ہیں کواکب کچھ / بنت قمر مفتی

متوسط طبقے کی چادر کا بھی عجیب معاملہ ہے سر ڈھکو تو پاوں نظر آتے ہیں اور پاوں چھپاؤ تو سر چادر سے نکل جاتا ہے۔ راحت بھی اسی تگ و دو میں مصروف اپنے شوہر جبار کی کم آمدن کے باعث گھٹ گھٹ کر جینے اور بچوں کی معصوم خواہشات کا گلہ گھونٹ کر دن پورے کر رہی تھی۔ حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ زندگی کی گاڑی بہتر طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے راحت بھی کچھ کرنے کے لیے بے چین تھی مگر کوئی مناسب موقع نہیں مل پا رہا تھا۔
ایک دن اپنی عزیز سہیلی افشاں سے بات چیت کے دوران اسے پتا چلا کہ ایک پرائیویٹ ادارہ فری گرافکس ڈیزائننگ کورس کرا رہا ہے جس میں ماہانہ پندرہ سو وظیفہ بھی مقرر ہے۔ راحت کے لئے تواس کورس میں سب سے بڑی کشش اس کا فری ہونا تھا جس کے بعد اسے معقول جاب مل سکتی تھی یا وہ اپنا ڈھنگ کا کام کر سکتی تھی۔ سونے پر سہاگہ کہ عمر کی بھی کوئی قید نہ تھی۔ شادی کے دس سال بعد یونیورسٹی جانے میں کچھ جھجھک ضرورمحسوس ہوئی تھی لیکن سہانے مستقبل اور زائد آمدن کی توقع اس جھجھک پر غالب آ گئی۔
راحت کو یوں بھی ڈھارس ہوئی ایک اور شادی شدہ خاتون بھی اس کورس میں شریک تھی۔ باقی سب یونیورسٹی کے ہی طلبہ تھے۔
گرمیوں کے دن تھے۔ کمیوٹر لیب میں اے سی کی سہولت موجود تھی۔ تقریبا پینتیس امیدوار تھے۔ ابتدا میں کورس کا تعارف اور پرنسپل صاحب کی طرف سے امیدوران کے لئے حوصلہ افزا تقریر سے راحت کو بہت تحریک ملی۔ راحت کے ساتھ بیٹھی تین بچیاں کسی قریبی قصبے سے یہ کورس کرنے آئی تھیں۔ بہت پر جوش تھیں۔ لیکن انہیں اپنے بجٹ کے مطابق ہاسٹل میسر نہیں تھا لہذا وہ اپنے حالات بدلنے کے سپنے دل ہی میں لیے واپس چلی گئیں۔
پہلا ہفتہ گزرا تواٹھائیس شرکاء پر مشتمل طلبہ کی حتمی لسٹ تیارہوگئی۔
چھ ماہ کی معیاد پر مشتمل اس کورس کے اوقات دوپہر ایک بجے سے شام بجے پانچ تک تھے۔
گو کہ کلاس میں سب ساتھی اس سے دس ، بارہ ، سال چھوٹے تھے۔ لیکن بہتر حالات اور اور بچوں کے روشن مستقبل کے درمیان راحت نے عمر کا تفاوت حائل نہیں ہونے دیا۔۔
راحت پرجوش انداز میں کورس کے مدارج طے کرتے کرتے خاصی پر اعتماد ہو چکی تھی۔ گراف ڈیزائنگ کے کورس سے گویا وہ اپنی زندگی کو ازسر نو ڈیزائن کرنے کا تہیہ کیے بیٹھی تھی۔
مہینے کی دس تاریخ کو جب موبائل پر ڈیڑھ ہزار وظیفے کا مسیج موصول ہوا تو اسے ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی۔ بچوں کی معصوم سی ادھوری خواہشیں ذہن میں گردش کرنے لگیں۔ جو اکثر کم آمدن کی وجہ سے نظر انداز ہو جاتی تھیں۔ وظیفے کی رقم چند مخصوص دکانوں سے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد وصول کی جاتی تھی۔ ہرماہ دو افراد پر مشتمل انسپیکشن ٹیم آتی تھی۔
جوکورس کے حوالے سے بات چیت کرتی تھی۔
ٹیم کے دورے کے دوران مسلسل غیر حاضرطالب علم کو غیر سنجیدہ قرار دے کر اس کا وظیفہ بند کردیا جاتا تھا۔
طالب علموں سے بار بار پوچھے جانے پر بھی ٹیم کو سب اچھا ہے کے مصداق رائے دی جاتی۔ راحت نے محسوس کیا کہ اکثریت وقت گزاری کے لئے محض وظیفے کی خاطر یہ کورس کر رہی تھی۔ گنتی کے افراد ہی تھے جو راحت کی طرح ضرورت مند اور سنجیدہ تھے۔
ایک دن کلاس میں کچھ بچوں نے سوال کیا ” میم کورس کے اشتہار میں تو نصابی کتب اور متعلقہ مواد کے ساتھ لیپ ٹاپ بھی مہیا کیے جانے کا بھی تذکرہ تھا کیا ہمیں یہ لیپ ٹاپ نہیں ملے گا؟”
” یہاں آپ سب کو ڈسک ٹاپ مہیا کیا گیا ہے، ائیر کنڈیشنڈ لیب ہے۔ یہ سب موجود تو ہے۔ کچھ دنوں میں یونیفارم بھی مل جائے گا” میم نے گول مول جواب دیا۔
اگلے ہفتے لڑکیوں کو ایک عدد اوور آل اور دوپٹہ دیا گیا اور لڑکوں کو پینٹس شرٹس بطور یونیفارم دی گئیں۔ کتابی مواد کے طور پر ایک عدد رجسٹر، پنسل ، درجن رنگوں کا پیکٹ اور ایک عدد بیگ دیا گیا جو کہ دیکھنے میں لیپ ٹاپ کا بیگ تھا۔ جس پر جعلی حروف میں
ایک این جی او کے اشتراک سے ہونے والے کورس کا مخفف بھی کندہ تھا۔ راحت نے بھی موبائل نکال کراشتہار دیکھا جس میں کورس کے حوالے سے مفت سہولیات بشمول شہر کے باہر سے آنے والوں کے لیے ہاسٹل اور کچن کا بھی ذکر تھا۔ راحت کے ذہن میں اسے قریبی قصبے کی ان لڑکیوں کے یاس زدہ چہرے گھوم گئے جو سستے ہاسٹل کی عدم دستیابی کے باعث کورس شروع نہ کر سکیں۔
تین ماہ گزر گئے۔ انسپیکشن ٹیم کا رعب ظاہر کیا گیا تھا کہ ٹیچر سمیت کورس کی انتظامیہ بھی انہیں جواب دہ ہے۔ اگر کسی طالب علم کو ٹیم نے نااہل قرار دے دیا تو اس کا وظیفہ بھی ضبط کرلیا جائے گا۔ آئےدن اخبار میں بھی گورنمنٹ کے ایک این جی او کے اشتراک سے شروع کئے گئے ہنر مند پاکستان پروگرام کے اشتہارات اور ان میں کرپشن کی نشاندہی کے لئے رابطہ نمبر مشتہر کیے جاتے تھے۔
کورس کا پانچواں مہینہ تھا۔ ٹیم انسپیکشن کرکے میم کے آفس جا چکی تھی۔ نصف گھنٹے کا وقفہ تھا۔ راحت کچھ ضروری پرنٹ نکلوانے کے لئے کلرک آفس جارہی تھی۔ میم کے آفس سے گزرتے ہوئے اس کی سماعتوں سے ٹیم کے افسر کی آواز ٹکرائی۔ ” کاغذات میں یہ سب مینشن ہے بچوں کے لئے ہاسٹل اورکچن کی سہولت موجود ہے تو پھر باقاعدہ کچن بھی دکھائیں۔ کسی بھی وقت این جی او والے دیکھنے آ سکتے ہیں۔آخر ہم ہاسٹل اور کچن کا خرچہ بھی لے رہے ہیں۔راحت نے پندرہ سال کے اس دورانیے میں بہت سی تبدیلیاں دیکھی تھیں۔ استاد شاگرد کے مابین وہ احترام نہیں تھا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ آج اسے احساس ہوا کہ جب ایمانداری کا سبق پڑھانے والے ہی ایسے دھوکے بازی کریں گے تو بھلا سبق پڑھنے والے کیسے سدھر سکتے ہیں؟
اس دن گھر جاتے ہی راحت نے اخبار سے کرپشن کی شکایت درج کرنے کے لئے نمبر محفوظ کیا ہی تھا کہ موبائل پر پیغام کی بیپ سنائی دی۔ موصول شدہ مسیج پڑھنے کے بعد راحت نے محفوظ کیا نمبرحذف کردیا۔ چھ ماہ کے دوران نو ہزار کی رقم سے اس کے بچوں کا کوئی ادھورا خواب تو پورا ہوسکتا تھا۔ وہ پھر سے وظیفہ موصول ہونے کا پیغام پڑھنے لگی۔
بنت قمر مفتی




