رپورٹسائنس و ٹیکنالوجی

ڈاکٹر من تشاء چیمہ کا کارنامہ : پاکستان کی پہلی ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ویب ایپ تیار

ڈاکٹر من تشاء چیمہ : تعارف

ڈاکٹر من تشاء چیمہ نیویارک میں مقیم ایک ممتاز ڈیٹا سائنسٹسٹ اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) میں پی ایچ ڈی کی حامل محقق ہیں۔ انہوں نے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی اور روبوٹک انجینئرنگ میں مہارت حاصل کی۔ ڈاکٹر چیمہ کو پاکستان کی اولین کم عمر خواتین میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے اس میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور وہ 65 معروف پاکستانی سائنسدانوں، انجینئرز، ڈاکٹروں اور اسکالر خواتین کی فہرست میں شامل ہیں۔

انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے بحیثیت ریسرچ پروفیسر وابستگی بھی حاصل کی ہے، جہاں انہوں نے تحقیق اور تدریس کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر چیمہ گہری تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ متعدد زبانوں، خصوصاً جرمن زبان میں بھی روانی رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر من تشاء چیمہ میٹا لرن (MetaLearn) کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جہاں وہ مصنوعی ذہانت اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) پر مبنی جدید تعلیمی پروگرامز اور تربیتی ورکشاپس کا انتظام کرتی ہیں۔ ان کی قیادت میں، میٹا لرن جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کو ہر فرد تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے، خاص طور پر اردو بولنے والی کمیونٹی کے لیے تاکہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

ڈاکٹر چیمہ صحت کے شعبے میں AI کی جدید ایجادات اور تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مساوی رسائی کی سخت حامی ہیں۔

ڈاکٹر من تشاء چیمہ کا ایک اور انقلابی کارنامہ ، پاکستان کی پہلی ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ویب ایپ تیار

پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کا سہرا ڈاکٹر من تشاء چیمہ کے سر جاتا ہے۔ ڈاکٹر من تشاء چیمہ نے ڈیپ فیک، جعلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز کے خلاف ملک کا پہلا سائبر دفاعی حصار قائم کر لیا ہے۔ اُن کی سربراہی میں ایک ایسی ویب ایپلیکیشن تیار کی گئی ہے جو جدید AI ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیپ فیک مواد کو شناخت کرنے اور مجرموں کو ٹریس کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ ایپ ان افراد کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو گی جن کی تصاویر، ویڈیوز یا آڈیوز کو غیر اخلاقی انداز میں ایڈٹ یا جنریٹ کر کے انہیں ہراساں یا بلیک میل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کا مواد لے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے نیوڈ یا گمراہ کن ڈیپ فیک بنا کر استعمال کرتا ہے، تو یہ ایپ متاثرہ فرد کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مجرم کا IP ایڈریس، لوکیشن اور مکمل تفصیلات صرف ایک کلک میں فراہم کر سکے گی۔

ایپ کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے صارف سے کچھ بنیادی معلومات مثلاً موبائل نمبر، حالیہ سیلفی، لوکیشن، قومی شناختی کارڈ نمبر وغیرہ طلب کی جائیں گی تاکہ اس نظام کا غلط استعمال نہ ہو سکے اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔

ڈاکٹر من تشاء چیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ایپ صرف اُن کیسز کو ٹریس کرے گی جو سائبر کرائم کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس کے تحت حاصل کی جانے والی معلومات کو قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور متاثرہ شخص آسانی سے ثبوت کے ساتھ قانونی کارروائی کر سکے گا۔ یہ ایپ پاکستان کی پہلی ایسی کوشش ہے جو نہ صرف انصاف کے حصول کو آسان بنائے گی بلکہ عام عوام کو سائبر تحفظ بھی فراہم کرے گی۔

یہ ویب ایپ تمام آپریٹنگ سسٹمز پر دستیاب ہو گی اور اپنی نوعیت کا پہلا قومی اقدام ہو گا۔ چند قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد، اگر سیکیورٹی ادارے اور حکومت اس منصوبے کو منظور کرتے ہیں، تو یہ ٹول انہیں منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم اگر عوام کو بھی رسائی دی گئی، تو بھی اس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات سیکیورٹی اداروں کے زیر نگرانی رہیں گی تاکہ غلط استعمال نہ ہو سکے۔

ڈاکٹر من تشاء چیمہ کا ماننا ہے کہ سائبر دنیا میں بقاء صرف ایک مضبوط سائبر سیکیورٹی سسٹم سے ممکن ہے، بشرطیکہ یہ انسانیت کی بھلائی، ترقی اور تحفظ کی نیت سے بنایا جائے۔

یہ رپورٹ ڈاکٹر من تشاء چیمہ کی اجازت سے محض عوامی فہم و شعور کے فروغ کے لیے جاری کی جا رہی ہے۔ اس میں شامل معلومات کو کسی پیشہ ورانہ مشورے یا سند کے طور پر نہ سمجھا جائے۔ ڈاکٹر من تشاء چیمہ، ان سے منسلک ادارے اور اردو ورثہ، اس مواد کے استعمال یا اس کی کسی بھی تعبیر و تشریح کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات یا نتائج کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

Author

Related Articles

Back to top button