
جارج نے جب سے جل پری کے بارے میں اخبار میں پڑھا اور نیٹ پر سنا تھا اس کا دل مچل رہا تھا کہ وہ بھی جل پری کو قریب سے دیکھے ، کیونکہ یوٹیوب پر جو تصویر دیکھی تھی اس کے مطابق وہ
بہت لمبی ، دیو ہیکل مگر حسین چہرے والی جل پری تھی، جس کا مرمریں دلگداز بدن اور لمبی مخروطی انگلیاں تھیں اس کی سڈول کمر اور نرم ملائم جلد تھی
جس کے بال بھی لمبے کالے اور چمکدار تھے، پتہ نہیں وہ کیسے مر گئ ،اللہ جانے مرکر ساحل پر آپہنچی یا کسی اندورنی زخم کی وجہ سے تیر نہیں پارہی تھی اور تیز لہروں نے اسے ساحل پر لا پٹخا، لہریں تو لوٹ گئیں مگر اس کا وجود واپس نہیں جاسکا، بہرحال کچھ بھی ہوا ایک حسین منفرد مخلوق اب اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکی تھی،
مگر اس کے چاہنے والوں کا سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ جس ساحل پر وہ مردہ پائی گئی اس پر عوام کے جانے پر پابندی لگادی گئی تھی ، اب ڈن نام نہاد عاشقوں سے کوئی پوچھے اس حسین بلا کے مرنے پر اتنا واویلا کیوں ،؟ اس نے کونسا تم سے شادی کرنی تھی یا تمھارے گھر میں رہنا تھا,
لیکن جارج کا دل اس حسینہ کے لیے مچلا جارہا تھا،
لہذا اس نے سوچا کہ جب اسے موقع ملا وہ بار سلونا جائے گا،
سپین کے ایک چھوٹے مگر خوبصورت علاقے میں رہنے والے جارج نے اپنی زندگی کی چار دہائیاں آوارہ گردی اور بے کار کے عشق معاشقوں میں گزار دی تھیں ، نہ شادی کی نہ ڈھنگ سے نوکری جب بھوک بڑھتی تو چھوٹی موٹی نوکری کرتا اور کچھ دن دل لگا کر کام کرکے اتنے پیسے کما لیتا کہ اگلے دس دن آرام سے کھالے گھر تو اس کے باپ کا تھا ایک کمرہ چھوٹا سا باورچی خانہ، واش روم اور ایک چھوٹا سا سٹور ،اس کے لیے اتنا کافی تھا، جارج میں عجیب سی کشش تھی ، وہ دیکھنے میں خوبصورت بھی تھا اور صاف ستھرا بھی ،اکثر خواتین اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتیں کیونکہ جس طبقے میں وہ رہتا تھا وہاں کے نناوے فیصد مرد غلیظ رہتے اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہوتا تھا، بلکہ جسم اور سانسوں کی بدبو کسی بھی قسم کے رومانی جذبات پیدا نہیں ہونے دیتی تھی ، جارج ایک پیشہ ور مکینک تھا اگر وہ ٹک کر کام کرتا تو شاید ایک بہترین ورکشاپ کھول سکتا تھا مگر وہ ایک ماہ سے زیادہ لگاتار کام کرہی نہیں سکتا تھا ، اس لیے وہ اکثر ہائی وے پر کھڑا ہو جاتا کہ کسی کی گاڑی خراب ہو تو اپنا ہنر دکھائے اور منہ مانگے پیسے مانگ سکے ، اسے کئ بار اچھے پیسے ملے عام گاڑی ٹھیک کرنے سے دو تین گنا زیادہ ، کبھی کبھار اس کا داؤ لگ جاتا اور وہ اچھا پیسہ کما لیتا پھر اسے ہائی وے کے ریسٹورنٹ کا کھانا بہت پسند تھا کیونکہ وہاں سے اکثر امیروں کی بڑی بڑی گاڑیاں گذرتی ،اچھے ریسٹورنٹ کو دیکھ کر تھوڑی دیر آرام کے لیے ضرور رک جاتیں ،
لیکن جب سے جارج کو بار سلونا جانے کی دھن سوا ہوئی تھی اس نے اپنی آمدنی بڑھانے کا سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا تھا، بہت واقعی اتنے پیسے کمانا چاہتا تھا کہ بار سلونا جا کر اپنی محبوبہ
” جل پری "کی تلاش کرسکے کچھ دن سوچوں میں غرق رہ کر جارج کو محسوس ہوا کہ اگر وہ کوئی ٹیکنیک استعمال کرے تو دو چار گاڑیاں روز کی ٹھیک کر کے بہت اچھے پیسے کما سکتا ہے، اس کے ذہن میں شیطانی خیال آیا کہ دو چار باریک سی کیلیں سڑک پر ڈال دے تاکہ گاڑی پنکچر ہو اور وہ ٹھیک کرنے کے منہ مانگے دام مانگے ، اس نے اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئےایک شام کو سورج ڈھلنے کے بعد چپکے سے سڑک پر کیلیں ڈال دیں ، اور پھر ہر دس بیس منٹ کے بعد آنے والی گاڑی پنکچر ہونے لگی ، اس رات تک اس نے کم ازکم سات گاڑیوں کے پنکچر ٹھیک کیے اور ریسٹورنٹ سے اپنی پسند کے پرانز اور کیکڑے کھائے ،
ریسٹورنٹ کے مالک پال نے بھی محسوس کیا کہ جارج کا وہاں ہونا بہت فائدہ مند ہے ، جب گاڑی خراب ہوتی ہے تولامحالہ گاڑی کے مالک کو کچھ دیر سستانے کا موقع مل جاتا، ریسٹورنٹ سے نکلنے والی گرم چائے ، کافی کی خوشبو ، مسافروں کو اس طرف کھینچ لاتی تھیں پھر مختلف سینڈ وچز دیکھ کر ان کو بھوک لگنے لگتی، سینڈوچ کھانے کا موڈ بن ہی جاتا ،ابھی وہ اشتہا انگیز کھانا کھارہے ہوتے ، اتنے میں گاڑی ٹھیک ہوجاتی ،ان کو مکینک کی مہارت اور پھرتی بھی پسند آتی ۔۔پھر ان کو اس جگہ اکثر آنے کی عادت پڑنے لگتی بس ایک نفسیاتی اثر تھا ریسٹورینٹ کی آمدنی پڑھانے کے لیے ، جارج جان چکا تھا کہ پال بھی چاہتا ہے کہ جارج وہاں کام کرے کیونکہ
ایکدنن ریسٹورنٹ کے مالک نے کہا ،
” جارج ! تم میرے لیے خوش قسمت ہو ، تمھارے کام کی مہارت گاہکوں ہر اچھا اثر ڈالتی ہے اور تمھاری وجہ سے میرا بھی فائدہ ہوتا ہے ، تم روز میرے ساتھ ناشتہ کیا کرو ،اور جتنے گاہک تم بھیجو گے ہر گاہک پر تمھیں کمیشن دوں گا ، جارج کی یہ چال بہت کامیاب رہی ، وہ گاڑی ٹھیک کرنے سے پہلے مسافروں کو عزت واحترام کے ساتھ پال کے ریسٹورینٹ میں بیٹھنے کو کہتا ،جیسے یہ ریسٹورینٹ بھی اس کا ہی ہے ،کچھ لوگ منع بھی کرتے تو وہ انہیں سمجھاتا کہ کام لمبا ہے کھڑ ے کھڑے تھک جائیں گے، یا وہاں سے کرسی منگوا دیتا ،یہ وہ اشارہ ہوتا کہ پال کا ویٹر خود بخود اس مسافر سے آرڈد لینے آجاتا ،بسا اوقات جارج کسٹمر کی مالی حالت کا اندازہ لگا کر کرسی منگوانے کے ساتھ ساتھ خود ہی کافی سینڈوچ کا آرڈر دے دیتا، کسٹمر خوش ہوجاتا ،کہ مکینیک مفت میں کھلا رہا ہے جبکہ جارج اس سے اپنے کام ، اور اس آرڈر کے علاوہ بھی رقم اینٹھ لیا کرتا تھا، آمدنی بڑھی تو دھیرے دھیرے جارج نے اپنی چال ڈھال وضع قطع بلکل ہیرو کی طرح کر لی ، صاف ستھرے کپڑے ہلکی سی خوشبو اور مہکتی سانسیں ، سڑک پر کیلیں ، ریسٹورنٹ میں گاہک کا آنا ، اگر خاتون ہوتی تو جارج کا انتہائی مہذب ہو کر گنگنانا ، سب اتنا بہترین ہوتا کہ کئ خواتین جارج کو پیسے بھی دیتیں اس کے ساتھ ریسٹورینٹ میں اسے ڈٹ کے کھانا بھی کھلاتی اور رات کو اپنے ساتھ بھی لے جاتیں ، جارج واقعی مزے میں تھا ، اس نے گھر کو پینٹ کروایا ،پرانا فرنیچر کاٹھ کباڑ سب ختم کرکے جدید فرنیچر ڈلوایا ، سٹور روم جو کمرے جتنا ہی تھا اس کو بھی صاف ستھرا کرکے اسے بھی ایک اچھا کمرہ بنا دیا ، اگر کوئی رات کو رہنے کے لیے مانگتا تو ایک رات کا کرایہ بھی اسے مل جاتا ، گھر کا پچھلا حصہ جو خالی پڑا تھا جہاں صرف خاردار جڑی بوٹیاں تھیں اسے بھی لان کی شکل دے دی، وہاں اس نے دو کرسیاں اور ایک میز رکھ دی تھی ، جہاں وہ چاندنی رات میں لطف اندوز ہوسکتا تھا ، الغرض ایک معقول صاف ستھرا گھر دو کمرے ،ایک کچن ایک واش روم جس میں ٹھنڈے گرم پانی کا انتظام تھا ، ہفتے میں دو تین مرد رات گزارنے آہی جاتے تھے ، بسا اوقات کوئی نیا نویلہ جوڑا بھی گاڑی خراب ہونے کی صورت میں ایک رات پر کمرہ کرائے پر لے لیتا،
کچھ لوگ رات کو اس کے ساتھ رہتے اور اس سے گپیں بھی لگاتے ، جام بھی لنڈھاتے ، جارج کے پاس پیسے جمع ہونے لگے تھے اس نے دو تین سال میں کافی رقم اکٹھی کر لی تھی کیونکہ چالیس سال کی عمر میں وہ سیر کرنا چاہتا تھا اپنے ملک کی سیر کرنا تو اس کا حق تھا ،
انہی دنوں ، ایک شادی شدہ جوڑا اس کے گھر رات کو رہنے آیا کیونکہ گاڑی خراب تھی ، جارج نے ٹھیک کرنے کے کافی پیسے اور وقت مانگا تو رات کو رہنا ہی تھا ، جارج نے پہلی بار اتنی پیاری خاتون دیکھی تو اس کے دل میں بھی خواہش ہوئی کہ اس کی شادی ہوتی ، لیکن ایسا ممکن نہیں تھا اس کی نیت خراب ہوگئ مگر وہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے میں ناکام رہا گاڑی ٹھیک کرتے ہوئے اس نے دیر لگائی پیسے بھی کافی زیادہ بتائے اور مجبور کیا کہ وہ دونوں آرام سے سوجائیں مگر جوڑا لان میں جاکر چاندنی رات سے محظوظ ہونے لگا
انہوں نے آرڈر کردیا
ویٹر نے تین چار چکر لگائے کبھی سینڈوچز ،کبھی سی فوڈ کبھی چائے، کبھی بلیک کافی،
جارج کی عزت کا مسئلہ تھا ریسٹورنٹ والے نے جارج کی اور جارج نے اس کی بہت تعریف کی تھی اب اناکا مسئلہ بھی سر پر سوار تھا ویٹر کے دو تین چکر لگانے کی وجہ اسے پیغام بھجوانا تھا کہ کام جلدی کرو ، تاکہ بھرم قائم رہے ، رات دس بجے کے بعد گاڑی مکمل ٹھیک ہوگئ اس نے اصرار کیاکہ آج رات یہیں رک جائیں ، لیکن کوئی بہانہ کام نہیں آیا، چاندنی رات ، گاڑی ٹھیک ،
پیٹرول فل اور پیٹ بھی ، اتفاق سے جانا بھی کچھ میل دور ہی تھا ، جارج کی ہتھیلیاں جل رہی تھیں وہ خوبصورت نازک اندام لڑکی اس کے اعصاب پر سوار ہونے کے باوجود صاف بچ کر نکل گئ ،
جارج کو پہلی بار احساس ہوا کہ اسے دیکھتے ہی اس لڑکی سے محبت ہوگئ ہے،
اس دن کے بعد اس کا دل وہاں نہیں لگا ،کچھ دن جبرا” کام کیا پھر اس نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ عرصے گھر بند کرکے کہیں دوسرے شہر قسمت آزمائے ،بلکہ جو جمع جتھا ہے اسے لے کر دو تین ماہ گھوم پھر آئے پھر اس نے وہی کیا اپنا لاکر کھولا سارے پیسے نکالے اپنے کپڑے جوتے اور تمام سامان سوائے دو لحاف گدوں کے کچھ نہ چھوڑا اٹیچی کیس میں بھرا ، تالا لگایا، ریسٹورنٹ والے کو کہہ گیا کہ کچھ دنوں میں آجائے گا ، جارج کو گھر اور شہر چھوڑے دو ہفتے ہوگئے تھے ، اس نے مسلسل ٹرین پر سفرکیا اور اس سفر میں اس لڑکی کو اپنے ساتھ محسوس کرتا رہا ، باہر کے نظارے اسے خوشگوار احساس دلاتے رہے دوسرا فائدہ سفر اور سیر ساتھ ساتھ جب بار سلونا اترا اور اسے کچھ دن کے لیے ایک ریسٹورنٹ کے مالک کے گھر کرائے پر رہنا پڑا تو اس نے پھر وہی حربہ اپنا یا ، اس ریسٹورینٹ کے مالک کا نام ولیم تھا ، ولیم بہت جہاندیدہ انسان تھا، لمبے چوڑے جثے کا مالک ، بندہ شناس، اس نے پہلی ہی نظر میں انگلش فلموں کے ہیرو نما مرد جارج کے تیور بھانپ لیے وہ سمجھ گیا کہ وہ اس بندے سے کام کے سکتا ہے ،
ولیم نے جارج سے اچھا سلوک کیا
پہلے دن جب وہ ولیم کے ڈھابے پر پہنچا تو وہ گھر کرائے پر لے کر سارا دن سوتا ہی رہا جب شام کے سائے لمبے ہونے لگے،سورج غروب ہونے کے قریب پہنچا تو دروازے پر دستک ہوئی اتفاق سے جارج اسی وقت جاگا تھا اس نے دروازہ کھولا تو ایک نو عمر لڑکا سامنے پایا
جارج نے اس سے آنے کا سبب پوچھا تو اس نے بہت اچھے انداز میں جواب دیا کہ ” جناب میں رابن ہوں اور ولیم صاحب کے ریسٹورینٹ میں ویٹر ہوں ،ولیم صاحب نے آپ کو ڈنر کی دعوت دی ہے آپ ان کے مہمان ہیں لہذا میں آپ کو لینے آیا ہوں ، آئیے ساتھ چلیں”
جارج کو خوشگوار حیرت ہوئی
اس نے کہا” تم چلو میں کچھ دیر میں خود پہنچ جاؤں گا ”
رابن مسکرایا اور کہا ” جیسے آپ کی مرضی ”
پھر جارج گرم پانی سے نہا کر ،صذف کپڑےپہن کر راستے میں خوشبو اڑاتا ہوا ولیم کے پاس پہنچ گیا ،اسے دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ موثر مکینک ہے ،
جارج مسکراتا ہوا ڈھابے میں داخل ہوا ،ولیم سے ہاتھ ملایا اور اس کو دعوت پر بلانے کے لیے شکریہ کہا
پھر ولیم اورجارج نے ایک ساتھ کھانا کھایا،
کھانا واقعی لذیز تھا، دونوں نے تقریبا ” ایک گھنٹہ خوب باتیں کیں، ایک دوسرے کے پیشہ وارانہ معمولات کو سمجھا اور ایک دوسرے کے تعاون پر زور دیا، گفتگو سنجیدہ لیکن دلچسپ انداز میں کی گئ
بلکہ جارج کو محسوس ہوا کہ ولیم ، پال سے زیادہ کاروباری مزاج کا حامل ہے اور وہ باقاعدہ ڈیل کرنے کا خواہاں ہے ، اگرچہ جارج نے اسے اپنی ترقی کا راز نہیں بتایا تھا کہ وہ کیا حربہ استعمال کرتا ہے جو اتنی گاڑیاں وہ ٹھیک کرکے خوب پیسہ کمانے میں کامیاب ہوگیا، تھا لیکن اس نے یہ بتایا کہ پال بہت رحمدل تھا اور وہ گاہک بھیجنے کا کمیشن بھی دیتا اور صبح وشام کا کھانا بھی مفت میں دیتا، اچھا دوست بھی تھا،
ولیم پال کی نسبت کرخت تھا لیکن مناسب کمیشن دینے کا وعدہ اس نے بھی کیا ،اور اس نے ایک خاص آفرکی ،جو بہت زبردست تھی
ولیم نے کہا کہ کمیشن کی رقم لے لیاکرو یا کرائے کے ضمن میں کٹوا دیا کرنا، یہ بات جارج کے دل کو لگی کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ پندرہ دن میں ہی کرایہ پورا کر لیا کرے گا اور اسی کمیشن سے کھانا بھی کھا لے گا،جبکہ جو پیسے وہ گاڑیاں ٹھیک کرکے کمائے گا وہ بھی اس کے ہوں گے۔۔ جارج نے خوشی سے ولیم سے ہاتھ ملایا اس کی دعوت اور آفر کا بہت گرم جوشی سے شکریہ ادا کیا اور گھر پہنچ کر لمبی تان کر سوگیا،
صبح نو بجے وہ سڑک پر تھا اور سب سے نظر بچا کر پرانا حربہ اختیار کیا، اس نے ریسٹورنٹ کے سامنے کیلیں پھینک دیں جو گاڑی گزرتی، وہ خراب ہوجاتی ، اس کا پنکچر وہی لگاتا ، سابقہ طریقہء واردات کی طرح یہ بھی کامیاب رہا ، ایک ہی دن میں ڈبل گاہک ڈھابے پر آئے تو ولیم حیران ہوگیا کہ جارج کے ہنر اور مہارت اتنے مؤثر ہیں کہ ایک گھنٹے کا کام آدھا گھنٹے میں ہوجاتا ہے اور
اس ریسٹورنٹ کے وہمی مالک ولیم نے اسے اپنے لیے مبارک سمجھا ، دو ماہ بعد کھانا فری ہوگیا کمیشن کے ذریعے کرایہ پہلے ہی ادا ہوریا تھا ، اب اس کی اپنی آمدنی ، کمیشن اور لذیز کھانا سب میسر تھا روز گاڑیاں پنکچر ہوتیں ریسٹورنٹ میں لوگ بیٹھتے کھاتے پیتے اور پیسے دونوں کو ملتے ، دو ماہ سے زائد ہو چلے تھے کہ جل پری کی پرانی خبر نے جارج کو پھر سے بے چین کردیا ، جارج نے پھر ساحل پر جانے کا فیصلہ کیا کہ آخر ایک ہی تو نہیں اور بھی تو جل پریاں ہوں گی ، اگر ایک ساحل پر آئی تو باقی بھی اس کی تلاش میں ضرور آتی ہوں گی یا پھر کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوجانے کی امید دل میں شدید تر ہوگئ ،
جارج کا اپنا مفروضہ تھا کہ اس کی لگن اور جل پری کی محبت ایکدن اسے جل پری سے ملوا دے گی وہ بھی زندہ جل پری ،، جبکہ کچھ ممکن نہیں تھا وہ محض اتفاق تھا کہ جل پری ساحل پر آئی ، کچھ لوگ تو اسے محض جعلی خبر سمجھتے تھے کہ عقل نہیں مانتی کہ انسان نما مچھلی جو آدھی عورت اور آدھی مچھلی کی طرح ہو ، سب کو معلوم ہے کہ وہیل مچھلی انڈے نہیں ںچے دیتی ہے وہ بہت لمبی اور بڑی ہوتی ہے اس کی لمبائی میلوں کے حساب سے اور وزن ٹنوں کے حساب سے ،لیکن وہ واضح مچھلی ہی تھی اس میں انسانوں والی کوئی جھلک نہیں تھی لیکن جارج کے دماغ میں جانے کیا بس گیا تھا جو نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا جبکہ وہ انتہائی چالاک مرد تھا اور جس طرح وہ کمائی کرتا تھا اچھے اچھوں کو علم نہیں ہوسکا تھا
جارج کا خیال تھا جو وہ سوچتا ہے ،اس پر عمل کرتا ہے تو کامیاب ہوجاتا ہے ، اسے کبھی تنگی نہیں ہوئی تھی لہذا اب اپنی منزل مقصود پانے میں بھی اسے بالکل مشکل نہیں ہوگی ، ساحل بھی یہاں سے زیادہ دور نہیں تھا ، اس نے یہ بات محسو کر لی تھی کہ صبح نو بجے کی بجائے رات کو زیادہ مسافر آتے ہیں ، اور جب اس نے ولیم سے کہا ” کہ میں سوچ رہا ہوں ہوں کہ اس ریسٹورینٹ کو اگر ہوٹل بنا دو کچھ کمرے بھی کرائے پر دے دیا کرو تو ممکن ہے آمدنی دوگنا کی بجائے تین گنا ہوجائے ، "” ولیم اس بات سے بہت خوش ہوا
اس نے جواب میں کہا "”ریسٹورینٹ کے ساتھ ہی اس کا گھر ہے اس میں چار کمرے ہیں , کیا وہ مناسب رہیں گے ”
جارج چہک کر بولا ” واہ اس سے اچھا اور کیا ہوسکتا ہے ”
اب جارج نے ایک چالاکی اور کی کہ وہ کیلیں شام کو ڈالتا ، اس پر لازمی دو تین گاڑیاں خراب ہوجاتیں اور جارج کسٹمرز سے کہتا
"”لمبا کام ہے اس وقت مشکل سے ختم ہوگا
آپ رات کمرے میں گزاریں ، صبح تک تیار ہوں گی ”
اکثر کسٹمرزجارج کی باتوں میں آجاتے اور چاروں کمرے فل ہوجاتے ، جب کسٹمرز گرما گرم کھانا کھا کر اونگھنے لگتے تو انہیں کمرے میں شب گزاری کی دعوت دی جاتی ،جسے وہ نیند کے غلبے کے باعث فورا ” قبول کرلیتے
جبکہ جارج سارا کام آدھے گھنٹے میں ختم کرکے اپنے گھر سونے چلا جاتا، صبح اٹھ کر کسٹمرز کو گاڑیاں تیار ملتیں اور وہ ناشتہ بھی اسی ریسٹورینٹ سے کرکے خوشی خوشی چلے جاتے کچھ تو رابن کو بھی ٹپ دے جاتے جس سے رابن بھی خوش ہوجاتا،
رات کو وہ خوب داؤ لگاتا ، پیسے کماتا ،رات سو کر صبح ساحل پر چلا جاتا دوپہر سے پہلے گیارہ بجے تک واپس اس جگہ آجاتا ، اس کے انتظار میں ایک دو گاڑیاں کھڑی ہوتیں،
اس نے جب سے ساحل پر سورج کی کرنوں کا رقص دیکھا تھا وہ اس منظر کا بلکل دیوانہ ہوگیا تھا ،اس کی کوشش ہوتی کہ صبح سویرے ہی وہاں پہنچ جائے اور سورج کی روپہلی کرنیں سمندر پر پڑتیں،تو دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ سونا بہہ رہا ہے، ساحل پر ریت کے ذرے ہیرے موتی کی طرح چمک رہے ہیں ، اس نے ریسٹورنٹ پر کام کرنے والے ایک لڑکے کو پنکچر لگانا سکھا دیا تاکہ اگر وہ لیٹ ہو جائے تو گاڑی کم از کم پنکچر کی وجہ سے نہ رکی رہیں ، لمبا کام ہوگا تو وہ آکر کرہی دے گا،
گھر سے دور تین ماہ سے اوپر ہوگئے تھے۔ گھر کی یاد آرہی تھی لیکن یہاں جل پری تو نہ ملی ، مگر سورج کی چمکتی کرنیں جو سارے سمندر کو سنہرا کردیتی تھیں، اس منظر نے اس پر سحر طاری کر رکھا تھا، اب وہ عجب کشمکش کا شکار تھا، پیسوں کا مسئلہ تو تھا ہی نہیں ،ایک طرف بند گھر دوسری طرف جل پری سے ملنے کی تمنا ، پھر ساحل پر سنہرا پانی اور ہیرے موتی جیسے ریت کے ذرات ، جب چاندنی راتیں ہوتیں ، جوار بھاٹا،لہروں کو چاندد سے ملانے کی کوشش کرتا، اوع شوخ چنچل لہریں بھی خوب اچھل اچھل کر اپنے محبوب چاند کو گلے لگانے کی خواہاں ہوتیں ان کی تیز تیز اچھل کود سے سمندر کی تہوں میں سکون سے بیٹھے گھونگھے موتی اور رنگ برنگ مونگے ساحل ہر آجاتے ، پھر ساحل پر چھوٹی بڑی سیپیوں کا ڈھیر جمع ہوجاتا تھا ، کچھ سیپیاں تو بے انتہا بڑی اور خوبصورت ہوتیں اور ساحل پر روز کی مٹر گشتی نے اسے ایسی سیپیوں سے نواز دیا جنہیں صدف کہتے ہیں جن میں سچے آبدار موتی ہوتے ہیں جن کی خوبصورتی اور قیمت دونوں ہی بیش بہا ہوتی تھی، کئ موتی اس نے جمع کر لیے اور ان کی قیمت کا تخمینہ لگوایا تو وہ بھی کافی زیادہ تھا اس نے سوچا موتی جمع کرکے ہار بنوائے گا اور اپنی شادی پر بیوی کو رونمائی میں تحفہ دے گا،پھر خیال آیا جمع کرکے واپس اپنے پرانے گھر لے جاکر شادی کرکے عیش سے زندگی گزارے گا بوقت ضرورت یہ موتی بیچا کرے گا
الغرض جارج کا دماغ مختلف اسکیمیں سوچتا رہتا خیال بنتا ادھیڑتا رہتا، بہرحال وہ جمع ہی کر رہاتھا کیونکہ ابھی تو تین چار ہی ملے تھے ،
پھر سیپیوں کی شکلیں اور سائز اسے بہت اچھے لگتے ،
اسے خیال آیا کیوں نہ انہیں مختلف رنگوں سے رنگ دے اس نے دو تین پیارے سے رنگ خرید لیے ، ہلکے سے برش ، سیپیاں رنگنے لگا ، ان کو ہار کی شکل میں پروتا یا خوبصورت سی کنگن کی شکل دے دیتا ، کلائی کے مطابق اس کو چھوٹا بڑا کرنے کی مناسبت سے بناتا، اور پھر سیاحوں کو بیچنے لگا ،اس کام میں بے شک کافی محنت تھی مگر دلچسپ بہت تھا دو تین ہار کنگن بھی بک جاتے تو اس کی دہاڑی لگ جاتی اس دن گاڑیاں ٹھیک کرنے کے معاوضے ،کمیشن اور ان سیپیوں کی کمائی مل کر تین چار گنا ہوجاتی ، وہ ہر صبح باقاعدگی سے سیپیاں جمع کرتا ، پھر انہیں رنگتا، پھر ان پر مختلف نقش ونگار بناتا ، دوپہر تک انہیں بیچتا ، اس کی آمدنی تین چار گنا بڑھ گئ ، سیپیاں بیچ کر ریسٹورنٹ پر جاتا تین چار گاڑیاں ٹھیک کرتا سوجاتا ،پھر صبح وہی کام ، یہ جگہ تو اسے بہت راس آئی اس نے سوچا کہ اپنا گھر بیچ کر یہاں گھر لے لے
،ریسٹورنٹ کے مالک ولیم نے بھی اسے ایک گھر دکھایا ، جوخاس کے آبائی گھر سے ڈبل تھا کھلا ہوادار، سودا پکا ہونے ہی والا تھا کہ اسے خیال آیا کہ پہلے آبائی گھر تو بیچ لوں ،یہ نہ ہو کہ یہاں سودا پکا کرلوں اور وہاں گھر خالی پڑا خراب ہوتا رہے ، اگر نہ بھی بیچوں تو کم از کم کسی مناسب شخص کو معقول کرائے پر دے آؤں جس کی آمدنی میرے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہے ولیم بھی اس کی سوچ سے متفق تھا ، دسمبر کے آخری دن چل رہے تھے، سہانی چاندنی راتیں جارج کو مسحور کر رہی تھیں ،مدو جزر کا زور تھا، صبح سیپیوں کا ڈھیر ساحل پر پڑا ہوتا جب لہریں چاند کو چھونے کی کوشش میں اپنا پورا زور لگاتیں تو اپنے اندر کی سیپیاں، گھونگے سب باہر اگل دیتیں، جارج کو کئ سیپیاں ملیں جن میں چمکتے آبدار موتی تھے ، جن کی قیمت بہت زیادہ تھی ، جارج خوش تھا کہ وہ سب بیچ کر یہاں مکان خرید لے گا اور گھر بسائے گا ، لیکن اتنے عرصے میں جل پری تو کیا کوئی بڑا کچھوا بھی نظر نہیں آیا ، جارج کے ذہن میں جل پری کی جگہ اصلی پری نے لے لی یعنی ایک خوبصورت خاتون سے شادی کی خواہش انگڑائی لینے لگی ،اس نے اس رات سارا کام سمیٹا اور ریسٹورنٹ کے مالک اور دیگر لوگوں سے مل کر خوب کھایا پیا مالک نے بھرپور مہمان نوازی کی اور اس نے علاالصبح نکلنے کا فیصلہ کیا ، اس نے سامان رات کو ہی باندھ لیا صبح سویرے ناشتے کا سامان ساتھ لیا اور پہنچ گیا ساحل کنارے ،خوبصورت دلفریب منظر آنکھوں کو خیرہ کرنے والا ،وہ مبہوت رہ گیا آج تو سورج بہت تیز چمک رہا تھا سمندر بھی تیزی میں تھا، سیپیاں اکٹھی کیں ، رنگ کیا اور گاہکوں کو بیچنے لگا اور جب واپس جانے لگا تو اس نے بہت شدت سے جل پری کو یاد کیا، کچھ لمحوں کے لیے اس نے آنکھیں بند کرلیں ، اور جل ہری کے تصور میں ایسے کھوگیا جیسے وہ اس کی محبوبہ ہو ، انہی سوچوں میں گم وہ دھیرے دھیرے اگے تک پہنچ گیا جہاں سبک رفتار نیم گرم لہریں اس کے پاؤں سے لپٹنے لگیں۔۔۔۔جل پری کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اس کے گھنیرے چکمتے کالے بالوں کو اپنے شانوں پر محسوس کرتے ہووئے اس کے چہرے بہت دلکش سا تبسم پھیل گیا ،اچانک اسے خیال آیا کہ اس کا پیارا چہرہ ، اس کی نازک کمر۔۔۔ اور اس کا نچلا دھڑ تو مچھلی کی طرح ہوگا میرے ساتھ کیسے چل سکے گی ابھی ان تصورات میں گم تھا
کہ یکدم اس کے پیروں تلے کوئی بڑی سی چیز آئی،وہ اپنی خیالی دنیا سے باہر نکل آیا ، اس نے پیروں کے نیچے سے ریت ہٹائی تو ،ایک بڑا سا آئینہ لکڑی کے فریم میں جڑا ہوا الٹا پڑا تھا یعنی اس کا شفاف حصہ نیچے کی طرف تھا، اس لیے اس پر کوئی خراش تک نہ تھی ، اس نے اٹھایا الٹ پلٹ کر دیکھا، وہ بہت خوبصورت فریم میں جڑا تھا، جیسے نوادرات میں سے کچھ ہو، اس نے دائیں بائیں دیکھا کہ کسی موجودہ بندے کا تو نہیں گرا، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کسی بندے نے اسے اتنا نادر اور خوبصورت آئینہ اٹھاتے دیکھ لیا تو چھین نہ لے ،یا بدمزگی نہ ہوجائے ،لیکن اس کی حالت دیکھ کر لگتا تھا کہ کافی عرصےپہلے یہ یہاں گرا ہے یا سمندر میں گر ہوگا اب لہروں کی وجہ سے ساحل پر آگیا اور پانی کی وجہ سے اس کے فریم میں کچھ زنگ ساتھا ،جو اسے پرانا ثابت کر رہا تھا ،علاوہ ازیں یہ آج کے دور کا نہیں تھا
اس نے ارد گرد دیکھ کر اسے اپنے تھیلے میں ڈالا اور گھر روانہ ہوگیا ، لیکن اس بار اس نے سیدھا سفر کرنے کا فیصلہ کیا ،
وہ ایک طویل سفر کے بعد اپنے گھر پہنچ گیا ،چار ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا پال تو مایوس ہوچکا تھا کہ پتہ نہیں جارج کے ساتھ کیا معاملہ ہوگیا یا شاید وہ واپس نہیں پلٹے گا ،لیکن جارج کو اچانک یوں سامنے کھڑا دیکھ کر وہ نہایت خوش ہوا ،
ہائے جارج !کیسے ہو ؟
پال نے گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا
جارج بھی اسے دیکھ کر خوش ہوا
ایکدم اسے لپٹ گیا ،
کیا ہم یاد نہیں آئے تمھیں ؟
کہاں چلے گئے تھے چھوڑ کر
پال نے پھر اپنائیت بھرے انداز سے پوچھا۔۔
لیکن جارج کی تھکاوٹ کا احساس کرکے اسے تازہ دم ہوکر ملنے کو کہا،
پال نے جب گھر کی چابی جارج کو دی اور بتایا کہ
کیسے اس نےگھر میں صفائی کا انتظام برقرار رکھا
اور کئ بار کرائے دار بھی رہے اور جو رقم ان سے ملی وہ بھی پال نے بہت احتیاط سے تاریخ کے حساب سے ڈائری میں لکھ رکھی ہے
جارج بہت خوش ہوا کہ پال نے دوستی کا حق ادا کردیا
"کیا بہت لوگ رہنے آئے ؟”جارج نے پوچھا
"شروع میں تو میں نے ہر ہفتے ہی کرائے پر دیا ، مگر تیسرے ماہ مجھے لگا تم کبھی بھی آسکتے ہو ، لہذا صرف ان لوگوں کو دیا جو ایک رات کے لیے مانگتے تھے ”
پال نے بہت اعتماد سے سچ بتایا
ل”یکن اب دو ہفتے سے گھر بند ہے ",
پال نے یہ بھی بتادیا
” کیوں ؟”
جارج نے حیرت سے پوچھا
"کچھ دنوں سے چوری کی خبریں اڑ رہی تھیں تو میں نے مناسب سمجھا کہ کمرہ کرائے پر نہ دوں تاکہ تمھارا سامان چوری نہ ہوجائے ”
پال کی سادگی اور خلوص دیکھ کر جارج ایکبار پھر پال سے لپٹ گیا
لیکن اس بار پال نے کہا ” جاؤ ارام سے غسل کرو پھر یہاں اکر میرے ساتھ کھانا کھالینا ”
سورج ڈھلنے کے قریب تھا، موسم خنک ہوچکا تھا
اگرچہ جارج کو زیادہ تھکن نہیں تھی لیکن اسے تازہ دم ہونے کے لیے گرم پانی کے غسل کی اشد ضرورت تھی ،
جارج نے چابی لے کر پال کو مسکرا کر الوداع کہا
جارج نے اپنا گھر کھولا تو اس کی فضا میں بھی بساند تھی، جیسے اس کی غیر موجودگی سے گھر کی فضا بھی مایوس ہوگئ تھی ،
پال نے گھر واقعی صاف رکھا ہوا تھا
گرم پانی کا انتظام تھا ، حتی کہ شیمپو، صابن ،ٹوتھ پیسٹ، برش سب اپنی جگہ موجود تھے ،
وہ خوب نہایا ، بالوں میں شیمپو کیا ،دانت صاف کیے ،
ایک گھنٹے بعد آٹھ بجے وہ پال کے پاس ڈنر کے لیے پہنچا
پال نے اسے اس کی پسندیدہ ڈشز پیش کیں اور وہ ڈائری دکھائی جس میں کرائے داروں کے رہنے کی تاریخیں اور لی جانے والی رقم درج تھی ،
جارج نے شکریہ ادا کیا اور رقم لینے سے صاف انکار کردیا
اس نے پال سے کہا٫
"”کہ یہ رقم میرے مکان کی حفاظت کرنے کے عوض تمھیں دیتاہوں ”
پال یہ سن کر بہت خوش ہوا ،دونوں نے کھانا کھاتے ہوئے
خوب باتیں کیں ،لیکن جارج نے ساحل پر جا کر جل پری و الی بات نہیں بتائی اور نہ ہی ساحل پر جانے اور سیپیاں اکٹھی کرنے اور بیچنے کی باںت کچھ بتایا
گرم کھانا کھا کر جارج اپنے گھر جاکر تان کر سو گیا ، وہ ساری رات سویا بلکہ اگلے آدھے دن بھی سوتا رہا چودہ پندرہ گھنٹے سونے کے بعد اسے کچھ ہوش آیا ،جب اس نے وقت دیکھا تو اگلے دن کے بھی پانچ بج رہے تھے جبکہ سات بجے تو رات ہوجاتی ہے
وہ نہا دھو کر پھر پال کے پاس جا پہنچا کھانا کھایا ،پھر اپنے میلے کپڑے دھونے کے لیے بیگ سے نکالنے لگا ، کہ کپڑے دھوئے اور گھر کو پھر صاف کرے ، اسے خیال آیا کہ بس کچھ دنوں کی بات ہے پھر وہ یہ مکان بیچ کر وہیں جا بسے گا،جہاں سونا بہتا تھا ، پال کو اس نے کچھ نہیں بتایا کہ مکان بیچنے کا ارادہ ہے اور وہ مستقل بارسلونا رہنا چاہتا ہے ، جارج نے سب سامان بیگ سے نکالا اور دھونے والے کپڑے الگ کیے تو اس میں وہ آئینہ بھی نکلا، جسے وہ یکسر بھلا چکا تھا ، سامان ٹھیک کرنے کے بعد اس آئینے کو بھی کہیں لٹکانا چاہا ،
کیونکہ آئینہ کوئی بیش قیمت نوادرات میں سے لگ رہا تھا ، اتنا بڑا تھا کہ واضح نظر آسکے ،
اسے صاف کیا ،ریت کے ذرے ہٹا کر سوچا، کیوں نا اسے سٹور جو اب ایک کمرے کا روپ دھار چکا ہے وہاں لٹکایا جائے ، سٹور کی ایک دیوار پر وال کلاک تھا دوسرے پر والدین کی تصویر تیسری دیوار پر کھڑکی جو لان میں کھلتی تھی، چوتھی خالی تھی ،بس وہیں ہلکی سی کیل ٹھونکی اور لٹکا دیا ، سارا دن سونے کے بعد شام تک گھر میں ہی چیزیں ٹھیک کرتا رہا گھر صاف کیا ، کپڑے وغیرہ دھوئے رات کو کھانے کے لیے باہر نکلا ریسٹورنٹ کے باہر ایک گاڑی کھڑی تھی ، کھانا کھاکر وہ ٹھیک کی ، ساڑھے گیارہ سے اوپر ٹائم ہوگیا ، تقریباً بارہ بجے وہ گھر پہنچا اور بارہ بجتے ہی جیسے پیانو بجا ، اس کے گھر پیانو نہیں تھا ،بلکہ آلات موسیقی تھے ہی نہیں ،پیانو بجنے کی ہلکی ہلکی آواز نے اسے مجبور کیا کہ وہ سٹور میں جاکر دیکھے کہ آواز کہاں سے آرہی ہے ،سٹور میں گھستے ہی اس کی نظر آئینے پر پڑی اس کی شکل کی جگہ سیڑھیاں نظر آرہی تھیں ،اور ان پر پڑا سونا اور نقدی ، اس نے حیرت سے آئینہ اٹھا کر دیکھا ، آگے پیچھے دائیں بائیں ، کہ کوئی تصویر ہے یا کوئی عکس ، بارہ بج کر پندرہ منٹ ہوئے تو آوازیں آنا بند ہوگئیں اور آئینے میں اس کی شکل نظر آنے لگی ، وہ ہکا بکا رہ گیا کہ یہ سب کیا تھا ، پھر کچھ دیر تک سارے گھر میں پھرتا رہا نہ کوئی سیڑھی ،نہ کوئی راستہ ،نہ تصویر ، اسے دو بجے نیند آگئ اور سوتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ ایک تو تھکن اوپر بہت زیادہ کھانا کھانے کی وجہ سے اس کے دماغ پر اثرات ہیں یا غنودگی کی وجہ سے ایسے خیالات آرہے ہیں ، وہ خوب سویا ،صبح دیر سے اٹھا اور رات والا واقعہ مکمل بھول گیا ، سارا دن وہی معمول رہا رات کو دیر سے گھر گیا تو اچانک اسے رات والا واقعہ یاد آگیا ، ابھی وہ اسی شش وپنج میں تھا کہ بارہ بجے ،پیانو بجنے لگا ، بہت مدھر دھن تھی ،وہ آج ڈر گیا لیکن ہمت سے کمرے میں گیا ، وہی آئینہ وہی تصویر سیڑھی اور اس پر بکھرا سونا اور نقدی ، پندرہ منٹ بعد تصویر غائب ، جارج نے آئینہ وہاں سے اتار کر کچن میں لٹکا دیا ،اور بے فکری سے سوگیا ، سارا دن سوچتا رہا کہ دیکھیے رات کو یہ کیا نظر آتا ہے؟ ، آج وہ رات بارہ بجنے کا منتظر تھا ، رات دوستوں نے روکا کہ دسمبر کا آخری دن ہے اور ہفتہ بھی
جام کا دور چلے گا نئے سال کی خوشی میں ،
لیکن اس نے سردرد کا بہانہ کیا اور بارہ بجنے سے پانچ منٹ پہلے ہی گھر پہنچ گیا گھر میں داخل ہوا تو پیانو کی آوازیں آنے لگیں ، وہ کچن میں گیا تو ،آئینے میں سیڑھی اور سونے کی نہیں بلکہ خنجر اور اس سے ٹپکتا خون نظر آیا ، جارج کا رنگ اڑ گیا ایک لمحے اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑی ، لیکن وہ بہادر اور نڈر آدمی تھا، چھوٹی عمر سے ہی تنہا زندگی گزارنے والا ، اس نے وہ آئینہ اتارا اور اپنے کمرے میں ٹانگ دیا ، پندرہ منٹ بعد وہ آئینہ خاموش اور خالی ہوگیا۔ جارج کا سونا مشکل تھا مگر تھکن کی وجہ سے نیند نے آلیا ، صبح اٹھا فوراً آئینہ دیکھا اس کی اپنی شکل نظر آئی ،جیسے کہ ہر آئینے میں آتی ہے ، وہ پھر سارا دن کام میں جتا رہا اب اسے سڑک پر کیلیں ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ، ریسٹورنٹ کے مالک نے ایک گیرج کھول لیا تھا اب گاڑیاں خود ہی وہاں پہنچ جاتیں ، اس دن خوب کام کرنا پڑا ،کئ گاڑیاں شدید خراب حالت میں لائی گئیں جیسے کسی حادثے میں خراب ہوئی ہوں ، دو تو اس نے حیرت انگیز طور پر ٹھیک کر ڈالیں ، کہ ان کے مالکان کو بھی یقین نہیں آیا کہ صرف ایک دن میں مکمل ٹھیک جبکہ دوسرے مکینک تو دس پندرہ دن لگاتے ہیں ، خیر اسے خوب رقم ملی بلکہ اس کو چھ ماہ کا کنٹریکٹ بھی ملا ، ایکدم اتنی رقم اور کنٹریکٹ دیکھ کر اس نے گھر بیچنے کا ارادہ ترک کردیا اگرچہ سمندر کا سنہرا پانی اسے بلا رہا تھا مگر یہاں تو اس کے وارے نیارے ہوگئے تھے، وہ خوشی میں آئینےکے بارے میں بلکل بھول گیا، رات کو پہنچا تو دروازے کا قفل کھولتے ہوئے اسے پیانو کی آواز آئی وہ چونکا کہ اوہ، بارہ بج گئے وہ اپنے کمرے میں گیا اور آئینے کی طرف دیکھا تو اس کی زوردار چیخ نکل گئ ایک شخص جس کی شکل واضح نہیں تھی مگر زخمی حالت میں ہے ، بیڈ پر اوندھے منہ پڑا ہے جیسے کسی نے اس کو کر قتل کردیا ہے، تازہ خون بہہ رہا تھا ، یہ منظر دیکھ کر جارج کا خون خشک ہوچکا تھا ، اس کی نیند اڑ گئی اسے سمجھ نہیں آیا کہ آئینہ ہر روز نئ جگہ پر ٹانگتا ہے اور روز نئ تصویر سامنے آتی ہے اب یہ یہیں رہے گا ، دیکھتے ہیں آج رات کیا دکھاتا ہے ؟
جارج بہت پریشان تھا اس کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں اس نے لمبے گہرے سانس لیے پانی پیا، جنوری کی سردی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں ، اسے خیال آیا کہ پال سے اس بات کا ذکر کرے یا نہ کرے ، مگر یہ ایسی حقیقت تھی جو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا تھا نہ سمجھ سکتا تھا ،شاید بتانے سے بات بننے کی بجائے بگڑ جاتی ، اس نے ہمت سے کام لیا اور سوچا کہ کچھ دن دیکھتا ہوں واقعی وہ گھر بیچ دوں گا، پال پہلے بھی بہت اچھا تھا اب مذید مہربان ہوگیا ، اس نے کنٹریکٹ کا سن کر جارج سے ناشتے اور چائے کے پیسے نہ لینے کی خوشخبری سنائی ،اسے آزادی دی کہ جب چاہے چائے کافی پی سکتا ہے ،ویسے بھی پال کا رویہ دوستانہ تھا لیکن جب جارج پیسے دیتا وہ رکھ لیتا تھا مگر اب تو اس نے صاف کہہ دیا کہ ناشتہ چائے کافی بالکل مفت، دونوں ہی خوش تھے مگر اچانک
جارج کچھ سوچ کر چپ ہوگیا،
اس نے بارسلونا کے خیالوں میں مگن رہ کر دو گاڑیاں مزید ٹھیک کر دیں ،
رات کو تھکن اور نیند کے غلبے کی بجائے اس پر خوف طاری تھا کہ آج رات آئینے کی جگہ وہی ہے لیکن آج کیا نظر آئے گا ،؟ اس نے پیانو بجانے کے بعد آئینہ دیکھا تو خالی تھا بس خون ٹپکنے کی آواز آرہی تھی ، جیسے زمین پر قطرے گرنے سے آتی ہے ، جارج سے منظر نہیں دیکھا گیا اس نے لان میں جاکر ایک پودے پر جس کی شاخیں مضبوط تھیں، ٹانگ دیا ، اور پھر کئ دن تک وہ لان میں نہیں گیا بس رات کو بارہ بجے ہلکی سی پیانو کی آواز آتی اور وہ لحاف میں دبک کر سوجاتا، تین چار راتیں تو وہ ڈر کر ہل ہی نہ پاتا ،پھر اس کی آنکھ لگ جاتی اور صبح کے ہنگاموں میں خوف کافی حد تک کم ہوجاتا ،لیکن رات جب قریب ہوتی تو ڈرنے لگتا آخر پانچویں چھٹے دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ جاکر دیکھے تو سہی کہ لان میں کون سی تصویر نظر آئے گی ، جب وہ چاندنی رات میں لان میں داخل ہوا اس کے سارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے، پسینہ چھٹ گیا تھا ،اس نے کانپتے ہاتھوں سے آئینے کو سیدھا کیا تو اسے ایک قبر نظر آئی ،اس پر پھول پڑے تھے، آئینہ اس کے ہاتھ سے گرا اور نیچے کیاری کی اینٹوں پر گر کر چکنا چور ہوگیا ، جارج کو کرچی کرچی آئینہ دیکھ کر عجیب سا اطمینان ہوا جیسے کسی بلا سے جان چھوٹی ،وہ کمرے میں جاکر پر سکون سونے لیٹ گیا ،
صبح ایمبولینس کی آواز نے اس علاقے کو سوگوار کردیا، کسی چور نے ساتھ والے گھر کی سیڑھیوں سے کود کر جارج کا بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا تھا تیز دھار خنجر سے سینے پر وار کیا تھا اور صبح تک قطرے فرش پر گررہے تھے چور آلہء قتل اور اس کی ساری جمع پونجی چرا کر آرام سے فرار ہوگیا تھا ،جارج کو اس کے لان میں ہی دفنا دیا گیا گلاب کے تازہ پھول ڈالتے ہوئے پال کی آنکھیں اشک بار تھیں




