غزل
غزل / مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی / گل جہان
غزل
مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی
آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی
میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا
تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی
نام و نمود غیب کے رد میں ہوئے شروع
حرکت کی نسل آدمی کی چال پر بنی
اس اس کے خاندان سے نکلے کئی خدا
جس جس کی بھی شبیہہ مری کھال پر بنی
جنت تو خیر گھر تھا ہمارا مگر میاں
دوزخ ہمارے نامہ ء اعمال پر بنی
موسم تمام اس سے ہی لیتے ہیں مشورے
اک بیل تھی جس اجنبی کی شال پر بنی
پھیلاؤ کائنات کو کشکول نے دیا
گردش یہاں فقیر کی دھمّال پر بنی
بننا تھا مرد ؛ چپ کو مجسم کیا گیا
عورت خدا کے حسن کی تمثال پر بنی




