نظم

نثری نظم / غلام شبّیر راجڑ

نثری نظم

 

یونیورسٹی کی وہ خوبصورت لڑکی

 

اور اک ناتمام تجربہ…

 

ہم،

شعبۂ حیوانیات کی نیم تاریک تجربہ گاہ میں

زندگی کو کاٹ کر،

سنجیدہ آنکھوں سے

موت کا تجزیہ کرتے تھے۔

مگر وہ —

وہ جیتی جاگتی،

کسی تتلی کی مانند

میری سنجیدگی میں رنگ بھرتی جاتی۔

 

مردہ مینڈک کی بے جان آنکھیں،

کلو رو فارم کی مدھم سی بے خودی،

فورمالین کی کاٹتی خوشبو،

اور تجزیے کے آلات،

 

وہ نمونے پر سوئیاں چبھوتی

تو میں سوچتا:

کاش کوئی میرے جذبات کو بھی

یوں ترتیب دے دیتا۔

 

خوردبین کے عدسے میں

کبھی اعصابی خلیے دیکھے،

کبھی اُس کی پلکوں کی لرزش —

کبھی کبھی

فرق کرنا مشکل ہو جاتا تھا

کہ میں تحقیق کر رہا ہوں،

یا محبت۔

 

معاون بارہا ٹوکتا:

"باز آؤ!

یہ تجربہ گاہ ہے،

نہ کہ خوابوں کی جگہ!”

مگر خوابوں کو کون تجربے سے روکتا ہے؟

 

ایک دن،

جب اُس نے ننھی مچھلی کا جسم چاک کیا،

اپنی انگلی کاٹ بیٹھی —

میں نے اُس وقت

کسی جاندار کی موت سے زیادہ

اُس کی چوٹ پر آنکھیں بھیگتے دیکھی تھیں۔

 

پھر وقت…

سورج کے زرد پرزے چنتا

خاموشی سے گزر گیا۔

 

اور وہ —

ایک دن چلی گئی،

مگر جاتے جاتے

مُڑ کر یوں دیکھا

جیسے کوئی سپاہی

جنگ پر روانہ ہونے سے پہلے

اپنے آنگن کو آخری بار تکتا ہے 

 

اب میں اکثر

اس تجربہ گاہ کی خالی میز پر

اپنی آنکھیں رکھتا ہوں،

جہاں کوئی تجربہ مکمل نہ ہو سکا۔

بوتلوں میں بند یادیں،(پریسر ویڈ اسپیسئمن)

زنگ آلود اوزار،

اور ایک سوال:

کیا اُسے بھی

کبھی میری یاد آتی ہو گی،

جیسے مجھے

ہر روز اُس کی یاد آتی ہے؟

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x