کالم

شرٹ کے بٹن، جسم کی مرضی اور دوہرا معیار / احسن بودلہ

دنیا کو اگر دو پیمانوں میں تقسیم کرنا ہو، تو ایک پیمانہ ہوگا عورت کے جسم کے گرد گھومتا سوال، اور دوسرا مرد کے جسم پر قائم وہ خاموشی، جو صدیوں سے توڑی ہی نہیں گئی۔ مگر جب اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ایک نوجوان اداکار علی رضا کو مشورہ دیا کہ یا تو اپنے سینے کے بال صاف کر لیں یا شرٹ کے بٹن بند کر لیں، تو جیسے پنجرے میں سویا ہوا سماج جاگ اٹھا۔ ہر طرف سے تنقید کا شور، سوالات کا طوفان، اور طنز کی گونج سنائی دی۔ مگر یہ گونج صرف ایک جملے کی نہیں تھی، یہ ایک گہری سماجی منافقت کی بازگشت تھی۔

یہ معاشرہ، جہاں عورت کے جسم کو لے کر ہر لمحہ تجزیے ہوتے ہیں، ہر لباس پر فتوے لگتے ہیں، اور ہر قدم پر اخلاقیات کی چھری سے عورت کی آزادی کو کاٹا جاتا ہے، وہاں جب ایک عورت نے ایک مرد کے جسم پر تنقید کی، تو پوری دنیا جیسے لرز گئی۔ کیا یہ وہی سماج نہیں جو عورتوں کو دن رات بتاتا ہے کہ انہیں کیا پہننا چاہیے، کتنا ڈھانپنا چاہیے، اور کیا دکھانا "زیب دیتا” ہے؟ کیا یہی زبان مرد کے لیے گونگی ہو جاتی ہے؟

عتیقہ اوڈھو کا یہ جملہ بظاہر ایک تبصرہ تھا، مگر اس نے اس سماج کی دو رخی سوچ کو عریاں کر دیا۔ وہ عورتیں جو برسوں سے "میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ بلند کر رہی ہیں، دراصل یہ نہیں کہہ رہیں کہ ہمیں بے لباس ہونے کا حق دو، بلکہ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ حق دو کہ ہم اپنے جسم پر اپنی مرضی کا اختیار رکھ سکیں، جیسے مرد رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ حق دو کہ ہمیں ہر قدم پر جج نہ کیا جائے، جیسے مردوں کو نہیں کیا جاتا۔

جب عورتیں اپنی مرضی سے شلوار قمیض پہنیں، یا جینز اور شرٹ، تو ان پر نظریں اٹھتی ہیں۔ جب وہ آدھی آستین پہنیں تو کردار پر سوال، اور اگر سر پر دوپٹہ نہ ہو تو ایمان پر شک۔ لیکن کیا کسی نے کبھی ان مردوں سے پوچھا جو گلیوں میں قمیض اتار کر بیٹھتے ہیں؟ جو ورزش کرتے ہوئے شرٹ لیس تصاویر لگاتے ہیں؟ جو فلموں میں سینے کی نمائش کرتے ہیں؟ کیا ان کی جسمانی نمائش کبھی سوال بنی؟

عتیقہ اوڈھو کا بیان نہ تو کوئی فتویٰ تھا، نہ ہی کوئی حکم، محض ایک رائے تھی۔ مگر جب ایک عورت رائے دیتی ہے، وہ بھی مرد کے جسم سے متعلق، تو یہ دنیا اسے برداشت نہیں کر پاتی۔ اور یہی ہماری اصل بیماری ہے ، سماجی منافقت۔

علی رضا کا جواب بھی قابلِ غور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عتیقہ کو خود ہی دیکھ لیا۔ مطلب یہ کہ اگر عورت کسی مرد پر بات کرے، تو اسے تنقید جھیلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ کیوں؟ کیا عورت کی زبان صرف اپنے دفاع کے لیے ہے؟ کیا وہ کبھی سوال نہیں اٹھا سکتی؟ کیا وہ کبھی نرمی سے بھی کوئی مشورہ نہیں دے سکتی؟

یہ مسئلہ صرف ایک بیان کا نہیں، یہ پوری سوچ کا ہے۔ وہ سوچ جو عورت کو بولنے سے روکتی ہے، لیکن مرد کو ہر بات کا حق دیتی ہے۔ وہ سوچ جو جسم کو صرف عورت کا میدانِ جنگ بناتی ہے، مرد کو نہیں۔

لباس، جسم، شرم، حیا ، یہ سب انسان کے ذاتی معاملات ہیں۔ ہاں، اخلاقیات ضرور ہونی چاہیے، مگر وہ سب کے لیے برابر ہو۔ اگر عورت پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے جسم کو ڈھانپے، تو مرد کو بھی اتنی ہی سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ اگر عورت کا نیم برہنہ لباس آپ کے لیے ناقابلِ قبول ہے، تو مرد کا کھلا سینہ کیوں قابلِ فخر ہو جاتا ہے؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "میرا جسم میری مرضی” کوئی جنسی آزادی کا نعرہ نہیں، یہ ایک انسانی حق کی صدائیں ہیں۔ جیسے مرد کو اپنے جسم پر مکمل اختیار ہے، عورت کو بھی وہی درجہ دیا جائے۔ اور اگر ایک عورت، کبھی کبھار، مرد کے جسم سے متعلق کوئی بات کہہ دے، تو اسے فوراً تختہ دار پر نہ چڑھایا جائے۔

یہ معاشرہ اس دن بہتر ہوگا جب عتیقہ اوڈھو کی بات پر بھی اتنی ہی نرمی سے بحث ہوگی جتنی ہم علی رضا کی قمیض اتری ہوئی تصویروں پر خاموشی سے گزارتے ہیں۔ جب مرد بھی یہ سمجھیں گے کہ جسم پر اختیار صرف ان کا نہیں، عورت کا بھی ہے۔ جب دوپٹہ اور بٹن، دونوں کے پیمانے برابر ہوں گے۔ تب جا کر شاید ہم "انصاف” کے لفظ کے اصل مطلب کو سمجھ سکیں گے۔

جسم پر اختیار، لباس کی آزادی، اور معاشرتی اخلاقیات ، یہ تمام موضوعات مرد و زن دونوں کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ ہمیں اس دوہرے معیار کو ختم کرنا ہوگا جس میں عورت کے جسم پر طوفان کھڑا ہو جاتا ہے اور مرد کے جسم پر خاموشی چھا جاتی ہے۔ کیونکہ برابری صرف قانون سے نہیں، سوچ سے آتی ہے۔

Author

Related Articles

Back to top button