اسرائیلی حملے ’ناجائز جارحیت‘، ایران کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں: پاکستان/ اردو ورثہ

پاکستانی وزارت خارجہ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوجی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیل نے جمعے کی علی الصبح ایران کے مختلف مقامات پر حملے کیے جن میں ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی کے علاوہ ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری اور کم از کم چھ جوہری سائنس دانوں کی موت ہوئی ہے۔
اسرائیل نے اپنے حملوں میں ایران کی عسکری اور جوہری تنصیابات کو نشانہ بنایا گیا۔
’اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ پرعزم یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور واضح طور پر اس اشتعال انگیزی کی مذمت کرتا ہے، جو کہ پورے خطے اور اس سے باہر کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ اور سنگین مضمرات ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، اس جارحیت کو فوری طور پر روکیں اور جارح کو اس کے اعمال کا جوابدہ ٹھہرائیں۔‘
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابط کے پیلٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان میں اسرائیل کے حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ ’اس گھناؤنے اقدام نے بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کے ضمیر کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اور علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سلامتی کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘




