کالم

کسبِ کمال کن کہ عزیزِ جہاں شوی / راحت فاطمہ ظفر

 

بلاشبہ افواجِ پاکستان خصوصاََ پاک فضائیہ نے حالیہ جنگ میں دنیا بھر کو ششدر کر کے رکھ دیا ہے۔ ایشیائی فضاؤں میں ایک ایسے باز کی گونج سنائی دے رہی ہے جس کو دنیا ایک قصۂ پارینہ سمجھ بیٹھی تھی۔
بعض اوقات انسان دیوار کی دوسری طرف موجود چیز کو سمجھنے میں غلطی کرنے کا خمیازہ بھگتتا ہے لیکن جو خمیازہ نریندر مودی نے بھگتا ہے، بھارتی افواج نے بھگتا ہے، بعض غیر مقامی طاقتوں نے بھگتا ہے وہ تو بہت ہی زیادہ ہے۔ اور آنے والے وقت کے جو نقوش ظاہر ہونے لگے ہیں وہ بلاشبہ افواجِ پاکستان کی دور اندیشی، بے داغ حکمتِ عملی اور ہروفیشنلزم کے انمٹ ثبوت ہیں۔
بھارت کا بہت بڑی فوجی طاقت کا زعم، بہت ایڈوانس ائیر فورس کا زعم، خطے میں ابھرتی ہوئی بڑی معاشی طاقت کا زعم سب کچھ دھڑام سے نیچے آ گرا۔ جو کہ اگر چھپا رہتا تو بھرم تھا، رعب و دبدبہ تھا لیکن جب دیوار کے اس پار دیکھنے میں غلطی ہوئی تو غبارے سے ہوا یوں نکلی کہ غیر مقامی طاقتوں کو بھی بھارت کے متعلق اپنی اوورتھنکنگ اور پاکستان کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنے کی غلطی ایک blunder نظر آنے لگی۔ یہاں ایک تکبر نہیں ٹوٹا بلکہ ایک لمبی پلاننگ ناکام ہوئی ہے ایک خواب ٹوٹا ہے جس کی وجہ بھارت کی نا اہلیت اور افواجِ پاکستان کی کمال کی ہنر مندی ہے۔

جیو سٹریٹیجک محاذ پر اب پاکستان اور چین کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد مہرا باقی نہیں رہا۔ مودی کے خلاف اپنے ہی ملک میں اپوزیشن زور پکڑ رہی ہے۔ ہلکی موسیقی پر چلتی ہوئی پاک چین دوستی اچانک ایک زور دار آواز میں بدل گئی۔ کارگل، لداخ ایک بار پھر پھسلتے نظر آنے لگے ہیں وہ بھارت جو پاکستانی کشمیر گلگت بلتستان پر نظریں جماۓ بیٹھا تھا اب دفاعی پوزیشن پر جاتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کو پانی بند کرنے کی دھمکی دینے والے بھارت کی گنگا میّا جو چین سے نکلتی ہے، خطرے میں نظر آنے لگی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تعمیر شدہ ڈیمز اب ایک پرایا دھن لگنے لگے ہیں۔ اور پاکستان کی تزویراتی اہمیت اچانک ہمالیہ سے بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ سب بھارتی نا اہلی اور افواجِ پاکستان کی خاموش مگر زبردست حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔
فرانسیسی رافیل اور بھارتی تیجاس نے جس طرح جے ایف تھنڈر اور جے ٹین سی کے سامنے سرنڈر کیا ہے اس نے بھارت تو کیا ہوری دنیا کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں مقامی طیارہ سازی کی صنعت کا مکمل رجحان پاکستان اور چین کی طرف ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پاک چین فضائی دفاع اور ریڈار کمیونیکشن دیوار کے اس پار بیٹھا ہوا وہ عفریت تھا جسے دیکھنے میں بھارت اور اس کے حواری غلطی کر بیٹھے۔ بلکہ کسی حد تک اگر دیکھا جاۓ تو آنے والے مستقبل کے دھندلے سے عکس میں امریکی اسلحہ اور حتیٰ کہ ایف سولہ بھی اپنا مقام کھوتا نظر آ رہا ہے۔ اس چھوٹی لیکن انتہائی اہم جنگ نے مقامی اسلحہ سازی کی صنعت کو عالمی بنا ڈالا ہے۔ اب امید ہے کہ دنیا پاکستانی اسلحہ سازی، طیارہ سازی اور فوجی تربیت کا لوہا ماننے لگے گی۔
تزویراتی خطرات بھارت کی رگ و پے میں سرایت کریں گے۔ بنگلہ دیش اور نیپال کی نیک یعنی گردن سے گزر کر آگے آنے والی ریاستیں، جیسے آسام وغیرہ، تیزی سے بدلتے ہوۓ بنگلہ دیش کے خطرے میں گھر چکی ہیں۔ پاکستانی علاقوں کو چھیننے کے چکر میں بھارت اپنے زیرِ نگیں علاقوں میں چلتی ہوئی تحریکوں کو اپنی عاقبت نا اندیشانہ پالیسی کے باعث مہمیز کر چکا ہے۔ ہندوتوا کا اصل چہرہ اپنے تعصب اور اپنی بیوقوفیوں سمیت ساری دنیا پر عیاں ہو چکا ہے۔ جبکہ معرکۂ مئی نے پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پر مضبوط اور یکجان کر دیا ہے۔ اور پاکستان کے اندر موجود تمام سیاسی، مذہبی، لسانی ہر قسم کے اختلافات عنقا ہو گئے اور پوری قوم یکجان ہو گئی۔

میڈیا اور سافٹ وئیر وار فئیر میں پاکستان نے جس طرح ٹھوس ثبوتوں پر بات کی ہے اور جس کا اقرار انٹر نیشنل میڈیا نے بھی کیا ہے اور بلکہ چائینیز سیٹلائیٹ امیجز نے تمام جھوٹے بھارتی دعووں کی قلعی کھولی ہے اس نے پاکستان کو واقعی ایک ذمہ دار ریاست ثابت کیا ہے۔
پاکستانی فوجی فتوحات نے بھارت کی مضبوط سفارتکاری کا محاذ بھی اڑا کر رکھ دیا ہے۔ اب بھارت اپنے الفاظ کا بھرم رکھنے سے بھی قاصر نظر آ رہا ہے۔

افواجِ پاکستان نے وہ کسبِ کمال کیا ہے کہ جس نے اسے عزیزِ جہاں کر ڈالا۔ مشرق سے مغرب تک تمام اسلامی دنیا داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہی ہے۔ بلا شبہ افواجِ پاکستان پاکستان کا دستِ خیبر شکن ہیں۔

Author

Related Articles

Back to top button