بلاگ

ورکنگ لیڈیز اور ڈے کئیر کی سہولتوں کا فقدان / بصیرت فاطمہ

 

آج کی عورت صرف چار دیواری تک محدود نہیں رہی۔ وہ ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، افسر، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن جیسے جیسے خواتین معاشی میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں، ویسے ویسے ان کو درپیش مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ ڈے کئیر سینٹرز یا بچوں کی نگہداشت کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے۔

اکثر ورکنگ خواتین کو اپنے چھوٹے بچوں کو گھر چھوڑ کر دفتر جانا پڑتا ہے، جس سے ان میں بےچینی، احساسِ جرم اور پریشانی جنم لیتی ہے۔ نانا نانی یا دادی دادا کی موجودگی کسی حد تک سہارا بن سکتی ہے، مگر ہر عورت کو یہ سہولت میسر نہیں ہوتی۔ ایسے میں ڈے کئیر سینٹرز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں بچے محفوظ اور دوستانہ ماحول میں رہ سکیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں سرکاری اور نجی ادارے ورکنگ خواتین کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر دفاتر میں ڈے کئیر کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں، اور جہاں موجود ہے، وہ معیار، تربیت یافتہ عملے اور حفاظتی تدابیر کے فقدان کا شکار ہے۔

یہ صرف خواتین کا نہیں، پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خواتین بلا جھجک اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کریں تو ہمیں ان کے بچوں کی حفاظت اور تربیت کا بندوبست بھی کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر سرکاری و نیم سرکاری ادارے میں ڈے کئیر سینٹرز کے قیام کو لازمی بنائے۔ ساتھ ہی نجی شعبے میں بھی ایسے مراکز کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے، جنہیں مناسب ضوابط کے تحت چلایا جائے۔

ایک ماں جب اطمینان کے ساتھ اپنے بچے کو محفوظ ہاتھوں میں چھوڑ کر کام پر جاتی ہے تو وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ یہ اطمینان، یہ سکون صرف تب ممکن ہے جب ہم ڈے کئیر کو ایک غیر ضروری سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت کے طور پر تسلیم کریں۔

 

Author

Related Articles

Back to top button