خواب ، مَیں جس میں ہُوں / رفیق سندیلوی
خواب ، مَیں جس میں ہُوں
خواب، مَیں جس میں ہُوں
میرا انعام ہے
میری سوغات ہے
دیکھئے یہ مرا دن ہے
جو سارے عالَم سے ہے مختلف
دیکھئے یہ مری رات ہے
جو کسی سے مماثل نہیں
کون سی نعمتِ خاص ہے
جو یہاں مُجھ کو حاصل نہیں
تُم نے جو لا کے رکھا ہے انبار
اپنے تحائف کا
اپنے علاقے کے سارے صحائف کا
جو نور و ظلمت کا
اندر کی باہر کی وحشت کا منشور ہیں
ایک دستور ہیں
معذرت میں انہیں پڑھ نہیں پاؤں گا
مَیں مہذّب زبانوں کا ماہر نہیں
مَیں تو گونگا ہُوں
اپنی زباں تک نہیں جانتا
گالیاں باپ دادا کی دوچار ہی یاد ہیں
ماں کی بولی تو کب کی فنا ہو چکی
خُود فراموشئ گُفت میں
اب مَیں اُس منزلِ فکر پر ہُوں جہاں
لفظ کیڑے مکوڑے ہیں
مفرور ہیں
وُہ بھگوڑے ہیں
جن کو پکڑنا
کمندِ سماعت کے بس میں نہیں
یہ صحائف اُٹھا لیجئے
یہ تحائف اُٹھا لیجئے
نُقرئی و طلائی، یہ تمغے
یہ پُھول اور گجرے
ستاروں بھرا تھال
ہیرے جواہر کا یہ طشت
اور فُسوں کار یہ ارغوانی صُراحی
یہ سب کچھ اُٹھا لیجئے
جائیے مَیں یہاں اپنے حُجرے میں
کتنے قدیمی زمانوں سے چلتے ہُوئے
عصر در عصر
اک خوابِ خوش رنگ میں
اپنی نظموں کے آہنگ میں
سَر سے پا تک شرابُور ہُوں
اپنے مے خانۂ ذات میں
مَیں ہی مَیں ہُوں فقط
اور صدیوں کی گہری خموشی میں
میرا کھنکتا ہُوا جام ہے
خواب، مَیں جس میں ہُوں
میرا انعام ہے!



