انگاروں کی بارش / علی محمد فرشی
انگاروں کی بارش
’’پہاڑوں کے
اُس سلسلے سے پرے
کچھ نہیں۔۔۔!
آسماں بھی وہیں تک ہے
جس کو سہارا ہوا ہے
پہاڑوں نے
ہاں۔۔۔!
آسماں سے اُدھر تو
بہت کچھ ہے
جنت، جہنم،فرشتے، خدا
اور حوریں!‘‘
وہ حوروں کی پیکر تراشی میں
ریشم بیانی سے
رنگوں کے ایسے ہیولے بناتی تھی
جومیرے خوابوں کے باغوں میں
پریوں کی مانند پرواز کرتے!
مگرآسماں کی کہانی
وہ جب بھی سناتی
انھی چند چیزوں کے بارے بتاتی
مجھے تو ہمیشہ یہی خوف رہتا
کہیں آسماں سے جہنم
نہ گر جائے نیچے
زمیں پر!
کہانی کے اندر
کہانی کوایسے چھپاتی تھی
جیسے کئی کائناتیں ہوں لپٹی ہوئی
کائناتوں کے اندر!
وہ جب چاہتی
اک نئی، ان کہی داستاں
اپنے ہونٹوں کی گولائیوں سے
غبارے بنا کر اُڑاتی!
بہت یاد آتی ہے
چہرہ بھی جس کا زمانے کی
گردش میں جانے کہاں کھو گیا
وقت کا دیو اُس کو اڑا کر
کہاں لے گیا ہے؟
پہاڑوں کی ماں ایک سفلی گپھا میں!
مجھے یاد ہےوہ کہانی
خبیثہ کا عفریت جس میں اُڑا لے گیا تھا
وہ شہزادی جس کی کہانی میں
خوشحال ملکوں کے
خوش باش لوگوں کے قصے تھے
جادو کا فن اُس نے
ساری رعایا میں بانٹا ہوا تھا
وہ مٹی سے سونا اگاتے
سمندر کی بوندوں سے موتی بناتے
وہ پھلدارباغات ایسے لگاتے
جو سب موسموں میں پھلوں سے
جھکے جاتے مخلوق کے سامنے
ہاں مگر!
یہ بھی شاید رسیلی کہانی تھی،جادو تھا
اُس کے لبوں کا!
مرے دیس پر بھی تو جادو گروں کی
حکومت ہے صدیوں سے !
ہم پر مسلط ہیں
خوں چوسنے والی جونکیں
نحیف اس قدر ہو چکے ہم
کہ دلدل سے باہر نکلنے کی خواہش بھی
اب سر اٹھاتی نہیں!
میں اُسے ڈھونڈنے
دیو کی قید سے
اُس کو آزاد کرنے کے
خوابوں میں گم تھا
جہنم مرے شہر پر جب گرا!




