پھولوں کی جمالیات / انتخاب و ٹائپنگ :- احمد نعیم
پھولوں کی جمالیات / انتخاب و ٹائپنگ :- احمد نعیم
ہندوستانی جمالیات
مثلاً وہ پھول جو صبح میں کھلتے ہیں دن بھر کی عبادت
کے لیے جمع کیے جاسکتے ہیں اور وہ پھول جو دوپہر میں کھلتے ہیں انھیں شام کی عبادت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے -!
یاسمن، واکولا، پن ناگ، نند باورت وغیرہ کا تذکرہ ملتا ہے اِسی طرح پتوں اور پتوں میں تلسی، کارپورلیکتکا، دامان وغیرہ کے نام ملتے ہیں عبادت کے لیے عوامی ذہن نے اپنے احساسِ جمال کے مطابق، کدم پن ناگ، ناگ لِلنگا، یاسمن چمپا، کارویرا جیسے پھولوں کو پسند کیا تھا جو آج بھی مختلف نام کے ساتھ موجود ہیں اور مندروں کی زینت بنتے ہیں عوامی شعور نے پھولوں اور پودوں کی خوشبوؤں اور اُن کے رنگوں اور پیکروں سے گہری دلچسپی کا اظہار کرکے اپنے احساسِ جمال کو ہمیشہ نمایاں اور ظاہر کیا ہے -!!
ہندوستانی اسطور میں پھولوں اور پودوں کی بڑی اہمیت رہی ہے کنول ہمیشہ ایک پسندیدہ بھی رہا ہے جو رفتہ رفتہ انتہائی معنی خیز علامت بن گیا – لکشمی اور کنول ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کئے جاسکتے -!
بدُھ کے پیکروں کے ساتھ بھی یہ پھل موجود ہے
بُدھ ازم میں اُسے ایک معنی خیز علامت بنا دیا ہے – یوگ شاستر اور تانتر نے اُسے جو اہمیت دی ہے ہمیں اُس کا علم ہے عوامی قصّوں اور گیتوں میں کنول ہمیشہ اہم رت رہا ہے – "ہندو مسٹی نیرم ” میں بھی اُسے اہمیت حاصل رہی ہے – دیویوں کے ساتھ پھولوں اور ڈالیوں کا تصور ہمیشہ وابستہ رہا ہے – وشنو پوران Vishnu Purana میں انَدر اور کرشن کے تصادم کی جو دلچسپ کہانی ملتی ہے – اس میں خوبصورت سحر انگیز پھولوں سے لدے ہوے درخت پاری جات PARIJATA کو مرکزی حیشیت حاصل ہے کرشن اپنی رفیقہ حیات سَت بھاما کے ساتھ اندَر کی جنت میں آتے ہیں سَت بھاما چاہتی ہیں کہ جنت کے باغ میں لگا ہوا وہ دلفریب درخت جو پھولوں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے انھیں حاصل ہو جائے یہ درخت انھیں اپنی سحر انگیز کیفیتوں سے متاثر کرتا ہے پھولوں کا سحر یہ ہے کہ کوئی عورت انھیں اپنے بالوں میں سجا لے تو اُسے اپنے شوہر کی محبت ہمیشہ حاصل رہے گی اور پھلوں کا جادو یہ ہے کہ انھیں کھا لیا جاے تو اپنے وجود کی پچھلی تمام کہانیاں یاد آجائیں اُن کی گزارش پر کرشن "پاری جات” کو جڑ سے اکھاڑ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اندَر کی جنت میں ہلچل سی آجاتی ہے – اندَر اپنی تمام قوتیں صرف کر دیتا ہے لیکن ناکام ہو جاتے ہیں – کرشن "پاری جات” کوئے گرود پر سوار اپنے باغ میں آ جاتے ہیں جہاں یہ درخت تمام موجود درختوں میں مرکزی حیشیت حاصل کرلیتا ہے – ہندوستانی اسطور میں انَدر کی جنت کی جو مختلف تصویریں ملتی ہیں اُن میں درختوں، پھولوں اور پھلوں کے مناظر قابل توجہ ہیں – میرو MERU کی چوٹی پہ اندَر کا محل ہے میرو کی پہاڑی کو دھرتی کے مرکز پر محسوس کیا گیا ہے – ہر جانب خوبصورت اور جاذب نظر باغ ہیں کہ جہاں دنیا کے تمام پھلوں اور پھولوں کے علاوہ بض انتہائی سحر انگیز پھل اور پھول بھی ہیں – پھولوں کی خوشبوؤں سے سارا ماحول خلق ہوا ہے اپسرائیں سحر انگیز پھولوں کے گرد رقص کرتی ہیں موسیقار کے نغموں سے پھولوں پر عجیب کیفیت طاری رہتی ہے موسیقی اور پھولوں کے آہنگ میں پراسرار رشتہ قا ہے – یہ شہر جیسے وشو کرما Vishu Karma نے بسایا ہے محلوں کی دیواریں کو قیمتی ہیروں سے سجایا دیا ہے تخت قیمتی پتھروں سے روشن ہے بعض پھول سونے کے مانند چمک رہے ہیں
پودوں میں سوم "SOMA مرکزی حیثیت رکھتا ہے – وید منتروں کے مطابق سوم دیوتا ہے جو سوم رس کی علامت” رگِ وید "کے نویں باب میں ایک سو چودہ نغمے سوم کی نذر کیے ہیں اُن کے علاوہ بھی کئی منتر سوم سے منسوب ہیں بعض منتروں میں سوم خالق کے پیکر میں ابھرتا ہے – تمام دیوتاؤں کا جنم اُسی کی وجہ سے ہوا ہے – اندر سوم کی عبادت کرتا ہے – اس لیے کہ وہ تمام رسموں کا سرچشمہ ہے – ویدوں کے مطابق سوم کا پودا کسی پراسرار پہاڑ سے حاصل ہوا کہ جیسے اندَر نے قبول کیا بعض منتروں کے مطابق سوم راجا” گندھارواؤں” کے درمیان رہتا ہے جو راجا اندَر کی جنت کے دیوتا ہیں سوم پودے کو حاصل کرنے اور پینے کے لیے پہلے دیوتاؤں میں بازی لگتی ہے
رگ وید میں یہ پودا انتہائی متحرک اور معنی خیز پیکر بن جاتا ہے – جو زندگی کا ضامن ہے صحت اور مسرتیں عطا کرتا ہے – جمالیاتی انبساط بحشے ہوے زندگی کا مفہوم سمجھا جاتا ہے تمام قوتوں اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے انسان کے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرتا رہتا ہے – ابدی روشنی اور عظمت کی علامت ہے
وشنو پوران نے سوم کے مفہوم کو تبدیل کر دیا اور سوم چاند کے پیکر میں ڈھل گیا ستاروں اور سیاروں کے درمیان نور پھیلانے والا چاند __! سورج میں اگنی کی خصوصیات ہیں تو چاند میں سوم کی
پودوں اور درختوں میں تلسی، نیم ،پیپل، وات (انجیر) دلوا (جنگلی سیب) اور ورقا گھاس اور کوسا گھاس کے ننھے ننھے پودے اپنے جمال کے ساتھ مقدس بن گئے ہیں –
پھولوں، پودوں، درختوں اور رنگوں کی جمالیاتی قدروں کا بھی، سماجی ، تاریخی، کردار ہے، معاشی زندگی سے بھی ان کا گہرا با طنی رشتہ ہے، جمالیاتی قدروں میں انسانی یا سماجی رشتوں کی پہچان ہوتی ہے، احسن یا جمال انسانی تجربوں سے علیحدہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، اس کا تعلق انسان اس کی آرزووں اور تمناؤں اور اس کے سماجی رشتوں سے ہے، رد و قبول اور لین دین کے عمل میں جمالیاتی قدروں کے سماجی کردار کی پہچان ہوتیگ ہے، انسان نے جانوروں پھولوں پودوں اور درختوں کی تصویریں بنا کر اپنے وجود کا احساس پیدا کیا ابتدائی تخلیقی فکر عمل نے اپنے ماحول کی جمالیاتی عکسی کی ہے
ہندوستانی جمالیات جلد نمبر 1
شکیل الرحمن بابا سائیں




