ارنسٹ ہیمنگ وے اور ایگنس وان کوروسکی۔۔۔پہلی جنگِ عظیم کی محبت کی ایک داستان
تحریر : اسٹیوو نیومین || مترجم : افشاں نور

ارنسٹ ہیمنگ وے اور ایگنس وان کوروسکی۔۔۔پہلی جنگِ عظیم کی محبت کی ایک داستان
تحریر : اسٹیوو نیومین
اردو ترجمہ : افشاں نور (اوکاڑہ)
’’جب ڈولومائٹس کے دامن میں، موسم گرما کے آخر میں ہونے والی ان مہمات کے دوران پہلی بار ہلاکتیں ہوئیں، ایگنس ان خوفناک زخموں سے خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔۔‘‘
ارنسٹ ہیمنگ وے اور ایگنس وان کوروسکی کی کہانی ایک رومانوی افسانوی چیزبن چکی ہے جو بہرحال دوبارہ بیان کرنے سے مزیدطاقتور اور دلکش ہوتی جاتی ہے۔ یقینا ً ہیمنگ وے کا ناول، اے فئیرویل ٹو آرمز(A Farewell to Arms) اور بہت سے فلمی
اور ٹی وی ورژن ان کے تعلق کی ایک خیالی شکل ہیں۔
ایگنس ہینا وان کوروسکی، واشنگٹن ڈی سی میں رہنے والی ایک لمبی، سیاہ بالوں والی لڑکی تھی۔وہ ایک فرض شناس بیٹی تھی اور دو سال تک گھر میں اپنے بیمار رنڈوے باپ کی تیمارداری کرتی رہی۔1910 میں جب اس کے باپ کا انتقال ہوگیا تو اس نے واشنگٹن پبلک لائبریری میں ملازمت اختیار کر لی لیکن جلد ہی اس بے رنگ معمول سے بیزار ہوگئی اوربیلویو ہسپتال میں نرس بننے کے لیے درخواست دی جسے قبول کر لیا گیا۔
ایگنس مہربان، بے لوث، ہوشیار، توانائی سے بھرپور اور لوگوں کی دلدادہ تھی۔ وہ ایک بہترین نرس بنی۔ 1917 میں پہلی جنگ ِعظیم میںامریکہ کے داخلے کے ساتھ ہی اس نے ریڈ کراس نرسنگ سروس میںشامل ہونے کے لیے درخواست دی اور جون 1918 کے آخر میں یورپ کا سفر کیا۔فرانس میں کچھ اضافی تربیت کے بعدایگنس اور اس کے ساتھیوں کوریل کے ذریعے شمالی اٹلی بھیجا گیاجہاں انہیں مختلف ہسپتالوں میںبھیج دیا گیا۔ایگنس کو اوسپیدال کرونچے روساامیریکانابذریعہ10 ایلیساندرو، منزونی، میلانومیں تفویض کیا گیا۔وہ جلد ہی عشقِ پیچاں سے ڈھکی دیواروں اور بلوط کے بڑے دروازوں والے اس خوبصورت پرانے ہسپتال میں آباد ہوگئی جو کبھی گیریبالڈی کی بغاوت کے وقت ایک بڑا خاندانی گھر تھا۔یہ لا سکالا سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔اس کی کارکردگی، علم اور بھرپور محنت سے جلد ہی دوسری نرسیں اس کی عزت کرنے لگیں، خاص طور پرایلسی میکڈونلڈ،جو ایک قریبی اور گہری دوست بن گئی تھی، اور اطالوی ڈاکٹر جو سبھی اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔
ایگنس کو رات کو ڈیوٹی پر رہنا پسند تھا۔ اس خاموشی، تنہائی کے اس احساس اور دالان میں اس کی میز کے گردروشنی اور نوجوانوں کو خوف اور ڈرائونے خوابوں سے دور سوتے دیکھ کر امن کے اس زبردست احساس میں کچھ تھا۔
جب ڈولومائٹس کے دامن میں، موسم گرما کے آخر میں ہونے والی ان مہمات کے دوران پہلی بار ہلاکتیں ہوئیں، ایگنس ان خوفناک زخموں سے گھبراگئی تھی لیکن جلد ہی وہ ان کی عادی ہوگئی اورجان گئی کہ اسے اعتماد کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور زخموں کی سنگینی کو مکمل طور پر نظر اندازکرنا ہوگا۔اگر وہ پرسکون ہوتی تو اس کے مریض بھی پرسکون ہوتے۔اور یہ صرف میدانِ جنگ کے زخم نہیں تھے،1918کی اس شدید گرمی کے دوران،خندقوں کی گندگی میں رہنے والوں، خراب کھانا کھانے اور خراب پانی پینے والوں میںبیماریاں پھیلی ہوئی تھیں۔ایک اور امریکی ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ ایسا ہی تھاجو ویسینزا اور ٹرینٹوکے درمیان پھیلی فرنٹ لائن کے قریب بسانو میں مقیم تھا، جسے یرقان اور ملیریا کی بہت بری حالت میں لایا گیا۔
ایگنس نے اس نوجوان کے ماتھے پر بوسہ دے کر اور ’’ہیلو! ہینری میرے عزیز!‘‘ کہہ کر اس کا خیر مقدم کیا جو زیادہ تر بے قابو تھا اور اسے خشک متلی سے مسلسل ابکائیاں آ رہی تھیں۔پھر اس نے میدانِ جنگ اورریل کے سفر کی غلاظت دھونے کے لیے اسے گرم پانی سے غسل دیا، اودبلائو کے تیل کا ایک چمچ کھلایا،اس کے بعد مشروبِ بیضہ پلایااور صاف ستھری چادروں والے بسترپر لٹادیاجہاں وہ بارہ گھنٹے تک گہری نیند سویا رہا۔ان دنوں، اینٹی بائیوٹکس سے پہلے،ایک ڈاکٹر بھی اس کے لیے اس سے بڑھ کر نہیں کر سکتاتھا۔بعد کی تمام زندگی،ہینری ویلارڈ ،میلان کے ہسپتال میں اپنے قیام کے بارے میں جو یاد رکھ سکتا تھا،وہ ایگنس وان کوروسکی تھی،جو اس کی محبوب، میلانو کا فرشتہ تھی۔ ارنسٹ ہیمنگوے کے لیے بھی ایسا ہی ہوگا یا اس سے کچھ زیادہ۔
انیس سالہ ارنسٹ ہیمنگ وے،اٹلی میں ریڈ کراس ایمبولینس چلاتے ہوئے،ایک سال سے کم عرصہ اوک پارک سے دور رہا تھا۔یہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا تجربہ تھا، ایک ایسا تجربہ جس نے اس کی زندگی بدل دی۔اطالوی فوجیوں نے اسے بخت آور اور بابرکت سمجھ کر اپنایا۔ہیمنگ وے ان مہربان اور سخی لوگوں کے لیے کافی نہیں کر سکا، اور اگرچہ اسے ضرورت نہیں تھی، ارنسٹ نے فرنٹ لائن پر، دریائے پیاوے کی جنوب مغربی جانب ،ڈولومائٹس کی وادی میں اور آسٹریاکے توپ خانے اور بھاری مشین گنوں کی فائرنگ کے سلسلے میں، ڈاک،شراب، سگریٹ اور چاکلیٹ پہنچانے کا کام بھی کیا۔
ایسے ہی ایک موقعے پر، جب وہ سائیکل چلا کر فرنٹ لائن پر پہنچا اور اپنے خوش آئند تحائف تقسیم کرنے لگاتو ایک آسٹریائی مارٹر شیل پیاوے کے اس پار بلند ہوا اور اس خندق کے عین سامنے جا گرا جس کی طرف ہیمنگوے جا رہا تھا۔ مارٹرشیل، تباہ کن سرخ، گرم قوت کے ساتھ یوں پھٹا جیسے جہنم کی بھٹی کا دروازہ کھل گیا ہو۔اس نے پھٹتے ہی مہلک دھات اور کیلوں کو منتشرکرتے ہوئے اس کی ہڈیاں بکھیردیں۔
اس دھماکے کی قوت ایک چھوٹے سمندری طوفان کی مانند تھی اور ہیمنگوے الپائن رجمنٹ کے ایک درجن سے زیادہ اطالوی سپاہیوں سمیت پوری طرح دھماکے کی زد میں آگیا۔ نوجوان اوک پارکر اپنی ٹانگوں اور پیروں پربری طرح زخم کھا کرگرا اور کچھ دیر تک بے ہوش پڑا رہا۔بالآخر جب اسے ہوش آیا،اس نے اپنے آپ کو مردہ اور مرتے ہوئوں کے نیچے سے آزادکروایا۔تب ہی اس نے ایک آدمی کو ، تھوڑے فاصلے پر اپنی ماں کی خاطر،مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا۔
ہولے ہولے تکلیف سے رینگتے ہوئے ہیمنگوے اس آواز کی طرف بڑھا۔آخرکار جب مستقبل کے ناول نگار نے اس شخص کو ڈھونڈ لیا تواپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہوااورغیر معمولی قوت کے ساتھ، بری طرح زخمی اس الپینی کو اپنے کندھے پر اٹھایااور نسبتاً محفوظ اطالوی خندقوں کی طرف بڑھا۔ہیمنگوے نے ایک کے بعدایک گز اذیت ناک راستہ طے کیا، لیکن خندقوں سے دو فٹ کے اندر،آسٹریائی مشین گن کی گولیوں کا ایک طویل دورہ ہیمنگوے کی ٹانگوں کی پشت پر جا لگا۔لیکن وہ خوبصورت امریکی نوجوان ابھی ختم نہیں ہوا تھااور کسی طرح زخمی اطالوی کو مرنے سے پہلے محفوظ مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔آسٹریا کے مشین گن چلانے والے نے دوبارہ گولی نہیں چلائی؛شاید جس بہادری کا مظاہرہ اس نے ابھی دیکھا تھا،اس نے بندوق کے گھوڑے پر رکھی اس کی انگلی کو ساکت کر دیا تھا،یا شاید وہ اطالوی شدید جوابی گولیوں سے مرچکا تھا۔دونوں صورتوں میں ہیمنگوے اور نوجوان اطالوی سپاہی بچ گئے۔
جب ہیمنگوے میلان کے ایک ریڈ کراس ہسپتال میں بیدار ہوا تو اس کا استقبال ایک خوبصورت ،نوجوان امریکی نرس نے کیا جس کا نام ایگنس وان کوروسکی تھا۔انہیں جلد ہی محبت ہوگئی اور اس نے بتایا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد،وہ شادی کر کے کس طرح ہسپانیہ یا فرانس میں رہیں گے اورکیسے وہ عظیم اور مشہور مصنف بنے گا۔
’’ہاں مسٹر کڈ!‘‘ ایگنس نے جواب دیا۔
’’لیکن میں۔۔۔‘‘
’’ہاں مسٹر کڈ!‘‘
اور اگرچہ ایگنس اور ہیمنگوے کو محبت ہوگئی تھی لیکن وہ کبھی عاشق نہ بنے بلکہ ایک ہی بار میں انہوں نے شادی کی بات کی۔
جیسے ہی ارنسٹ کے زخم مندمل ہوئے اور وہ دوبارہ چلنے پھرنے لگا،اس نے اور ایگنس نے پرانا میلان دریافت کیا،چھوٹے قہوہ خانوں کے باہر کیمپاری پی،اور پارک میں بیٹھ کربدترین پیتل کا ساز بجانے والے بینڈ کو سنتے رہتے۔ یہاں تک کہ وہ اوپرا بھی جاتے اور مقامی لوگوں کی طرح ہر نغمے کی تعریف کرتے۔ایگنس نے ارنسٹ میں بڑھتے ہوئے اعتماد کو بھی محسوس کیا، ایک ایسا اعتماد جس سے وہ خود کو اہم ظاہر کرتا اور دوسروں کے ساتھ اکثرترش طریقے سے پیش آتا جس نے اسے اس سے کم مہربان اور کم سخی بنا دیا جتنا وہ اسے جانتی تھی۔یہ وہ چیزتھی جو ایگنس کو زیادہ پسندنہیں تھی۔اور پھر ارنسٹ نے کہا کہ وہ اپنے گھراوک پارک جانے کے بارے میں سوچ رہا ہے،اس کے والد اور والدہ اس کے بارے میں فکر مند ہیں، اور ایگنس نے کہا، اسے ضرور جانا چاہیے۔ اور یہ کہ وہ بھی میلان چھوڑ کر جا رہی ہے،اسے ٹریویسو میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں نئے آنے والے امریکی فوجیوں میں پیچش کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔
ہیمنگوے نے ایگنس ہینا وان کوروسکی کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا،حالانکہ اسے چند سال بعد اس کی طرف سے ایک خط بھی موصول ہوا جس میں اس نے ہیڈلے کے ساتھ شادی پر اسے مبارکباد دی اوریہ بھی لکھا کہ اسے جان کر وہ کتنا فخر محسوس کرتی ہے۔




