کہانیکہانیاں

جادوئی سڑک /تحریر: تنزیلہ احمد

 

سر سبز پہاڑی سلسلے کے دامن میں ایک وادی تھی۔ خوب صورت و سحر انگیز وادی کے عین وسط سے ایک سڑک گزرتی تھی۔ یہ سڑک خاص مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی۔ سڑک کے دونوں اطراف اونچے لمبے پیڑ پودے تھے۔ یہاں سال بھر سبھی رنگوں کے خوش نما پھول کھلتے۔ پھولوں کی مسحور کن خوشبو ہوا کے ساتھ رقص کرتی رہتی۔ سڑک کنارے ایک قطار میں پرانی طرز کے قمقمے نصب تھے۔ یہ چمکتے قمقمے کئی رازوں کے امین تھے۔ اپنی روشنی سے یہ ان مسافروں کو راستہ دکھاتے جو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی ہمت رکھتے تھے۔

اس جادوئی سڑک سے ایک بار دو مسافروں کا گزر ہوا۔ ان کی آنکھوں میں کئی اچھوتے خواب تھے۔ وہ اپنے دھیان میں مگن چلتے رہے۔ ان کے قدم مخالف سمت میں اٹھ رہے تھے۔ لڑکے کی فطرت میں تجسس اور مہم جوئی تھی۔ اس کے کندھے سے چمڑے ایک بستہ لٹکا تھا۔ اس میں کئی انوکھے خواب اور راز تھے۔ لڑکا طلوع ہوتے سورج کی پہلی کرن کا پیچھا کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں رات میں جگمگاتے ستاروں سی تھیں۔ اپنے آباؤ اجداد سے اسے زندگی کے کئی انمول راز ملے تھے۔
مسافر لڑکی کے بال سنہری اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اس کے پاس سنہری جلد والی ایک پرانی کتاب تھی۔ کتاب میں لڑکی کے قبیلے کی ان کہی کہانیاں اور انوکھے خواب تھے۔ لڑکی غروب آفتاب کی آخری مسکراہٹ کی تلاش میں تھی۔

جب دونوں مسافر ایک دوسرے کے پاس سے گزرے تو ان کی نظریں ٹکرائیں۔ لمحہ بھر کے لیے خوشبو ہوا میں بکھر گئی۔ حوصلہ افزائی کے انداز میں سر ہلا کر دونوں مسکرا دیے۔ لڑکی نے سرگوشی کی:
"دعا ہے کہ آپ کا جادوئی سفر حیرت انگیز ثابت ہو۔”
"آپ کا بھی۔۔۔” لڑکے نے کہا۔
ہوا پھولوں کی خوشبو سے مہکنے لگیں۔ سڑک کنارے لگے قمقمے بھی مسکرا دیے۔ دونوں مسافر اس بات سے بے خبر تھے کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ اندھیرے میں چھپا ایک پراسرار سایہ ان پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ وہ ان کے خواب چرانے اور ان کی روشنی کو تاریکی میں بدلنا چاہتا تھا۔ سایے نے کالا منتر پڑھا اور ہوا میں پھونک دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قمقمے ٹمٹمائے اور پھول مرجھانے لگے۔

خطرے سے بے خبر دونوں مسافر آگے بڑھنے لگے۔ اپنے اپنے راستے پر چلتے ہوئے وہ ٹھٹھک گئے۔ یک دم انھوں نے خود کو تاریک جنگل میں پایا۔ ان کے سامنے خار دار راستوں کی بھول بھلیاں تھیں۔
دونوں کو راستہ بھٹکا کر سایہ خوشی سے چلایا:
"آہا! میں نے دو شاندار روحوں کو ان کے انوکھے خوابوں سمیت ہمیشہ کے لیے بھٹکا دیا۔”
ایک لمحے کے لیے لڑکا اور لڑکی گھبرا گئے۔ وہ پراسرار سایے کی موجودگی اور ارادے بھانپ چکے تھے۔ اپنے خوابوں کو وہ اس سفاک سے بچانا چاہتے تھے۔
لڑکے کو اندھیرے سے وہشت تھی۔ تاریکی سے گھبرا کر وہ چلانے لگا۔ وہ منہ کے بل گرنے ہی والا تھا کہ اس کے بستے میں سرسراہٹ ہوئی۔ اک خواب دھیمی روشنی کی صورت بستے سے نکلا۔
"پیارے لڑکے! تم حیرت انگیز خوبیوں کے مالک اور بہت بہادر ہو۔” اس نے سرگوشی کی۔
ادھر لڑکی بھی خوف زدہ تھی۔
اسی وقت سنہری کتاب کا ایک صفحہ پلٹا۔ ایک شاندار خواب نے لڑکی کو تھام لیا۔
مجھے سچ کر دکھاؤ۔ تم کر سکتی ہو پیاری لڑکی!” خواب نے التجا کی۔
دونوں معصوم روحیں ہلکے سے مسکرائیں۔
"ہم ہار نہیں مانیں گے” وہ بولے۔
دل میں آئے وسوسے جھٹک کر انھوں نے عزم و ہمت کا سہارا لیا۔ وہ راستہ تلاش کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اسی جد وجہد میں ان کے راستے ایک بار پھر مل گئے۔ اس بار کی ملاقات ان کے لیے باعث خوشی تھی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ ایک موقع ہے جو تقدیر نے دیا ہے۔ وہ ایک ساتھ تاریک جنگل میں راستہ تلاشنے لگے۔ اپنے خوابوں کی سرگوشیوں کی مدد سے بالآخر وہ بھول بھلیوں سے باہر نکل آئے۔ دونوں کچھ دیر بعد ایک جادوئی چشمے کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چشمے کا پانی دودھیا روشنی سا تھا۔
پانی کو دیکھتے ہی وہ سمجھ گئے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔ جیسے ہی انھوں نے پانی کو چھوا، ہر سو تیز روشنی پھیل گئی۔ اس روشنی نے پراسرار سایے کے جادو کی کاٹ کر دی۔ جیسے ہی منتر کا اثر ختم ہوا، دونوں مسافر پھر سے جادوئی سڑک پر آ گئے۔ سڑک کنارے لگے قمقموں کی روشنی بحال ہو گئی۔ ہر رنگ کے پھول پھر سے کھل اٹھے۔ ہوا گلاب اور موتیے کی میٹھی خوشبو سے مہکنے لگی۔
یہ سب دیکھ کر پرسرار سایہ غصے سے بل کھانے لگا۔ وہ اندھیرے سے نکل کر پھنکارتا ہوا لڑکا لڑکی کے سامنے آ گیا۔ دونوں اپنے خوابوں کی انگلی تھام کر مضبوطی سے کھڑے رہے۔ ان کے دل اپنے عزم و حوصلے کی طاقت سے بھرے تھے۔ اپنے انوکھے خوابوں کے دم پر انھوں نے پراسرار سایے پر کاری وار کیا۔ وہ ٹکڑوں میں بٹا اور ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ قمقمے پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو گئے۔ مہلک جادوئی طاقت ختم ہو چکی تھی۔

تبھی جادوئی سڑک پر ایک ساتھ چلتے ہوئے دونوں نے افق میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کا سنگم دیکھا۔ یہ کتنا حیران کن منظر تھا۔ ان کے لیے یہ واضح پیغام تھا کہ وہ ہر صورت اپنے خواب پورے کرنے کے اہل ہیں۔ لڑکے نے لڑکی کو اپنے بستے سے زندگی کا اہم راز نکال کر بطور تحفہ دیا۔ لڑکی نے خوش ہو کر لڑکے کو اپنی کتاب سے ایک خوب صورت خواب دیا۔ دونوں اپنے دل کو ہر وسوسے سے پاک کر چکے تھے۔ کسی اور خواب کو پورا کرتے ہوئے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے وہ اپنے اپنے راستے چل دیے۔ وہ مثال تھے کہ خوابوں کی طاقت کے سہارے ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ دونوں مسافروں نے اپنا سفر جاری رکھا اس سمت جہاں حیرت، اسرار اور انوکھے خوابوں کا راج تھا۔

Author

Related Articles

Back to top button