
تعارف
تسنیم اختر جعفری، ایک معروف پاکستانی ادیبہ، ماہر تعلیم، اور سائنس فکشن لکھاری ہیں جو خصوصی طور پر بچوں اور نوجوانوں کے ادب میں سرگرم ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی تسنیم جعفری نے 2004 میں اپنا ادبی سفر شروع کیا ۔ وہ 25 سے زائد کتب کی مصنفہ ہیں جن میں سائنسی موضوعات، ماحولیاتی حساسیت، اور اخلاقی کہانیوں پر مبنی مواد شامل ہیں ۔
ان کی چند اہم تصانیف میں “ماحول سے دوستی”، “مریخ سے ایک پیغام”، “روبوٹ بوبی” اور ناول “پوزی اور الیکٹرا” شامل ہیں ۔ ان کی کہانیاں عام طور پر نو عمر بچوں کے لیے ہوتی ہیں، خاص طور پر ٹین ایجرز کو مدنظر رکھتے ہوئے جو سائنس فکشن اور سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔
تسنیم جعفری نے ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد قومی و فلاحی ایوارڈز حاصل کیے ہیں، جن میں “معمار وطن ایوارڈ” (2019–20)، “اخوت ادبی ایوارڈ” وغیرہ شامل ہیں ۔ 2019 میں انہوں نے ادبی ادبِ اطفال میں نمایاں کام کرنے والوں کو نقد انعامات دینے کے لیے اپنا “تسنیم جعفری ایوارڈ” بھی شروع کیا ۔وہ “ادیب نگر” پلیٹ فارم کے ذریعے نئے لکھاریوں کو انعامی مقابلوں اور ان کی تحریروں کی اشاعت کے ذریعے حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ پیش خدمت ہے تسنیم جعفری کا انٹرویو:
سوال : آپ کا بچپن کیسا گزرا؟
بچپن تو سب کا ہی اچھا اور یادگار ہوتا ہے۔ میرا بھی بہت اچھا تھا ،سب بہت پیار کرتے تھے ، خاص طور پر ابو کی بہت لاڈلی تھی ،لیکن مجھے بہت کم یاد ہے یہ باتیں امی اور بڑے بہن بھائیوں نے بتائیں کیونکہ ابو میرے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔

سوال : تعلیم کا رجحان کس طرف زیادہ تھا،ادب یا سائنس؟
سائنس کی طرف رجحان تھا ،ڈاکٹر بننا چاہتی تھی،ایف ایس سی میں نمبر بھی اچھے آئے تھےلیکن چونکہ میڈیکل کالج دوسرے شہر میں تھا اس لیے امی نے داخلہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ پھر بی ایس سی کرلیا۔
سوال : کیا لکھنے کا شوق بچپن سے تھا؟
بالکل نہیں ۔ پیدائشی آرٹسٹ تھی۔۔پینٹنگ کا جنون تھا ، اس وقت کچھ اور نظر ہی نہیں آتا تھا،نیچر سے محبت تھی بس فرست ملتے ہی پینٹنگ کرتی تھی۔
سوال : آپ نے کب اور کہاں سے لکھنے کا آغاز کیا؟پہلی تحریر کون سی تھی؟
کہنے کو تو ادب سے تعلق نہیں تھا ،لیکن سکول کے زمانے سے ہی بھانجوں بھتیجوں کو سنانے کے لیے انگلش کہانیوں کا ترجمہ شوق سے کرتی تھی، بچے کہتے تھے آپ اچھی کہانیاں لکھتی ہیں میگزین میں بھیجا کریں لیکن میں سمجھتی تھی کہ میگزین میں صرف طبع زاد کہانیاں ہی آتی ہیں، کیونکہ میں آرٹسٹ تھی اور فارغ وقت میں پینٹنگ کیا کرتی تھی اس لیے بچوں کے رسائل کبھی نہیں پڑھے تھے۔ 2003 میں پہلی طبع زاد کہانی لکھی جو سائنس فکشن تھی اور پھول میگزئن میں شائع ہوئی تھی۔
سوال: کن ادیبوں یا مصنفین سے متاثر ہویئں ؟
ویسے تو بے شمار ادیب پسند ہیں ، ہر اچھے ادیب کو پڑھ کر متاثر ہونا ایک فطری بات ہے۔لیکن میں بچپن سے ہی انگریزی ادیب آسکر وائلڈ سے متاثر تھی، سکول کے نصاب کی کتابوں میں بھی ان کی کہانیاں شامل تھیں ، اور انگریزی میرے بڑے بھائی پڑھایا کرت تھے جو انگریزی کے پروفیسر تھے، وہ اتنے اچھے طریقے سے سمجھاتے تھے کہ ادیب سے محبت ہوجائے۔میں نے میٹرک میں ہی آسکر وائلڈ کی فیری ٹیلز کا ترجمہ کرلیا تھا۔جب لکھنا شروع کیا تو لاشعوری طور پر ان ہی جیسی کہانیاں لکھنا چاہتی تھی۔ ان کے علاوہ میرے پسندیدہ شاعر علامہ اقبال تھے ان سے محبت کی وجہ بھی بڑے بھائی تھے جو اقبال کے اشعار سمجھایا کرتے تھے۔

سوال : بچوں کے لیے لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
خیال کا تو پتہ ہی نہیں چلا بس گھر کے بچوں کو کہانیاں سنا سنا کر ان ہی کے لیے لکھنے بھی لگی، شاید میرے اندر کا بچہ بہت طاقت ور تھا جس نے کسی اور طرف جانے ہی نہیں دیا۔ میں آج بھی پوری دنیا کو ایک معصوم بچے کی نظر سے ہی دیکھتی ہوں۔
سوال: اب تک آپ کی کتنی کتب شائع ہوچکی ہیں؟پہلی کتاب کب شائع ہوئی؟کچھ تفصیل بتایے؟
میری 26 کتب شائع ہوچکی ہیں جو زیادہ تر سائنس فکشن پر مبنی ہیں اور بچوں کے لیے ہیں۔ پہلی کتاب ماحولیات کے حوالے سے بچون کے لیے ایک شارٹ ناول تھا جو یونیسکو کاایک پراجیکٹ تھا،اسے 2012 میں اردو سائنس بورڈ نے شائع کیا تھا۔دوسری کتاب سائنس فکشن کا مجموعہ تھی اسے بھی اردو سائنس بورڈ نے شائع کیا تھا۔ اسکے علاوہ علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور سیرت النبیﷺ پر بھی کتب لکھی ہیں، ایک چین کا سفر نامہ بھی لکھ چکی ہوں۔خواتین کے لیے منظوم خراج تحسین”میرے وطن کی یہ بیٹیاں ” کے نام سے لکھا، اور سائس کے میدان میں کام کر رہی پاکستانی خواتین کے انٹرویوز اور مختصر سوانح پر ایک کتاب”منزل ہے جن کی ستاروں سے اگے”بھی لکھی جسے بہت پسند کیا گیا۔بچوں اور نو جوانوں میں منشیات کی عادت پر بھی ایک ناول لکھا جسے یو بی ایل ایورڈ ملا۔
میری سائنس فکشن پر دو ایم فل کے مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں۔
سوال : بچوں کے ادب میں کیا مشکلات درپیش آتی ہیں؟
مجھے تو کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ بہت زیادہ پزیرائی ملی۔ بس یہی آرزو ہے اور مشن بھی کہ بچوں کا ادیب بھی اتنی ہی ترقی کرے اور اہم سمجھا جائے جتنا کہ بڑوں کا ادیب سمجھا جاتا ہے۔

سوال : آج کے بچوں کے لیے لکھتے وقت کیا چیز ذہن میں ہونی چاہیے؟
سوال : سائنسی موضوعات پر لکھنا کتنا چیلنجنگ ہوتا ہے؟
سائنس ایک رویہ ہے جسے عام کیا جانا ملک کی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ ہمارے ہاں تو کوئی وبا پھیل جائے یا ماحول خراب ہوجائے عوام کو کچھ سمجھ ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے۔
مجھے سائنسی موضوعات پر لکھنا کبھی مشکل نہیں لگا بلکہ اچھا لگتا ہے۔ میں خود سائنس کی طالب علم تھی تو دیکھتی تھی کہ کلاس کے کچھ بچوں کو سائنس کا مضمون برا لگتاتھا کیونکہ انہیں سمجھنے میں مشکل پیش آتی تھی، بس تبھی سے ذہن میں تھا کہ کوئی ایسا طریقہ ہو کہ بچوں کو سائنس پڑھنا مشکل نہ محسوس ہو۔، اس کا سب سے بہتر طریقہ سائنسی کہانی لگا کہ کہانی ہرکوئی شوق سے پڑھتا ہے اور اس میں بتائی گئی بات اسانی سے سمجھ اجاتی ہے۔
چونکہ ذہن میں آئیڈیاز بھی سائنسی موضوعات پر آتے تھے اس لیے پہلی ہی کہانی سائنس فکشن لکھی، جس کا موضوع ٹائم ٹریول تھا۔ وہ کہانی پھول میگزین میں بھیجی تو اس کے ایڈیٹر صاحب نے بہت تعریف کی اور کہا کہ ایسی ہی کہانیاں آج کی ضرورت ہیں۔ بس پھرسائنس فکشن کو ہی پکڑلیا، کیونکہ کہانی کی صورت میں سائنسی یا کسی بھی مشکل موضوع کو آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ دیگر موضوعات پر بھی لکھا لیکن زیادہ سائنس فکشن کو اہمیت دی۔

سوال : کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اردو زبان میں سائنسی ادب کو فروغ دینا ممکن ہے؟
جی بالکل، کیوں نہیں۔ ہمارے سینئر لکھاریوں نے بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ، بلکہ پاکستان بننے سے پہلے بھی اردو ادب میں سائنس فکشن کافی لکھا گیا۔ آج تو سائنسی ادب کو عام کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، اور بچے بھی ایسے ہی موضوعات پسند کرتے ہیں۔
سوال :تعلیم اور ادب کے ملاپ کو آپ کیسے دیکھتی ہیں؟
تعلیم کے ساتھ ادب بھی بہت ضروری ہے ، یہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں
بڑھاتا ہے۔ ایسی کہانیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے ذریعے بچوں کو اپنی نصابی کتب کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ تعلیم صرف معلومات دینے یا مہارت بڑھانے کا نام نہیں بلکہ انسان کی سوچ ،فہم ، کردار اور احساس کی بھی تعمیر کرتی ہے، یہ تعمیر مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ادب اس کا حصہ نہ ہو۔ تعلیم کے ذریعے ہم بولنا اور لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں ،لیکن ادب ہمیں زبان کا حسن ، بیان کی تاثیر اور الفاظ کی چاشنی سے روشناس کراتا ہے ، یہ طلبا کے قوتِ اظہار کو نکھارتا ہے، کردار سازی کرتا ہے اور ان کے تخیل کو پرواز دیتا ہے۔

سوال : لکھنے کے علاوہ اور کیا مشاغل ہیں؟
اب تو لکھنا ہی سب سے بڑا اور اہم مشغلہ ہے ، جاب کی مصروفیت بھی ہے ،ٹیچنک کرتی ہوں ، اس کے بعد جو وقت ملتا ہے وہ لکھنے پڑھنے میں ہی صرف ہوتا ہے۔ یا پھر ادبی تقریبات میں شرکت۔
سوال : آپ کی فیملی کا ادبی کاموں میں کیا ردِعمل ہوتا ہے؟
سب خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ میری امی سب سے زیادہ خوش ہوتی تھیں ، خصوصاً جب کوئی نئی کتاب آتی یا کوئی ایوارڈ ملتا، سب سے پہلے ان کے ہاتھ میں دیتی تھی۔ جو بھی نئی کہانی لکھتی پہلے انہیں سناتی تھی ، وہ بچوں کی طرح خوش ہوتی تھیں اور تعریف کرتی تھیں۔ بھائی کہتے امی زیادہ تعریف نہ کریں یہ اس نے اپنی لکھی ہوئی کہانی سنائی ہے آپ کو۔
سوال : وقت کی تنظیم کیسے کرتی ہیں؟
وقت کی پابندی اور تنظیم میری زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اسی لیے ایک وقت میں بہت سے کام اسانی سے کرلیتی ہوں۔ وقت کی تنظیم ہر انسان اپنی روٹین کے مطابق ہی کرتا ہے۔

سوال : "تسنیم جعفری ایوارڈ” کا خیال کیسے آیا؟
2018 میں ایک ایوارڈ کی تقریب میں شریک ہوئی ، اس ایوارڈ کے لیے میں نے بھی اپنی کتب بھیجی تھیں، لیکن وہ ایوارڈ سینیئر ادیبوں کو ملا ، مجھے بھی دیگر امیدواروں کی طرح تھوڑی مایوسی ہوئی ، لیکن میں مایوسی کے لمحات میں بھی مثبت سوچتی ہوں ، اس لمحے بھی یہ سوچا کہ میں کیوں دوسروں کے ایوارڈ کا انتظار کروں ،کیوں نہ اپنی استطاعت کے مطابق میں بھی ایوارڈ دوں اور دوسروں کی مایوسی کو دور کروں۔2019 میں میں نے تسنیم جعفری ایوارڈ کا اجرا کیا، بچوں کے ادب پر ہر سال کیش ایورڈ اور شیلڈز دی جاتی ہیں۔ اس ایوارڈ کا اہتمام ادبِ اطفال قومی کانفرنس میں کیا جاتا ہے۔
سوال : اس ایوارڈ سے کیا تبدیلی محسوس کی؟
مجھے تو بلا شبہ بہت خوشی ہوئی تھی جب ایوارڈ یافتہ ادیبوں کو خوش دیکھا۔میں نے یہ سوچ کر اس ایوارڈ کا اجرا کیا تھا کہ یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا اور جب میں ایک سکول ٹیچر ہوکر ایک ایوارڈ کا اجرا کرسکتی ہوں تو دوسرے مخیر حضرات بھی اس کام میں اگے آئیں، اور ایسا ہی ہوا، میرے ایوارڈ کے بعد بہت سے لوگوں نے ایوارڈ کا اعلان کیا۔ پہلی تقریب میں ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب مہمانِ خصوصی تھے ،انہوں اس تقریب میں اخوت ادبی ایوارڈ کا اعلان کیا، اور پہلا اخوت ادبی ایوارڈ مجھے ہی ملا۔ اس کے بعد سے ہر سال ایک نئے ایوارڈ کا اضافہ ہو رہا ہے۔
سوال : نوجوان لکھاریوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
بہت عمدہ نئے لکھاری سامنے آ رہے ہیں، لیکن کچھ نئے لکھاریوں میں صبر اور تحمل بالکل نہیں، ان کی اگر ایک کہانی شائع نہ ہو تو ایڈیٹر کو سوشل میڈیا پر بدنام کرنے اور بد تمیزی کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ان کے لیے یہی پیغام ہے کہ بے چینی اور بے صبری سے ترقی کرنا ممکن ہی نہیں۔۔سینئرز کی عزت اور محنت سے ہی حقیقی کامیابی ملتی ہے۔
سوال : آنے والے وقت میں کیا منصوبے ہیں؟
آنے والا وقت کس نے دیکھا ہے،میں کل کے لیے نہیں سوچتی، حال میں محنت کرنے پر یقین رکھتی ہوں، آج محنت کریں گے تو کل اس کا صلہ ملے گا،
” آج جو کچھ بوئے گا ‘ کاٹے گا کل۔”
بس یہی زندگی ہے۔

سوال : کیا کوئی نئی کتاب یا سلسلہ زیرِ تکمیل ہے؟
دو کتب زیر طباعت ہیں،ایک کتاب اردو سائنس بورڈ کے لیے لکھی تھی ”چین کی ترقی میں سائنس کا کردار” اس کا بے چینی سے انتظار ہے۔دوسری کتاب مختلف لکھاریوں کی سائنس فکشن پر مشتمل ہے، یہ ایک تحریر مقابلہ تھا جو میں نے اپنے ادبی گروپ میں کروایا تھا، ان ہی کہانیوں کو کتابی شکل میں مرتب کیا ہے۔ یہ تیسری مرتب کتاب ہے جو میں نے پبلش کروائی ہے۔
سوال :چین کے حوالے سے یاد آیا کہ آپ چین بھی گئی تھیں اور پھر چین کا سفر نامہ بھی لکھا، مجھے تو آپ کا سفر نامہ بے حد پسند ہے، اس کے بارے میں قارئین کو بھی بتایے کہ چین کیسے جانا ہوااور سفر نامہ لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
میرے بھائی بہت عرصہ سے چین میں ہیں اور بھابھی بھی چینی ہیں ، وہ مجھے ہمیشہ ہی بلاتے تھے ،لیکن میں 2023 میں جاسکی، ڈیڑھ ماہ وہاں رہی، خوب گھومے پھرے اور ایک حیرت انگیز دنیا دیکھی۔ چین کی ترقی نا قابلِ بیان ہے ، سب لوگ اس حوالے سے جاننا چاہتے تھے خصوصاً ادیب دوستوں نے کہا چین کے حوالے سے کچھ لکھیں اس لیے سفر نامہ لکھا۔ پہلے میں صرف بچوں کی کہانیاں اور ناول یا پھر سائنسی مضامین ہی لکھتی تھی پہلی بار سفر نامہ لکھا لیکن قارئین نے بہت پسند کیا، اندازہ ہوا کہ پاکستانی چین سے محبت کرتے ہیں اور اس کے بارے میں سب کچھ جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔ اردوسائنس بورڈ کے ڈائریکٹر اور ان کے سٹاف کو بھی یہ سفر نامہ بہت پسند آیا اور مجھے اس حوالے سے ایک کتاب”چین کی ترقی میں سائنس کا کردار” لکھنے کے لیے کہا، موضوع تو بہت مشکل تھا کیونکہ اس حوالے سے پاکستان میں پہلے کوئی کتاب دستیاب نہیں تھی لیکن میں نے اسے بخوشی لکھا کیونکہ میں چاہتی تھی پاکستانی اس حوالے سے جانیں۔
سوال : آپ کا خواب کیا ہے جسے آپ ابھی پورا کرنا چاہتی ہیں؟
میں خوابوں پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ وہ کبھی پورے نہیں ہوتے،محنت کرنے پر یقین رکھتی ہوں، جس کام کے لیے محنت کرتے ہیں صرف اسی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بچوں کے ادب کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی وہ کر رہی ہوں۔
سوال : سیرت نبوی پر کتاب لکھتے ہوے کیسے جذبات تھے ؟
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھنا ایک بڑی سعادت ہے، کئی سال سے ارادہ تھا کہ یہ کتاب لکھوں لیکن اس کے لیے گہرے مطالعے کی ضرورت تھی ، بے شمار کتب پڑھیں خصوصاً ابنِ ہشام کی کتاب کا مطالعہ کیا جو اس حوالے سے سب سے زیادہ مستند ہے۔ اس کتاب کو لکھ کر بے حد خوشی محسوس ہوئی ، اسے میں نے حسبِ خواہش رمضان المبارک میں مکمل کیا
اور رمضان المبارک میں ہی پرنٹ کروایا،اس کی الگ سے خوشی تھی۔ سیرت پر کتاب لکھ کر اب تو یہی دل چاہتا ہے کہ کچھ اور نہ لکھوں بس یہی لکھوں اور پڑھوں۔

سوال : آپ کے ایوارڈز اور انعامات کی مکمل تفصیل؟
ویسے تو 40 سے زیادہ ایوارڈز اور شیلڈز مل چکی ہیں ، لیکن زیادہ اہم یہ ہیں
معمار وطن ادبی ایوارڈ2019 ، 15 ہزار کیش کے ساتھ۔
ابابیل ایوارڈ برائے سائنسی ادب 2020، 25 ہزار کیش کے ساتھ۔
اخوت ایوارڈ 2021، 25 ہزار کیش کے ساتھ۔
ڈاکٹر عبدالقدیرخان ایوارڈ 2021۔ برائے سائنسی ادب۔
پریس فار پیس فاونڈیشن ایوارڈ2021
یو بی ایل ایوارڈ 2022،
2 لاکھ کیش کے ساتھ۔
سر سید ایکسیلنس ایوارڈ2022
*ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ 2023، 25 ہزار کیش کے ساتھ
اپووا ایوارڈ برائے ادبی خدمات،،2024۔2021،2022۔
ڈپٹی نذیر احمد ایوارڈ2023
چلڈرن لٹریری ایوارڈ2023
پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ2023، 10 ہزار کیش
پروفیسر سید محمد مرتضی ایوارڈ2023، 20 ہزار کیش
*گڈی آپا ایوارڈ برائے ادبی خدمات2024
*نیشنل بک فاؤنڈیشن صدارتی ایوارڈ 2024، 55ہزار کیش کے ساتھ۔
پہلا خاتون جنت فاطمہ الزہرہ ایوارڈ جنوری2025، 5 ہزار کیش
پہلا مسلم کڈز ایوارڈ مئی 2025 کو 10 ہزار کیش کے ساتھ ملا۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن صدراتی ایوارڈ جون 2025 میں ملا 20 ہزار کیش کے ساتھ۔
سوال : پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ؟
میری ڈکشنری میں اپنوں سے ،اپنے ملک اور اپنے معاشرے سے گلہ ہے ہی نہیں، صرف شکر گزاری ہے کہ ہم اپنے ملک اپنے معاشرے اور اپنے خونی رشتوں کے بغیر کچھ بھی نہیں جس نے ہمیں نام اور مقام دیا۔ باقی اگر معاشرے میں کوئی خرابی یا بگاڑ کی صورت ہے تو ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں، اپنی غلطی کا گلہ کسی دوسرے سے تو بنتا ہی نہیں۔
سوال : آخر میں اپنے پسندیدہ شاعر کے بارے میں بتادیں؟ اور اپنا کوئی پسندیدہ شعر یا نظم سنا دیں؟
مجھے بحثیت شاعر اور بحیثیت ایک محب وطن پاکستانی صرف علامہ اقبال پسند ہیں ، وہ ایسے سچے مسلمان اور محب وطن تھے جو پاکستان بننے سے نو سال پہلے بھی سچے پاکستانی تھے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ انکی شہرت اور شہریت پاکستان کے حصے میں آئی۔ میں نے اقبال کی زندگی پر نوجوانوں کے لیے ایک کتاب لکھی”اک خوش نوا فقیر ” جس پر پچھلے سال نیشنل بک فاؤنڈیشن صدراتی ایوارڈ ملا۔
ان کی جواب شکوہ اور روح انسانی کا زمین پر استقبال بے مثال نظمیں ہیں جس میں ایک انسان اور ایک مسلمان کے سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے، مجھے بے حد پسند ہے۔
صرف ایک مصرع انسان کی تمام زندگی کی کاوش کا صلہ ہے :
اے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ!





