصد یہی ہے کہ عورت کو اپنے جسم، فیصلوں اور تحفظ پر مکمل اختیار ہو۔

فیمینسٹ نظریہ یہ باور کراتا ہے کہ:

ریپ صرف ایک مرد کا جرم نہیں، بلکہ ایک پدرشاہی نظام کی پیداوار ہے؛

یہ نظام عورت کو کم تر، کم عقل اور مرد کی ملکیت سمجھتا ہے؛

جب تک اس سوچ کو ختم نہیں کیا جاتا، ریپ جیسے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔

قانون سازی اور انصاف: صرف کاغذی وعدے؟

ریپ کے خلاف قوانین تو موجود ہیں، جیسے کہ:

2016 کا Anti-Rape Law جس میں ڈی این اے ٹیسٹنگ، تیز عدالتیں، اور گینگ ریپ کی سزا شامل ہے :

لیکن سوال یہ ہے: کیا ان قوانین پر عمل بھی ہوتا ہے؟

متاثرہ خاتون تھانے جاتی ہے تو اسے وہاں پہلے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کئی بار پولیس خود ہی سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ عدالتی نظام اتنا سست اور پیچیدہ ہے کہ برسوں بعد بھی انصاف صرف فائلوں میں رہ جاتا ہے۔

حل کیا ہے؟

1. بچپن سے جنسی تعلیم:
بچوں کو ان کی حدود، جسمانی خودمختاری اور ‘رضامندی’ کا مطلب سکھانا۔

2. متاثرہ خواتین کے لیے سپورٹ سسٹم: محفوظ رپورٹنگ مراکز، قانونی معاونت، اور ذہنی صحت کی خدمات۔

3. پدر شاہی سوچ کا خاتمہ:
یہ ایک طویل مگر ضروری سفر ہے۔ عورت کو انسان، مکمل فرد اور معاشرے کی برابر کی حصہ دار تسلیم کیے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

پاکستان میں ریپ کا یہ نظام صرف انفرادی جرم نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے سماجی برائی کا حصہ ہے۔ اس کی بنیادی جڑ پدر شاہی نظام ہے، جو مردوں کو طاقتور، عورتوں کو قابو میں رکھتے ہیں۔ یہ ظلم صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی اور جذباتی ہے، جو خاندانوں کو تباہ کرتا ہے۔

ریپ ایک عورت پر حملہ نہیں، بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔ یہ ہمارے گھروں، گلیوں اور ذہنوں میں پنپنے والی اس سوچ کا نتیجہ ہے جو مرد کو حکمران اور عورت کو محکوم مانتی ہے۔

جب تک ہم اجتماعی طور پر یہ نہ مانیں کہ:

"ریپ کا ذمہ دار صرف ریپسٹ ہے، متاثرہ عورت نہیں”

تب تک یہ زخم بھرنے والا نہیں۔ ہمیں بولنا ہوگا، لڑنا ہوگا، اور اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

Author

Related Articles

Back to top button