منتخب کالم

  ڈاکٹر عبدالقدیر ایٹمی سائنسدان ہیروصرف نواز شریف ہیں رانا ثناء اللہ / ظفر اقبال



ن لیگی لیڈر رانا ثناء  اللہ نے کہا ہے کہ ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایٹمی سائنسدان ہیں ہیرو صرف نواز شریف ہیں ” کیونکہ ڈاکٹر قدیر خاں کو یہی کام آتا تھا جو انہوں نے کر دیا ہے، اگر ایک کمہار گھڑا بناتا ہے تو یہ اس کا کوئی کمال نہیں اس لیے اس کو ہیرو قرار نہیں دیا جا سکتا اسی طرح ایک بڑھئی اگر دروازہ بنا لیتا ہے تو اس نے کوئی تیر نہیں مارا کیونکہ یہ اس کا کام ہے جو اس نے روٹین میں کر دیا ہے اس لیے وہ ہیرو نہیں کہلا سکتا اور چونکہ اس کا اعلان نواز شریف نے کیا تھا اور یہ اعلان کوئی اور کر بھی نہیں سکتا تھا اس لیے اس کا ہیرو نواز شریف ہے اگرچہ اس کی ابتداء ذولفقار علی بھٹو نے کی تھی لیکن محض ابتداء کرنے پر وہ بھی اس کے ہیرو قرار نہیں دیے جا سکتے اور یہ کریڈٹ کسی اور کو جو اس کا مستحق نہ ہو دیا ہی نہیں جا سکتا اگرچہ میاں صاحب نے اپنی منکسر المزاجی کی وجہ سے اعلان کرنے میں بھی لیت تولعل سے کام لیا تھا لیکن اس کے باوجود ان کے ہیرو ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ایک ہیرو بنیادی اور لازمی طور پر منکسرالمزاج ہی ہوتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 

غیر جانبدارانہ الیکشن تک سیاسی نظام اور اسمبلیاں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔ راجہ پرویز اشرف 

سابق وزیرِ اعظم اور پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ” غیر جانبدارانہ الیکشن تک سیاسی نظام اور اسمبلیاں مضبوط نہیں ہو سکتیں "اور چونکہ ملک میں غیر جانبدار الیکش کا انعقاد ممکن ہی نہیں اس لیے نہ سیاسی نظام مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ اسمبلیاں اس لیے ہمیں کمزور نظام اور نحیف و نزار اسمبلیوں پر ہی گزارا کرنا پڑے گا کیونکہ خاص طور پر کوئی بھی صوبائی اسمبلی غیر جانبدارانہ الیکشن نہیں چاہتی کیونکہ وہ ہارنا نہیں چاہتی  اس لیے کسی صوبائی حکومت سے یہ امید نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ اپنے ہارنے کا رسک لے کر غیر جانبدارانہ الیکشن کروا دے اس لیے مستقبل میں کسی بھی غیر جانبدارانہ الیکشن کی توقع کرنا با لکل ہی فضول ہے اور یہ الیکشن اسی طرح ہوتے رہیں گے اور سارا کام اسی طرح چلتا رہے گا اس لیے سوائے صبر کے کوئی چارا نہیں ہے آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔

دوجا پاسا 

یہ ممتاز شاعرہ انجم قریشی کا پنجابی مجموعہ کلام ہے جسے سانجھ پبلیکیشنز بکس سٹریٹ مزنگ روڈ لاہور نے شائع کیا ہے انتساب اس طرح سے ہے احمد تے علی دے ناں جیڑھے میری ککھ دے ویڑے وچ کھیڈ دے، میرے ماں لئی جھدے نال میریاں لڑائیاں مک گیاں نے تے میرے پیؤ واسطے جھدے نالوں سوہنا ہالی وی کوئی نئیں۔ ٹاٹئل سلیم قریشی نے بنایا ہے اور قیمت 250 روپے رکھی گئی ہے وچلی گل کے عنوان سے مصنفہ کا پیش رفت درج ہے شکر گزاروں کے نام پر سلیم قریشی، طارق اعظم، عاشق علی فیصل، زاہد حسن اور نادر علی کے نام ہیں پسِ سرورق شاعرا کی تصویر درج ہے۔ 

زلزلہ

میاں اور اس کی موٹی بیوی سوئے ہوئے تھے کہ آدھی رات کے قریب زلزلہ آیا اور بیوی بیڈ پر سے گر پڑی جس پر میاں بولے،

” بیگم تم زلزلے کی وجہ سے گری ہو یا زلزلہ تمہارے گرنے کی وجہ سے آیا ہے ” 

آج کا مطلع

یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا 

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تْو نہ ملا 





Source link

Author

Related Articles

Back to top button