خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں میں 11 عسکریت پسند مارے گئے: فوج/ اردو ورثہ

پاکستان فوج کے مطابق جمعرات کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ چار علیحدہ علیحدہ جھڑپوں میں 11 عسکریت پسند مارے گئے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعے کو بتایا کہ خفیہ معلومات پر مبنی پہلا آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران، سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق اسی علاقے میں ایک اور علیحدہ آپریشن کے دوران، سکیورٹی فورسز نے مزید تین شدت پسندوں کو مار دیا۔
ایک تیسری جھڑپ شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں ہوئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے دو عسکریت پسندوں کو مؤثر کارروائی میں مار دیا۔
چوتھا آپریشن ڈی آئی خان کے علاقے درابن میں کیا گیا، جہاں ایک شدت پسند مارا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ تمام عسکریت پسند مختلف شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ علاقے میں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس (سینیٹائزیشن) آپریشن جاری ہیں۔
ملک میں شدت پسندی کی لہر میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہیں۔
گذشتہ ہفتے 21 مارچ کو خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں پاکستانی طالبان کے مختلف حملوں میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار جان سے گئے اور چھ زخمی ہو گئے۔
ان حملوں کی ذمے داری تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی تھی جس نے مارچ کے وسط میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ’موسم بہار کی مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اس کے بعد سے یہ گروپ خیبر پختونخوا، جو افغان سرحد کے ساتھ واقع پہاڑی علاقہ ہے، میں 80 سے زائد حملوں کی ذمے داری قبول کر چکا ہے۔
اے ایف پی کے اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ صوبہ بلوچستان میں رواں سال کے آغاز سے اب تک ریاست کے خلاف شدت پسندوں کے حملوں میں 170 سے زائد افراد کی جان جا چکی ہے جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار تھے۔
بلوچستان میں رواں ماہ ریل گاڑی کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ حکام کے مطابق اس واقعے تقریباً 60 افراد جان سے گئے جن میں سے نصف وہ علیحدگی پسند تھے جو اس حملے میں ملوث تھے۔
گذشتہ سال تقریباً ایک دہائی کا سب سے خونریز سال رہا، جس میں پاکستان میں ہونے والے حملوں میں 1600 سے زائد لوگوں کی جان گئی جن میں سے تقریباً نصف سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ یہ اعدادوشمار اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز نے جاری کیے۔
پاکستانی حکومت کا الزام ہے کہ کابل اپنی سرزمین سے سرگرم ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا جو پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم طالبان حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔




