بلاگ

سرور علم ہے کیف شراب سے بہتر/ خدیجہ طاہر

 

کتب بینی کا اپنا ایک سرور ہے۔ شائقین و محبین کتب اسے نفع بخش نشے سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ بعض اوقات آپ نثر کے اتار چڑھاؤ اور اسلوب بیاں میں اس قدر منہمک ہو جاتے ہیں کہ گویا خود اس کا حصہ ہوں ۔

کتابوں کی صحبت میں انسان شعراء ، ادیبوں، مفکروں اور صاحب بصیرت لوگوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔

کتب بینی سے ہمیں لفظوں کا ذخیرہ عطا ہوتا ہے جس کے ذریعے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ ذہن اور خیالات میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، تحقیقی و تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے، معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے اور اضطرابی کیفیت دور ہوتی ہے۔ محقق کرسٹل رسل اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ مطالعہ آپ کے ذہن کے تناؤ کو ختم کر کے بہترین فیصلہ کرنے کی صلاحیت بیدار کرتا ہے ۔ کتابوں کے عمدہ انتخاب کے نتیجے میں خود اعتمادی پروان چڑھتی ہے۔ مطالعہ کرنے سے شخصیت میں نکھار اور کشش پیدا ہوتی ہے۔کتب بینی کاسب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد حیات کو متعین کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو ایک بامقصد زندگی گزارنے کے لیے بہت اہم ہے۔ مطالعے کے لیے ایسی کتاب کا انتخاب ہونا چاہیے جو وسعت فکر و نظر عطا کرے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ علم ایک شکار کی مانند ہے لہذا کتابت کے ذریعے اسے قید کر لو۔

کسی بھی کام کو اصول و ضوابط کے ساتھ کرنے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ مطالعے کے لیے صحت ، وقت، ذہن کی یک سوئی اور روشنی کو بہ طور خاص ملحوظ رکھا جائے ورنہ اس کے منفی اثرات انسانی صحت پر بالخصوص آنکھ پر پڑتے ہیں۔

کتب بینی انسان کے وقت کو نہ صرف ضائع ہونے سے بچاتی ہے بل کہ تنہائیوں کی جاں گسل طوالت میں ایک باوفا سنگی، زندگی کی نا ہموار راہوں میں دل نواز ہم سفر اور اضطراب و بے چینی کی معالج بھی ہے۔ جب انسان گردش حالات، زندگانی کے پر پیچ معاملات اور ذاتی مشکلات کے ہجوم میں اکیلا پڑ جائے تو کتابوں کی سنگت بھی ایک پر لطف نعمت ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عائض القرنی لاتحزن میں لکھتے ہیں کہ مطالعہ سے وسوسہ اور غم دور ہوتا ہے۔ ناحق لڑائی جھگڑے سے حفاظت رہتی ہے۔ فارغ اور بے کار لوگوں سے بچاو رہتا ہے۔ ذہن کھلتا ہے اور دل تقویت حاصل ہے، مختلف علوم حاصل ہوتے ہیں۔ کتاب کی دوستی سے روح کو تازگی اور طبیعت کو طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ انسانی ذہن وفکر کی آبیاری ہوتی ہے، تہذیب و ثقافت کے عمدہ سانچے میں ڈھلنے کی ترغیب ملتی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب معلوم ہوتے ہیں۔ تاریخ کی برگزیدہ شخصیتوں سے ملاقات ہوتی ہے اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کتابوں کے مطالعہ سے انسان کے شعور میں پختگی پیدا ہے ۔ کتابیں سمندر کے مانند ہیں لہذا ضرورت اور ذوق کے مطابق ہی کتابوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔

شیلے کا کہنا ہے کہ مطالعہ ذہن کو جلا بخشنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ اور خیالات کی جنگ میں تو کتابیں ہتھیاروں کا کام کرتی ہیں۔

ایڈون کہتا ہے کہ وقت کے لامحدود سمندر میں کتابیں روشنی کا مینار ہیں۔

جارج برنارڈ شاہ کتب بینی کے متعلق کہتا ہے کہ جو شخص اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں رکھتا وہ انسانیت سے گرا ہوا ہے۔ کتاب ذہن کو توانائی اور خلوت کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ فرانسیسی ادیب والٹیئر نے تو یہاں تک کہا کہ وحشی اقوام کے سوا تمام دنیا پر کتابوں کی حکمرانی ہے ۔

ایک اور ادیب سردار انور لکھتے ہیں کہ کتابوں نے مجھے بے وقوفی، غصے، پاگل پن اور خود کو تباہ کرنے سے بچا لیا اور محبت سکھا دی لہذا مطالعہ کیا کریں. مطالعے سے سوچ کو نئے زاویے ملتے ہیں۔ پڑھنا دماغ کو تیز کرتا ہے، تخیل کو متحرک کرتا ہے، روح کو جلا بخشتا ہے، نظر کو پاک کرتا ہے اور دل کو وسعت دیتا ہے۔

اس لئے پڑھا کریں، پڑھا کریں تا کہ ان حقیقتوں سے آشنا ہو سکیں جو معمولات زندگی میں کہیں کھو سی گئی ہیں۔ پڑھا کریں تا کہ جان سکیں آپ کدھر ہیں؟ کیا ہیں؟ اور کیا کر سکتے ہیں؟

پڑھا کریں تاکہ معلوم پڑے کہ کائنات میں بکھری زندگی کی حقیقتوں کو ذہن میں کیسے ترتیب دینا ممکن ہے.

پڑھا کریں تاکہ جہالت سے سر اٹھاتے سرکش لہجوں, بد لحاظ لفظوں اور بدتہذیب عادتوں کو مہار کرسکیں.

پڑھیں تاکہ انہونی کو ہونی میں بدل کر موجودات سے لطف اندوز ہوں.

پڑھا کریں تاکہ فکر زنگ آلود نہ ہو.

پڑھا کریں تاکہ باشعور مزاجوں سے آشنائی پیدا کرکے زیست سے بدظن ہو کر نہ مریں۔

کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ اس افراتفری والے دور میں بھی تسکین قلب کے لئے کتب خانوں کا ہی رخ کرتے ہیں جہاں موجود کتابیں ایک طرف تو انسان کے خیالات پروان چڑھاتی ہیں تو دوسری طرف معلومات کا ذخیرہ رکھنے کے باعث انسانی ذہن کو فعال رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ کے صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کے لئے اسے بھی ایکٹو رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین لفظوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتابوں میں موجود الفاظ دماغ کو متحرک رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ رش یونی ورسٹی آف امریکا میں کی گئی ایک ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ جو نوجوان فارغ اوقات میں کتب بینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں بڑھاپے میں دماغی تنزلی اور دیگر دماغی بیماریوں کی شرح ان افراد (جو کتابوں یا ایسی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں ) کی نسبت بتیس فی صد کم ہوتی ہے۔

Author

Related Articles

Back to top button