بلاگ

ہماری پہچان اردو زبان/ توقیر احمد

توقیر احمد صاحب نے پاکستان سے معاشیات میں ماسٹرز جبکہ برطانیہ سے مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ بیک وقت علم، مطالعہ، اور زبان و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والے ایک سنجیدہ مزاج شخصیت ہیں۔ بچپن ہی سے اردو زبان سے عشق ان کی شخصیت کا خاص پہلو رہا ہے۔ لائبریری کلچر، مطالعہ کی لگن، اور شعری ذوق نے انہیں نہ صرف ایک باذوق قاری بلکہ ابتدائی درجے کے شاعر کے طور پر بھی اُجاگر کیا، اگرچہ عملی رہنمائی کی کمی کے باعث وہ تخلیقی سفر کچھ عرصے کے لیے رُک گیا۔

 

اردو ہماری قومی زبان ہے، جس کا ماضی تابناک اور قابل فخر ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، اور ہم خود ہی اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا کی دیگر قومیں اپنی علاقائی اور قومی زبانوں کو سنوارتی اور سنبھالتی ہیں، انہیں بولنے میں فخر محسوس کرتی ہیں، مگر آج ہم اردو زبان کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اس کو بولنے میں شرم محسوس کرتے ہیں، جو قابل تشویش ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ زبان، جس نے بڑے بڑے نام متعارف کروائے، آج وہ ایک بیمار ناتواں کی مانند ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب کو مل کر اس کے بارے میں سوچنا چاہیئے اور اردو کو وہی مقام واپس دلوانا چاہیئے جو اس کا ماضی میں رہا ہے۔

 

اردو کا تاریخی پس منظر:

اردو زبان صرف لسانی ضرورت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک تہذیبی تبدیلی کے نتیجے میں وجود میں آئی ۔ ڈاکٹر مسعود حسین خاں کے مطابق، یہ زبان برصغیر میں مسلم فاتحین, جن میں ترک، افغان اور مغل شامل تھے, اور مقامی اقوام کے باہمی میل جول سے وجود میں آئی۔ اردو زبان کا آغاز شمالی ہند کے اہم شہروں جیسے دہلی، میرٹھ اور لکھنؤ سے ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل زبان بن گئی۔

یہ زبان فوری طور پر وجود میں نہیں آئی بلکہ صدیوں پر محیط سماجی، ثقافتی اور لسانی تعامل کا نتیجہ ہے۔ آغاز میں اسے "ہندوستانی” یا "ریختہ” کہا جاتا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک مضبوط لسانی ڈھانچے میں ڈھل گئی۔ اردو میں مختلف زبانوں جیسے فارسی، عربی، ترکی اور مقامی بولیوں بشمول برج، کھڑی بولی اور پنجابی کے اثرات پائے جاتے ہیں، جو اس کی زبان و بیان کو ایک منفرد کثیر اللسانی رنگ عطا کرتے ہیں۔

 

 

اردو: دلوں کو جوڑنے والی زبان:

اردو زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کا آئینہ ہے۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اپنی کتاب "اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب” میں اسے ایک ایسی زبان قرار دیتے ہیں جو ہندو اور مسلم ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرتی ہے۔ ان کے مطابق اردو وہ ذریعہ اظہار ہے جس نے میر، غالب، کبیر اور تلسی داس جیسے مختلف تہذیبی پس منظر رکھنے والے شعراء اور مفکرین کو ایک ہی فضا میں جمع کیا۔

خواہ غزل ہو یا نظم، مرثیہ ہو یا داستان، اردو نے ہر محاذ پہ اپنے آپ کو منوایا۔ یہ زبان مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت، رواداری اور باہمی احترام کی نمائندہ بن گئی۔ اسی تناظر میں اردو کو بجا طور پر "محبت کی زبان” کہا جاتا ہے۔

 

اردو زبان: ایک فکری و صحافتی تحریک:

اردو زبان نے اپنے آپ کو صرف ادب تک محدود نہ رکھا بلکہ تعلیم اور صحافت جیسے شعبوں میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی اپنی کتاب "اقبال اور اردو” میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ علامہ اقبال نے اردو کو محض ایک ادبی ذریعہ نہیں بلکہ فکری اور فلسفیانہ اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کے کلام میں اردو نہایت مہارت سے استعمال ہوئی، جس کے باعث یہ زبان تعلیم یافتہ حلقوں میں مزید مقبول اور باوقار ہوئی۔

اردو صحافت کی بنیاد برطانوی دور حکومت میں رکھی گئی، جب مولوی محمد باقر نے پہلا اردو اخبار شائع کیا۔ اس کے بعد اردو اخبارات نے نہ صرف عوامی شعور کو جگایا بلکہ قومی مسائل کو اجاگر کیا اور تحریکِ آزادی کے پیغام کو عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

اردو: ماضی کی مہک، مستقبل کی کلید:

افسوس! اردو زبان کا مستقبل اس کے ماضی کی طرح شاندار نظر نہیں آتا۔ جمیل الدین عالی اپنی بصیرت افروز کتاب "اردو کا مستقبل” میں اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ اردو آج بھی زندہ ہے اور کروڑوں لوگوں کی زبان ہے، مگر اسے درپیش چیلنجز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، اردو کو تعلیمی نظام میں مؤثر مقام دینا، سرکاری سطح پر اس کی حیثیت کو تسلیم کرنا، اور نوجوان نسل کو اس زبان سے دوبارہ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

موجودہ دور میں اردو کو سب سے بڑا چیلنج ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنانے کا ہے۔ انٹرنیٹ، موبائل ایپس، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کی نمائندگی اب بھی محدود ہے۔ نئی نسل کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ اردو صرف شاعری، ادب یا نغمگی کی زبان نہیں، بلکہ اس میں سائنس، فلسفہ، سیاست، اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کے اظہار کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

مزید یہ کہ اردو کو ایک علمی و تحقیقی زبان بنانے کے لیے جامعات، علمی ادارے، اور حکومتوں کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ اگر ہم اردو میں جدید اصطلاحات، سائنسی مواد اور ٹیکنالوجی کے مباحث کو فروغ دیں، تو یہ زبان ایک بار پھر علمی دنیا میں اپنا مقام حاصل کر سکتی ہے۔

اردو کے روشن مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے ماضی کی یادگار بنانے کے بجائے مستقبل کی زبان بنانے کا پختہ ارادہ کرنا ہو گا۔

 

ہماری ذمہ داری:

اردو صرف ہماری زبان نہیں، یہ ہماری تہذیب، تاریخ، جذبات، اور اجتماعی شعور کی آئینہ دار ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے صدیوں تک ہمارے فکری ورثے، روحانی احساسات، اور ادبی لطافت کو سہارا دیا۔

تاہم، اردو کو صرف شاعری اور ادب تک محدود کر دینا دراصل اس کی وسعت اور افادیت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اردو کو تعلیم، سائنس میڈیا، ٹیکنالوجی اور دیگر تمام شعبہ زندگی میں حصہ بنائیں۔

یہ زبان جب تک ہماری بول چال، تدریس، اور ٹیکنالوجی کا حصہ نہیں بنتی، تب تک یہ تنزلی کا شکار ہوتی رہے گی۔ اس لئے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اردو زبان کو ہر لحاظ سے ترجیح دیں، اپنے حلقہ احباب کو بھی اس کی ترغیب دیں جس سے نہ صرف یہ باقی رہے گی، بلکہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لے گی۔۔۔

Author

Related Articles

Back to top button