تراجم

ایک المناک واقعہ / مہاتما گاندھی

اردو ترجمہ : ڈاکٹر عابد حسین

ہائی اسکول میں جن لڑکوں سے مجھ سے مختلف اوقات میں دوستی رہی ان میں سے دو قلبی دوست کہے جا سکتے ہیں۔ ایک سے میری دوستی زیادہ دن نہیں رہی۔ میں نے اسے نہیں چھوڑا بلکہ اس نے مجھے چھوڑ دیا اس قصور پر کہ میں نے دوسرے سے میل جول پیدا کیا۔ اس دوسری دوستی کو میں اپنی زندگی کا ایک المناک واقعہ سمجھتا ہوں۔ یہ بہت دن قائم رہی۔ میں نے اسے اصلاح کے جوش میں شروع کیا تھا۔

میرا یہ رفیق اصل میں میرے منجھلے بھائی کا دوست تھا۔ یہ دونوں ہم سبق تھے میں اس کی کمزوریوں سے واقف تھا مگر اسے وفادار دوست سمجھتا تھا۔ میری ماں نے، میرے بڑے بھائی نے، میری بیوی نے مجھے متنبہ کیا کہ تمہاری صحبت خراب ہے۔ بیوی کی بات تو میں شوہری کے غرور میں کب سنتا تھا لیکن ماں اور بڑے بھائی کی رائے کے خلاف عمل کرنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی پھر بھی میں نے ان سے عذر معذرت کی اور کہا ” میں جانتا ہوں کہ اس میں وہ کمزوریاں ہیں جو آپ نے بتائیں۔ مگر آپ کو اس کی اچھائیوں کی خبر نہیں۔ وہ مجھے گمراہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں اس سے اس نیت سے ملتا ہوں کہ اس کی اصلاح کروں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنے اطوار درست کر لے تو بڑا اچھا آدمی ہو جائے گا۔ میری التجا ہے کہ آپ میری طرف سے تردد نہ کریں ۔ ”

اس سے ان کا اطمینان تو نہیں ہوا مگر انہوں نے میری تو جیہہ مان لی۔ اور مجھے میری راہ چلنے دیا۔ آگے چل کر مجھے معلوم ہوا کہ میرا اندازہ غلط تھا۔ جو شخص کسی کی اصلاح کرنا چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ شیر و شکر ہو کر نہیں رہ سکتا۔ سچی دوستی روحانی اتحاد کا نام ہے جو اس دنیا میں بہت کم   ہوتا ہے۔ صرف انہی لوگوں میں جن کی طبیعت ایک سی ہو ، دوستی پوری طرح مکمل اور پائیدار ہو سکتی ہے۔ دوستوں میں ہرایک کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے، اسی لئے دوستی میں اصلاح کی گنجائش بہت کم ہے۔ میری رائے میں کسی ایک شخص سے ایک جان دو قالب ہو جانے سے پر ہیز کرنا چاہیے کیو نکہ انسان پر یہ نسبت نیکی کے بدی کا اثر جلد پڑتا ہے اور جو شخص خدا کا دوست ہونا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ یا تو اکیلا رہے یا ساری دنیا سے دوستی کرے۔ ممکن ہے میری رائے غلط ہو مگر مجھے تو قلبی دوستی پیدا کرنے میں ناکامی ہوئی۔

جن دنوں میں میری ملاقات اس دوست سے ہوئی راجکوٹ میں "ریفارم ” کا بڑا زور تھا، اس نے مجھے بتایا کہ ہمارے بہت سے استاد چھپ کر شراب اور گوشت کا استعمال کرتے ہیں ،اس نے راجکوٹ کے بہت سے مشہور آدمیوں کے نام بھی لئے جو اس جماعت میں شریک تھے۔ اس نے کہا کہ اس زمرے میں ہائی اسکول کے بعض لڑکے بھی ہیں۔

مجھے یہ سن کر تعجب اور رنج ہوا۔ میں نے اپنے دوست سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ہماری قوم گوشت نہیں کھاتی اس لئے کمزور ہے، انگریز لوگ گوشت کھاتے ہیں اسی لئے وہ ہم پر حکومت کرنے کے قابل ہیں۔ تم جانتے ہو میں کیسا مضبوط ہوں اور کتنا تیز دوڑتا ہوں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ میری غذا گوشت ہے۔ گوشت کھانے والوں کے پھوڑے پھنسی نہیں نکلتے اور کبھی نکل بھی آئیں تو جلد اچھے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے استاد اور ہمارے دوسرے بڑے آدمی جو گوشت کھاتے ہیں احمق نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں۔ تمہیں بھی اس کی تقلید کرنا چاہیئے۔ آخر آزمائش کرنے میں کیا ہرج ہے؟ تم آزما دیکھو کہ گوشت کھانے سے کیسی طاقت آتی ہے۔

گوشت کھانے کی تائید میں یہ ساری دلیلیں ایک ہی نشست میں پیش نہیں کی گئیں۔ یہ اس طول طویل استدلال کا خلاصہ ہے جس سے میرا دوست مجھ پر وقتا فوقتا اثر ڈالتا رہا۔ میرے منجھلے بھائی پہلے ہی مغلوب ہو چکے تھے۔ اس لئے وہ میرے دوست کی دلیلوں کی تائید کرتے تھے۔ میں واقعی اپنے بھائی اور اس دوست کے مقابلہ میں بالکل مریل معلوم ہوتا تھا۔ وہ مجھ سے زیادہ قومی اور جفاکش بھی تھے اور جری بھی۔ اس دوست کے کارناموں نے مجھ پر جاود ساکر دیا وہ بہت دور تک اور بڑی تیزی سے دوڑ سکتا تھا، کود پھاند  میں بہت مشتاق تھا اور سخت سے سخت جسمانی سزا برداشت کر لیتا تھا۔ وہ مجھے اکثر اپنے کارنامے دکھایا کرتا تھا اور یہ قاعدے کی بات ہے کہ انسان دوسروں میں وہ صفتیں دیکھ کر، جو اس میں نہ ہوں، دنگ رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد میرے دل میں ولولہ اٹھا کہ اس کا جیسا بنوں میں نہ کو د سکتاتھا۔ نہ دوڑ سکتا تھا میں نے سوچا کہ میں بھی اس کی طرح مضبوط کیوں نہ ہو جاؤں؟

پھر میں بزدل بھی تھا۔ مجھے ہر وقت چوروں، بھوتوں اور سانپوں کا کھٹکا رہتا تھا۔ رات کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اندھیرے سے میری روح فنا ہوتی تھی۔ میرے لئے اندھیرے میں سونا تقریباً ناممکن تھا کیونکہ مجھے دہم ہوتا تھا کہ ایک طرف سے بھوت چلے آرہے ہیں، دوسری طرف ، چور، تیسری تیسری طرف سے سانپ ، بغیر کمرے   میں روشنی رکھے مجھے سے سوتے  نہ بنتا تھا۔ میں اپنے خوف کو اپنی کمسن بیوی پر جو میرے پہلو میں سوتی تھی کیو نکر ظاہر کرتا؟ میں جانتا تھا کہ ان میں مجھ سے زیادہ ہمت ہے اور مجھے اپنے اوپر شرم آتی تھی، انہیں سانپوں اور بھوتوں کا کوئی ڈر نہ تھا۔ وہ اندھیرے میں ہر جگہ چلی جاتی تھیں۔ میرے دوست کو میری ان کمزوریوں کا حال معلوم تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میں زندہ سانپ ہاتھ پر رکھ سکتا ہوں۔ چوروں کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور بھوتوں کا قائل ہی نہیں ہوں۔ یہ گوشت کھانے کی برکت کہے۔

 

ہم اسکول کے لڑکوں میں نزند کی یہ تک بندی بہت مقبول تھی۔

 

ٹھنگنادیسی پر جاہے۔۔۔۔۔۔۔۔     لمبافرنگی راجا ہے

کیونکہ وہ گوشت لڑاتا ہے    ۔۔۔۔۔  اور پانچ ہاتھ لمبا ہے

 

ان سب باتوں کا مجھ پر کافی اثر پڑا۔ میں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ مجھے رفتہ رفتہ یقین ہونے لگا کہ گوشت کھانا اچھا ہے۔ اس سے مجھ میں قوت اور جرأت پیدا ہو جائے گی اور اگر سارا ملک گوشت کھانے لگے تو انگریز مغلوب ہو جائیں گے۔

اب تجربہ شروع کرنے کے لئے ایک دن مقرر ہوا۔ اسے پوشیدہ رکھنا بہت ضروری تھا۔ سارا گاندھی خاندان ویشنو تھا اور میرے والدین تو بڑے پکے ویشنو تھے۔ وہ پابندی سے "حویلی ” جایا کرتے تھے بلکہ خود ہمارے خاندان کے جدا گانہ مندر بھی تھے۔ جین مت کا گجرات میں بہت زور تھا اور اس کا اثر ہر وقت ہر جگہ نظر آتا تھا۔ گجرات کے چین اور دیشنو لوگوں کو گوشت کھانے سے جتنی سخت نفرت تھی اس کی مثال نہ ہندوستان میں ملتی ہے اور نہ کسی اور ملک میں۔ میری ولادت اور پرورش اس ماحول میں ہوئی تھی اور مجھے اپنے والدین سے بڑی محبت تھی۔ میں جانتا تھا کہ جس دم وہ میرے گوشت کھانے کی خبر سن پائیں گے صدمے کے مارے مر جائیں گے۔ سچائی کی محبت نے مجھے اور بھی زیادہ احتیاط پر مجبور کر دیا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اس وقت اس کا احساس نہ تھا کہ اگر میں نے گوشت کھانا شروع کر دیا تو والدین کو دھوکا دینا پڑے گا۔ لیکن میں نے دل میں ٹھان لی کہ "ریفارم ” ضرور کروں گا۔ اس میں زبان کی چاٹ کو دخل نہ تھا۔ میں نے گوشت کے مزے کی کوئی خاص تعریف نہیں سنی تھی۔ مگر میں چاہتا تھا کہ میں قومی اور بہادر ہو جاؤں اور میرے دیس کے لوگ بھی ایسے ہی ہو جائیں تاکہ ہم انگریزوں کو شکست دیں اور ہندوستان کو آزاد کرالیں "سوراج ” کا لفظ میں نے اب تک نہیں سنا تھا مگر آزادی کے معنی جانتا تھا "ریفارم ” کے جوش نے مجھے اندھا کر انے مجھے اندھا کر دیا۔ میں نے اس بات کو مخفی رکھنے کا بندوبست کیا اور اپنے دل کو سمجھا لیا کہ محض اس فعل کو والدین سے چھپا ناحق سے انحراف نہیں ہے۔

آخر وہ دن آگیا۔ اس وقت میرا جو حال تھا اسے پوری طرح بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک طرف تو "ریفارم ” کا جوش اور زندگی میں ایک اہم تبدیلی کی جدت کا لطف تھا اور دوسری طرف اسی کام کو چوروں کی طرح چھپ کر کرنے کی شرم تھی۔ میں نہیں کہہ سکتا دونوں میں سے کون سی چیز مجھ پر غالب تھی۔ ہم نے دریا کے کنارے جا کر ایک گوشہ تنہائی ڈھونڈھا اور میں نے اپنی عمر میں پہلی بار گوشت — دیکھا اس کے ساتھ تنوری روٹی بھی تھی مجھے دونوں چیزوں میں سے کوئی چیز پسند نہ آئی۔ بکری کا گوشت چمڑے کی طرح سخت تھا۔ مجھ سے کسی طرح نہیں کھایا جاتا تھا۔ مجھے قے ہو گئی اور کھانا چھوڑ کر اٹھنا پڑا۔

اس کے بعد کی رات بڑی بری طرح گزری۔ مجھے بڑا ہولناک خواب نظر آیا جب آنکھ لگتی تھی تو ایسا علم ہوتا تھاکہ زندہ بکری میرے پیٹ کے اندر میارہی ہے اورمیں گھبرا کر اچھل پڑتا تھا مگرمیں اپنے دل کو سمجھاتا تھا کہ گوشت کا کھانا فرض ہے اور اس سے مجھے کچھ تسکین ہو جاتی تھی۔

میرا دوست آسانی سے ہار ماننے والا آدمی نہ تھا۔ اب عمدہ مسالے ڈال کر گوشت کے مزیدار کھانے پکانے لگا کھانا کھانے کے لئے ہمیں اب دریا کے کنارے سونی جگہ ڈھونڈھنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ ایک ریاست کے مکان میں کھاتے تھے۔ جس میں کھانے کا علیحدہ کمرہ میز کرسی سے سجا ہوا تھا۔ میرے دوست نے وہاں کے بڑے باورچی سے ساز باز کر کے یہ انتظام کیا تھا۔

میں اس لالچ میں آگیا۔ مجھے روٹی سے کراہت تھی وہ دور ہو گئی، بکری پر ترس آتا تھا وہ جاتا رہا اور ہ اب گوشت کی بوٹی میں تو نہیں مگر سالن میں مزا آنے لگا۔ یہ سلسلہ قریب قریب ایک سال تک چلتا رہا۔لیکن اس عرصہ میں گوشت کی دعوتیں سب ملا کر چھ سے زیادہ نہیں ہوئیں کیونکہ ریاست کا مکان روز روز نہیں ملتا تھا اور پھر یہ وقت بھی تھی کہ گوشت کے مزیدار کھانوں میں اکثر صرفہ بہت ہوتا تھا۔میرے پاس اس ریفارم کی قیمت ادا کرنے کے لئے دام نہ تھے اس لئے ہر مرتبہ خرچ کا انتظام میرے دوست ہی کو کرنا پڑتا تھا۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کہاں سے اتنار و پیہ لاتا ہے مگر کسی نہ کسی طرح وہ لے ہی آتا تھا کیونکہ وہ اس پر تلا ہوا تھا کہ مجھے گوشت کھانے کا عادی کر دے، مگر آخر اس کی آمدنی بھی محدود ہی ہو گی اس لئے بہت کم دعوتیں ہو سکیں اور وہ بھی طویل وقفوں کے بعد ۔

جب کبھی میں یہ چوری کی دعوتیں اڑاتا تھا تو ظاہر ہے کہ گھر آکر کھانا نہیں کھا سکتا تھا۔ میری والدہ قدرتی طور پر کھانے کے لئے اصرار کرتی تھیں اور خواہش نہ ہونے کا سبب پوچھتی تھیں میں ان سے کہنہ دیتا تھا ” آج مجھے بھوک نہیں ہے میرے ہاضمے میں کچھ خرابی ہے۔” یہ بہانے کرنے پر میرا دل مجھے ملامت کرتا تھا میں جانتا تھا کہ جھوٹ بول رہا ہوں اور وہ بھی اپنی والدہ سے۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اگر میرے باپ کو میرے گوشت کھانے کی خبر ہو گئی تو انہیں بہت سخت صدمہ ہو گا۔ یہ خیال میرے لئے سوہان روح تھا۔

اس لئے میں نے اپنے دل میں کہا: "اگرچہ گوشت کھانا بہت ضروری چیز ہے اور یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ملک میں غذا کی اصلاح کی جائے لیکن اپنے ماں باپ کو دھوکا دینا اور ان سے جھوٹ بولنا گوشت نہ کھانے سے بھی بدتر ہے۔ جب تک وہ زندہ ہیں گوشت کھانا ممکن نہیں۔ جب وہ نہ رہیں گے ادر میں آزاد ہو جاؤں گا تو کھلم کھلا گوشت کھاؤں گا لیکن اس وقت تک میں اس سے پر ہیز کروں گا۔ اس فیصلے کی اطلاع میں نے اپنے دوست کو کر دی۔ اس دن سے آج تک میں نے پھر کبھی گوشت نہ کھایا۔ میرے والدین کو مرتے دم تک معلوم نہیں ہوا کہ ان کے دو لڑکوں نے گوشت کھانا شروع کر دیا تھا۔ اس پُر خلوص خواہش کی وجہ سے کہ اپنے والدین سے جھوٹ نہ بولوں میں نے گوشت چھوڑ دیا مگر اپنے دوست کی صحبت نہ چھوڑی۔ اس کی اصلاح کرنے کے جوش نے مجھے برباد کر دیا تھا۔ مگر مجھے اس کا بالکل احساس نہ تھا۔

اس شخص کی صحبت نے مجھے بیوی سے بیوفائی کرنے پر اکسایا میں بال بال بچ گیا۔ یہ دوست مجھے ایک بارا ایک قہوہ خانے میں لے گیا۔ اس نے مجھے ضروری ہدایتیں دے کر اندر بھیجا۔ سب باتیں پہلے ہی طے ہو چکی تھیں، روپیہ پہلے ہی ادا کر دیا گیا تھا میں گناہ کے منہ میں جا چکا تھا۔ مگر خدا نے اپنی رحمت کاملہ سے مجھے میرے نفس سے بچالیا۔ میں اس بدکاری کے گھر میں پہنچ کر قریب قریب اندھا اور گونگاہو گیا میں پلنگ پر اس عورت کے قریب بیٹھ گیا مگر گم سم ۔ ۔ ظاہر ہے کہ اسے غصہ آگیا اور اور اس نے مجھے گالیاں دے کر گھر سے نکال دیا۔ اس وقت مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ میری مردمی کو بٹہ لگ گیا اور شرم کے مارے جی چاہتا تھا کہ زمین پھٹے اور میں سما جاؤں لیکن اس کے بعد میں نے ہمیشہ خدا کا شکر کیا کہ اس نے مجھے بچالیا۔ مجھے اپنی زندگی میں اس قسم کے چار واقعات یاد ہیں اور ان میں سے اکثر میں اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ خالص اخلاقی نقطہ نظر سے تو چاروں مرتبہ میں لغزش کا  مرتکب قرار پاؤں گا۔ کیو نکہ شہوانی خواہش موجود تھی اور یہ ارتکاب فعل سے کم نہیں لیکن عام خیال یہ ہے کہ جو شخص جسم کو گناہ میں آلودہ ہونے  نہ دے وہ گویا گناہ سے بچ گیا۔ میں بھی بس اسی حد تک بچا۔ بعض فعل ایسے ہوتے ہیں جن سے محفوظ رہنا خود انسان کے لیے اور آس پاس کے لوگوں کے لئے لطیفہ غیبی سے کم نہیں۔ جیسے ہی اس کا اخلاقی احساس جاگتا ہے وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے بچا لیا۔ جس طرح ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان اکثر انتہائی کوشش کے باوجود خواہش گناہ سے مغلوب ہو جاتا ہے اسی طرح یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ خود گناہ کی طرف راغب ہوتا ہے مگر خدا کی قدرت سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ کیونکر ہوتا ہے ۔ انسان کسی حد تک فاعل مختار ہے اور کس حد تک واقعات کا کھلونا ہے، تدبیر کہاں تک چلتی ہے اور تقدیر کہاں تک دخل دیتی ہے۔ یہ سب باتیں بھید ہیں اور ہمیشہ بھید ہی رہیں گی۔

آمدم برسر مطلب۔ اس واقعے کے بعد بھی میری آنکھیں نہیں کھلیں اور مجھے اپنے دوست کی بدکاری کا احساس نہیں ہوا۔ اس لئے مجھے اور بہت سے کڑوے گھونٹ پینا پڑے۔ یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھ سے اس کی وہ حرکتیں دیکھیں جن کا مجھے شان دگمان بھی نہ تھا مگر اس کا ذکر آگے چل کر کروں گا کیونکہ میں واقعات سلسلہ وار بیان کروں گا۔

البتہ ایک بات یہیں کہہ دینا چاہیے کیونکہ اس کا تعلق اسی زمانے سے ہے۔ مجھ میں اور میری بیوی میں جو نا چاتی تھی اس کی ایک وجہ یقیناً اس دوست کی صحبت بھی تھی۔ میں اپنی بیوی کا عاشق تھا مگر اس کے ساتھ بد گمان بھی بہت تھا اور اس دوست نے میری بدگمانی کی آگ کو اور بھڑکایا مجھے اس کی راست گوئی میں بھی شبہہ نہیں ہوا۔ اکثر میں نے اس کی چغل خوری کی بنار پر اپنی بیوی کو دکھ دیا ہے۔ جس پر مجھے آج تک ندامت ہے۔ صرف ایک بیوی ہی ان سختیوں کو سہ سکتی ہے۔ اس لئے ہیں عورت کو مجسم صبر و تحمل سمجھتا ہوں۔ اگر کسی نوکر پر بیجا شبہ ہو تو وہ نوکری چھوڑ سکتا ہے ۔ اگر بیٹے پر ہو تو وہ باپ کا گھر چھوڑ سکتا ہے۔ اگر دوست پر ہو تو وہ دوستی ترک کر سکتا ہے۔ بیوی کو شوہر پر شبہہ ہو تووہ خاموش رہتی ہے لیکن جہاں شوہر کو اس پر شبہ ہوا تو اس بے چاری کی موت ہی آجاتی ہے ۔ وہ جائے تو کہاں جائے ؟ ہندو بیوی کو یہ حق نہیں کہ عدالت میں طلاق کی درخواست دے اس غریب کے لئے قانون نے کوئی تدبیر نہیں بتائی۔ مجھے یہ ہمیشہ یاد رہے گا اور عمر بھر پچھتاتا رہوں گا کہ میں نے اپنی بیوی کو اس مصیبت میں ڈالا جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہ تھی۔

 

بد گمانی کا ناسور میرے دل سے اس وقت کیا جب میں نے "اہمسا” (1 ) کے سب پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھ لیا۔ اس وقت مجھے "برہمچاریہ ” ( 2 ) کی عظمت اور شوکت کی خبر ہوئی اور مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ بیوی شوہر کی لونڈی نہیں بلکہ اس کی رفیق اور مدد گار اور اس کی رنج و راحت میں برابر کی شریک ہے، وہ بھی اپنے راہ عمل کے انتخاب میں اسی طرح آزاد ہے جیسے اس کا شوہر ۔ جب کبھی مجھے وہ شک اور شبہے کے بھیانک دن یاد آتے ہیں تو مجھے اپنی حماقت اور اپنے شہوانی ظلم سے انتہائی نفرت ہوتی ہے اور اپنے دوست کی اندھی تقلید پر سخت افسوس ہوتا ہے۔

 

حوالہ جات

 

  1. "ہمسا” کے لفظی معنی میں عصمت، عدم تشدد

 

  1.  "برہمچاریہ” کے لفظی معنی ہیں وہ کام جس سے انسان خدا تک پہنچتا ہے۔ اس کے اصطلاحی معنی ہیں ” ضبط نفس ” خصوصاً شہوانی خواہش کو قابو رکھنا

 

ماخذ:  

درج بالا متن مہاتما گاندھی کی کتاب Story of my experiment with truth  کے اردو ترجمے بعنوان "تلاشِ حق” کے دو ابواب پر مشتمل ہے۔ اردو ترجمہ "ڈاکٹر عابد حسین”، ناشر : فکشن ہاؤس، لاہور

 

 

 

Author

Related Articles

Back to top button