گزرے لمحے/ مہرالنساء مولوی

میں، ڈاکٹر آمنہ قمر، سائنسدانوں کی ٹیم کے ساتھ جاپان کی نیشنل لیبارٹری آف اسپیس سائنسز کے دورے پر حکومت کی طرف سے آئی ہوں۔
جاپانی قوم کے بارے میں جاننے کا بہت شوق تھا ۔ انہیں مل کر بہت خوشی ہوئی ۔
اسی لیبارٹری میں ڈاکٹر سومی ہوشو کام کرتی تھی — ایک طوفانی محنت کرنے والی جوشیلی حسینہ جو مستقبل کے رازوں سے پردہ ہٹانے پر تلی ہوئی تھی۔
ہماری دوستی بہت جلد ایک ایسی محبت میں ڈھل گئی جہاں لفظ کم پڑتے اور دل باتیں کرتے ہیں۔ ایک دن، چائے کی پیالی کے ساتھ وہ راز افشا ہوا جس نے میری زندگی کی سمت بدل دی۔
"میں ٹائم مشین بنا چکی ہوں…”
اس کی آواز خواب کی سی لگی گویا میں خواب کی حالت میں ہوں ۔
ذہن میں ایک سرگوشی ابھری، "کیا وقت میں واقعی سفر کر سکتے ہیں ۔”
ہم اپنے ماضی، اپنی ماؤں کی بات کر رہی تھیں۔ سومی نے اپنے والدین کے بارے میں بتایا، اور میرے دل کے دروازے پر ایک یاد کی دستک سی ہوئی — میری ماں، جنہیں میں برسوں سے صرف خوابوں میں پکارتی آئی ہوں۔
"کیا تم اپنی ماں سے دوبارہ ملنا چاہو گی؟”
یہ سوال گویا میرے اندر کسی سوئی ہوئی امید کو جگا گیا۔
رات کے آخری پہر کی خاموشی میں، میں اکیلی اس لیب میں بیٹھی تھی، جہاں وقت رکا ہوا لگتا تھا اور دیوار پر چلتی سوئیاں صرف ایک دھڑکن کی گواہی دے رہی تھیں۔ سومی کی مشین "کوانٹم رِفٹ” میرے سامنے تھی — ایک شفاف شعلہ سا دروازہ، جو ماضی کے دھندلکوں میں لے جانے والا تھا۔
"بس ایک دن، صرف ایک دن اماں کے پاس…”
میری آواز کانپ رہی تھی، اور آنکھوں میں بیتے لمحوں کی نمی تیر رہی تھی۔
ٹائم کوڈ درج تھا: 15 دسمبر 2019 — 11:00 صبح۔
وہی دن… جب اماں کو آخری بار دیکھا، اور جھگڑے کے تلخ لفظوں کے ساتھ لیب چلی گئی تھی۔ وہ پل میرے وجود میں ہمیشہ چبھتا رہا، جیسے ہر لمحہ پچھتاوے کی سوئی نے سیا ہو۔
جیسے ہی "کوانٹم رِفٹ” کے پاس کھڑی ان لمحات کو سوچ رہی تھی ، کہ فضا میں روشنی سی لرزی، اور میں ایک مانوس دنیا میں داخل ہو گئی۔
وہی پرانی حویلی، نیم کا پیڑ جس پر بچپن میں جھولا ڈالا تھا، اور کچن سے اٹھتی چائے کی خوشبو جیسے یادوں کا در کھول رہی ہو۔
"آمنہ! کب آئی بیٹا؟”
یہ آواز گویا کسی گم شدہ دعا کی قبولیت تھی۔
میں اماں کے گلے لگ کر رو پڑی۔ وقت رکا، یا شاید میرے دل نے چاہا کہ یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو۔
"اماں، اس دن جو کہا، وہ…”
"چھوڑ دے بیٹا، ماؤں سے گِلے نہیں رکھتے۔”
ان کے لفظ میرے زخموں پر مرہم بن کر اترے۔ میں نے وہ دن ان کے ساتھ گزارا — بچپن کی کہانیاں، پرانی تصویریں، اور وہ خاموش ندامت، جو ہر بیٹی اپنے دل میں چھپائے رکھتی ہے۔
وقت تھم چکا تھا… یا شاید وہ لمحہ میری زندگی کا حاصل بن چکا تھا۔
بعض سفر وہ ہوتے ہیں جو جسم نہیں صرف دل طے کرتا ہے ۔ وقت کی طنابیں اگر ہاتھ آ بھی جائیں ، تو کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں ۔ جو ہر زمانے سے ماورا ہوتے ہیں ۔ جیسے ماں کی آغوش کا لمس ۔
اسی لمحے ڈاکٹر سومی ہوشو لیب میں داخل ہوئی۔
"کیا ہوا؟ جلدی واپسی ہو گئی ؟ ” وہ بے یقینی کے عالم میں مجھے دیکھ رہی تھی ۔
میں نے ساکت لہجے میں کہا،
” بس… ماں سے مل کر واپس آنے کا حوصلہ نہیں۔ دوبارہ انہیں کھونا میرے بس کی بات نہیں "




