خوشیوں کی دکان/ افسانچہ: کنول بہزاد

میں نے ساری زندگی ایک پرائمری سکول ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت کی۔۔۔مجھے زیادہ کی چاہ کبھی نہیں رہی۔۔۔جو تنخواہ ملتی اس میں میری ضرورتیں پوری ہو جاتیں ۔۔۔گھرمیں ہم بس تین افراد تھے ۔۔۔میں، میری بیوی زینب اور ماں۔۔۔اولاد اللّٰہ نے دی ہی نہیں تو میں بھی اپنے شاگردوں کو اولاد سمجھنے لگا ۔۔۔شام کو بھی میرے کئی شاگرد گھر پڑھنے آتے ۔۔۔اماں انہیں قرآن پڑھاتیں۔۔۔ میں اور زینب سکول کا نصاب ۔۔۔یوں بچوں کے ساتھ شام بھی اچھی کٹ جاتی ۔۔۔بچے جو اس دور پرآشوب میں خدا کا معجزہ ہی تو ہیں ۔۔۔معصوم مسکراہٹیں چہرے پہ سجائے۔۔۔متجسس اور حیران نگاہوں سے ارد گرد کا ماحول دیکھتے ، مشکل سوالات پوچھتے۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بےحساب خوش ہوتے ۔۔۔روتے روتے ہنس دینے والے ۔۔۔ایسے فرشتوں کا میرے آس پاس ہونا غنیمت تھا ۔
وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا رہا ۔۔۔ماں میری ریٹائرمنٹ سے چند برس قبل ہمیں چھوڑ کر راہی عدم ہوئی۔۔۔میں ریٹائر ہوا تو احساس ہوا کہ پنشن میں گزارہ مشکل ہوگا کیونکہ گھر بھی کرائے کا تھا اور ہم میاں بیوی کو بڑھاپے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ بیماریوں نے بھی گھیر لیا تھا۔۔۔زینب نے کہا کہ واپس گاؤں چلتے ہیں ۔۔۔اولاد نہیں تو وہاں کم از کم عزیز رشتے دار تو ہیں۔۔۔کچھ نہ کچھ تو آسرا رہے گا۔۔۔مجھے اس کا مشورہ صائب لگا ۔۔۔ہم واپس گاؤں آگئے مگر ضرورتیں تو یہاں بھی تھیں۔۔۔سمجھ میں نہ آتا تھا کہ گریجوئٹی کی قلیل سی رقم سے کیا کام کیا جا سکتا ہے ۔۔۔
بہت غور کرنے کے بعد ایک روز میں نے زینب سے کہا کہ میں خوشیوں کی دکان کھولنے لگا ہوں۔۔۔
"خوشیوں کی دکان ۔۔۔؟”
زینب حیران تھی۔۔۔وہ سمجھی شاید میرا دماغ چل گیا ہے ۔۔۔
” ہاں۔۔۔بھئی خوشیوں کی دکان ۔۔۔میں بچوں کے لیے دکان کھولنے لگا ہوں۔۔۔اس میں کھلونے ، رنگ ، کہانیوں کی کتابیں وغیرہ رکھوں گا ۔۔۔یہ بچے جب اپنا من پسند کھلونا خریدتے ہیں نا۔۔۔ان کے چہرے پہ چھائی بےپایاں خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔”
” میں سمجھ گئی ۔۔۔اچھا بہانہ ڈھونڈا ہے آپ نے بچوں کے قریب رہنے کا۔۔۔ مجھے معلوم ہے آپ بچوں کا نام لگا کر اپنے لیے خوشیوں کی دکان کھولنا چاہتے ہیں ۔۔۔”
میں بھی زینب کی بات سن کر ہنس دیا ۔۔۔ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ ۔۔۔
میری خوشیوں کی دکان چل نکلی ۔۔۔کیونکہ اس سے پہلے گاؤں میں اس طرح کی کوئی دکان نہیں تھی ۔ لوگوں کی قوت خرید کو دیکھتے ہوئے میں نے قیمتیں بھی مناسب رکھی تھیں ۔۔۔ پھر بچوں کے لیے ٹافیوں کا وہ جار بڑا پرکشش تھا جس سے دکان پر آنے والا ہر بچہ اپنی پسند کی دوتین ٹافیاں اپنی بےریا مسکراہٹ کے بدلے لے سکتا تھا ۔
پھر ناجانے کیا ہوا ۔۔۔ہر سو مہنگائی کا عفریت چھا گیا ۔۔۔چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں ۔۔۔بچوں کے کھلونے ، کہانیوں کی کتابیں ، رنگ حتیٰ کہ ٹافیاں بھی پہنچ سے دور ہونے لگیں ۔۔۔دکان بھی خالی خالی رہنے لگی ۔۔۔پھر بھی میری کوشش رہتی کہ ٹافیوں کا جار بھرا رہے۔۔۔مگر اب اکثر یوں ہوتا کہ ماں یا باپ بچے کی انگلی تھامے میری دکان کے سامنے سے گزرتے تو ان کے قدم تیز ہو جاتے۔۔۔بچہ ہاتھ چھڑا کر خوشیوں کی دکان کی جانب آنا چاہتا تو اسے ڈانٹ پڑتی۔۔۔آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ میری دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے بچے تڑپ تڑپ کر رونے لگتے۔۔۔خوشیوں کی دکان دکھوں کی دکان میں بدل رہی تھی ۔۔۔اس منظر کی تاب میں کتنے دن لا سکتا تھا ۔۔۔آخر ایک روز میں نے چپکے سے دکان کو آگ لگا دی ۔۔۔اور سب پر یہ ظاہر کیا کہ یہ آگ اتفاقاً لگی ہے۔۔۔حالانکہ سچ تو کچھ اور ہی تھا ۔۔۔سب اس بات پر حیران تھے کہ تھوڑے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجود میں نے آگ بجھانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ انہیں کیا بتاتا کہ ایک معمولی آدمی یہ آگ بجھانے پر قادر ہی کب تھا ۔۔۔۔




