ادبی خبریںپاکستانیرپورٹ

رثائی ادب پر کانفرنس وقت کی ضرورت/ رپورٹ :سیدہ عطرت بتول نقوی

14 دسمبر کو رثائی ادب پر ایک بہترین کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ نے کی، جو پنجاب یونیورسٹی شعبۂ اردو کی صدر، ماہرِ اقبالیات اور اقبال اکیڈمی کی ڈائریکٹر ہیں۔ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر عرفی ہاشمی، ڈاکٹر ازور شیرازی، ڈاکٹر ارسلان راٹھور اور جاوید حسن شامل تھے۔

تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد نعت کا نذرانۂ عقیدت احسان علی حیدر نے پیش کیا۔ نعت کے اشعار کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد حسنین زیدی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر بابر زیدی نے انجام دیے۔

تمام مقالہ نگاروں نے رثائی ادب پر بہترین مقالات پیش کیے۔ رثائی ادب کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی، میر انیس کے کلام کی خوبصورتی کا ذکر ہوا اور ان کے کلام میں موجود استعارات اور تلمیحات پر گفتگو کی گئی۔ کاظم ناصری نے میر انیس کے کلام سے چند بند سنا کر خوب داد سمیٹی۔ اس کے بعد خدائے سخن میر تقی میر کے مرثیوں پر بھی بات ہوئی۔ مرثیوں کے اشعار پر شرکاء بھرپور داد دیتے رہے۔

مقالہ نگار اس بات پر متفق تھے کہ مرثیے صرف غم و الم کا بیان نہیں بلکہ حریت، شعورِ انسانی کی بلندی، جبر کے خلاف مزاحمت، بہادری اور رضائے الٰہی سے جڑے رہنے کا اظہار ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔ تمام شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ ایسا جامع اور مؤثر صدارتی خطبہ انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ نے ہر مقالہ نگار کے مقالے پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ انہوں نے ہر مقالے کا ایک ایک لفظ توجہ سے سنا ہے۔ رثائی ادب پر ڈاکٹر بصیرہ کی معلومات واقعی حیرت انگیز تھیں۔

انہوں نے کہا کہ برصغیر کے مرثیہ نگاروں نے عربی اور فارسی اثرات کو محض نقل نہیں کیا بلکہ درد و غم کو جس طرح محسوس کیا، اسی طرح فطری انداز میں بیان کر دیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے نہایت خوبصورت گفتگو کی اور میر و سودا کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک نہایت قرینے اور سلیقے سے منعقد کی گئی محفل ہے، جس نے اس تصور کو بھی غلط ثابت کر دیا کہ لوگ سنتے نہیں۔ کانفرنس کے دوران کئی گھنٹوں تک پن ڈراپ سناٹا رہا اور سامعین پوری توجہ سے سنتے رہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تعریف کی کہ انتظامیہ میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ اس کانفرنس میں شرکاء کا ذوق و شوق آخر تک برقرار رہا۔ یہ ایک علم و ادب سے بھرپور کانفرنس تھی، جس کے انعقاد پر منتظمین لائقِ تحسین ہیں۔

شرکاء میں ڈاکٹر زرین صاحبہ، جو ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی استاد ہیں، بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ فرح رضوی، رخشندہ بتول، روما رضوی، احمد صفی اور علم و ادب سے وابستہ دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔ کئی مہمان کراچی اور دوسرے شہروں سے تشریف لائے تھے۔ پروگرام کے بعد چائے کا عمدہ انتظام تھا۔ کامیاب کانفرنس پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی گئی۔

 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x