منتخب کالم
جسٹس (ر) آغا رفیق احمد خان — عدلیہ کا درخشاں چراغ/ جسٹس ارشاد حسن خان

جسٹس (ر) آغا رفیق احمد خان پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک معتبر اور روشن نام ہیں۔ ان کی خودنوشت“عدلیہ میں میرے 44 سال”محض ایک ذاتی داستان نہیں، بلکہ ہمارے عدالتی نظام کی ساخت، اس کے اندرونی معاملات، چیلنجز اور اصلاحات کی ضرورت پر ایک بے باک تجزیہ بھی ہے۔ وہ ان چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر نہ صرف فیصلے کئے بلکہ انصاف کی حرمت کو بھی مضبوط کیا۔آغا رفیق احمد خان 23 اگست 1949 کو شکارپور، سندھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1973 میں انہوں نے جوڈیشل سروسز میں شمولیت اختیار کی اور اپنی محنت، دیانت داری اور قانونی فہم کی بدولت عدلیہ کے مختلف مدارج طے کئے۔1995 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور بعد ازاں 2009 میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس بنے۔ ان کا عدالتی طرزِ عمل ہمیشہ شفاف، قانون کے مطابق اور انصاف پر مبنی رہا۔ انہوں نے عدلیہ میں سیاسی دباؤ، اقربا پروری اور تقرریوں میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کی۔ان کی خودنوشت کو سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالتی تقرریوں پر ایک“تاریخی دستاویز”قرار دیا۔ ان کے فیصلے، طرزِ عمل، اور تحریریں پاکستان کی قانونی تاریخ میں رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے عدالتی اخلاقیات پر لندن میں کورسز کئے اور عرب ممالک میں عدالتی تعاون کو فروغ دیا۔ 2014 میں سندھ یونیورسٹی نے انہیں قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ میری جسٹس آغا رفیق احمد خان سے دوستی کا رشتہ 25 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ میں سپریم کورٹ کا جج تھا جب وہ سیشن جج تھے۔ بعد ازاں میں چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر رہا، مگر ہمارے درمیان تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ وہ کراچی میں مجھ سے ملاقات کرتے ہیں اور میں لاہور میں ان سے ملتا ہوں۔وہ ایک دیانت دار، بااصول اور نیک انسان ہیں۔ ان کی شخصیت میں سادگی، شفقت، اور اصول پسندی نمایاں ہے۔ ان کی خودنوشت آنے والی نسلوں کے لیے عدالتی تاریخ کا قیمتی خزانہ ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔




