نقاب/امبر جاذب

نقاب /امبر جاذب
موسم ابر آلود تھا۔ بادلوں نے سورج کو اپنی آغوش میں چھپا کر دھرتی کو اس کے قہر سے کچھ دیر کے لئے نجات دے دی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ روشنیوں کی جگمگاہٹ، ٹریفک کا بے ہنگم شور اور گلیوں بازاروں میں لوگوں کا ہجوم شہرِ کراچی کی خوبصورتی تھا۔
وہ چہرے پر نقاب لگائے بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں گہرائی اور چمک لئے ،متانت اور سنجیدگی کے ساتھ شہر کے مشہور کیفے میں کافی دیر سے خاموش بیٹھی تھی۔ روز پانچ بجے اس کیفے میں کافی آڈر کرنا اور کچھ دیر بیٹھ کر چلے جانا اس کا معمول تھا۔ اسکی مستقل مزاجی کی وجہ سے عملہ اسے پہچاننے لگا تھا۔
"کتنی بڑی ہے ناں یہ دنیا۔ یہاں کوئی کھو جائے تو ملتا ہی نہیں بالکل ایسے جیسے صحرا میں سوئی گرنے کے بعد نہیں ملتی۔” وہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔ جب ویٹر نے کافی سرو کی۔ارحم نام کا یہ ویٹر ہی روز اس کا آرڈر لیتا تھا۔ اتنے عرصے میں دونوں کے درمیان ایک خاموش انسیت پیدا ہوگئی تھی۔ "روز ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کر آپ کس کا انتظار کرتی ہیں۔” آج ہمت کرکے ارحم نے پہلی دفعہ اسے مخاطب کیا تھا۔
"خود کا”
وہ مختصر جواب دے کر چلی گئی مگر اس کی آنکھوں کی نمی ارحم سے پوشیدہ نہ رہے سکی۔وہ الجھ گیا۔ اس کی آواز کی بازگشت اس کی سماعتوں میں محفوظ رہ گئی۔
اگلے دن وہ سراپا انتظار تھا مگر وہ دو دن بعد آئی۔ ارحم نے کافی سرو کرتے ہوئے اس کا بغور جائزہ لیا وہی مخصوص انداز، آنکھوں میں نمی اور سنجیدگی۔ ہمت کرکے اس نے اس کی خیریت پوچھی پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ وہ روز ایک آدھ جملہ کہتا وہ بھی متانت سے جواب دے دیتی۔
رات کی تاریکی نے کائنات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔ ہر طرف سناٹے اور خاموشی کا راج تھا۔ چاند بادلوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے کبھی چھپ جاتا تو کبھی اپنی چاندنی ہر سو بکھیرنے لگتا۔ آسماں کی وسعتوں میں جیسے کئی راز پنہا ہوں۔ وہ ٹکٹکی باندھے آسمان کو تک رہی تھی مگر دھیان کے پردوں پہ شام کو کیا ہوا ارحم کا سوال جھلملانے لگا۔
” آپ نقاب اوڑھ کر کیوں رکھتی ہیں؟ میں آپ کو نقاب کے بغیر اصل چہرے کے ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے؟”
"نقاب کے بغیر۔۔۔ اصل چہرہ؟” اس نے خود کلامی کی
وہ اٹھی اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھنے لگی
"کیا یہ میرا اصل چہرہ نہیں ہے؟ کیا میرے دو چہرے ہیں؟” اس نے خود سے پوچھا اور قہقہہ لگا دیا۔
ایک ہفتہ ہو گیا تھا وہ نہیں آئی تھی۔ ارحم خود کو ملامت کرنے لگا مگر آج اسے نہ جانے کیوں یقین تھا کہ وہ آئے گی۔
وہ اپنے مخصوص وقت پہ اپنی مخصوص میز پہ براجمان تھی۔ جب وہ مینو کارڈ لے کر اس کے پاس آیا۔ اس نے ہمیشہ کی طرح کافی کا آڈر دیا اور کھڑکی کی طرف منہ پھیر لیا۔
"وہ اپنے خیالوں کی بھیڑ سے نکل کر دنیا کی بھیڑ میں کھونا چاہتی تھی مگر بھیڑ خیالوں کی ہو یا لوگوں کی تلخ حقائق اور تکلیف دہ یادوں سے فرار ممکن نہیں ہوتا ہے۔”
ارحم بستر پہ آنکھیں موندے چٹ لیٹا تھا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بار بار کروٹیں بدلنے سے جسم دکھنے لگا تھا۔
” کیا عذاب ہے یہ؟ بار بار اس کا سراپا میری نظروں کے سامنے آ رہا ہے نام تک نہیں معلوم اس کا؟”
” اس نے اج ایسا کیوں کہا کہ جس دن وہ چہرے دکھائے گی میری دنیا بدل جائے گی۔” وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا الجھ رہا تھا۔
"شاید اس نقاب پوش کی جھیل جیسی آنکھوں میں ارحم بیٹا تم ڈوب گئے ہو۔”
اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کلامی کی
” اب اس قاتل حسینہ کے دیدار کے لئے کل شام تک انتظار کرنا پڑے گا۔” اس نے کچھ سوچا اور پھر بستر چھوڑ دیا۔
آج اس نے تین دن بعد کیفے کا رخ کیا۔ پچھلے تین ماہ سے اس کے معمولات میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ وہی مخصوص انداز، چہرے پہ نقاب، پر اعتماد اور بھیگا لہجہ، درد میں ڈوبی آنکھیں، وہی کونے میں پڑی میز، کھڑکی کے باہر کا منظر ایک کپ کافی اور اس کی تنہائی۔
ارحم نے آج طے کر لیا تھا کہ وہ اس سے دل کی بات ضرور کرے گا۔ بل کی ادائیگی کے بعد جب وہ جانے لگی تو ارحم نے پکارا
” نقاب پوش بات سنیں؟”
اس کے لبوں پہ پرسرار مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ کچھ لمحے یونہی کھڑی رہی پھر پلٹ کر کہا ” جی سنائیں۔”
"کیا ہمارے درمیان سے یہ نقاب ہٹ نہیں سکتا۔
وہ لمحہ بھر کو خاموش رہ گئی”
"میں نے کچھ عرض کیا ہے۔ جواب کا منتظر ہوں۔ اس خاموشی کا کیا مطلب سمجھوں؟”
” انکار۔”
وہ اس کے ایک لفظی جواب پہ ششدر رہ گیا۔ اسے انکار ہمیشہ سے ناپسند تھا۔
"مگر کوئی وجہ تو ہو گی؟”
اس نے دوبارہ سوال کیا۔
اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی موبائل کی گھنٹی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا
” میں بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔”
وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔
وہ لبوں پہ پھیکی سی مسکراہٹ لئے کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔
آج اسے ارحم کی طرف سے سالگرہ کا دعوت نامہ ملا تھا۔ ایسی ملاقات کے تو وہ انتظار میں تھی۔ وہ وقت سے پہلے ہی تیار ہوگئی۔ آئینے میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھا۔ اس نے بے بی پنک میکسی کا انتخاب کیا تھا جو اسے پانچ سال پہلے سالگرہ کے موقع پر اس کے بابا نے تحفے میں دی تھی۔ آنکھوں میں ہلکا کاجل، ہلکی لپ سٹک اور اپنے لمبے سیاہ بال حجاب میں لپٹے ہوئے تھے۔۔ آج سے پانچ سال پہلے اگر کوئی اسے دیکھتا تو یقینا یہی کہتا کہ وہ جنت سے اتری کوئی حور ہے مگر اب۔۔۔۔وہ مڑی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
اسے فام ہاؤس پہنچے ہوئے تقریباً پندرہ منٹ ہو چکے تھے۔ وہ بالکل خاموشی سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔ "آپ کا فام ہاؤس خوبصورت ہے۔” اس نے کھلے دل سے تعریف کی
"آپ سے زیادہ نہیں مادام”
اس نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہا
وہ کھل کر مسکرا دی۔
ارحم مبہوت سا اسے دیکھے جا رہا تھا یہ پہلا موقع تھا جب اس نے اس اداس اپسرا کا مزاج خوشگوار دیکھا تھا۔
"آپ اور کیفے پہ ویٹر کی جاب؟”
"وہ کیفے میرا ہی ہے۔ جس دن آپ سے ملاقات ہوئی اس دن میں نے پہلی دفعہ آپ کو دیکھا اور پھر آپ سے بات کرنے کا بہانہ تلاش کرنے لگا جب کچھ نہیں سوجھا تو میں فورا ویٹر بن گیا۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"آپ چلیں میں ایک اہم کال کر کے آتی ہوں۔” اس نے اچانک کہا اور ہجوم سے قدرے دور چلی گئی۔
کھانا سرو کرتے ہوئے اس کا ہاتھ لگا اور پانی کا گلاس سے اس کے کپڑے بھیگ گئے۔ ارحم اسے واش روم دکھانے اندر لے گیا۔ دل کی بات بتانے کا اچھا موقع تھا کہ باہر سے شور کی آوازیں آنے لگی۔ عجیب سے بھگڈر مچ گئی تھی۔
"مسٹر ارحم! پولیس نے تمہیں چاروں جانب سے گھیر لیا ہے۔ فرار کی کوئی راہ نہیں خاموشی سے سرینڈر کر دو۔”
” واٹ ربش؟” یہ کیا بکواس ہے؟” ارحم غصہ سے دھاڑا
” قتل کیس میں آپ کو گرفتار کرنے کا وارنٹ ہے ہمارے پاس۔ مزاحمت فضول ہے۔”
اسے ہتھ کڑیاں لگائی جا رہی تھی۔
"یہ سب کس نے کیا؟ کون ہے اس کے پیچھے؟” وہ چلایا
اس نے آفیسر کے اٹھے ہاتھ کی سمت دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ اتنے میں وہ اداس اپسرا قریب آچکی تھی۔
"یہ سب کیا ہے؟ کون ہو تم؟”
"فریشہ کمال حسن! آج سے پانچ سال پہلے میرے انکار کرنے پر تم نے میرے منہ پر تیزاب پھینکا تھا اور جب بابا نے پولیس کے سامنے تمہارا نام لیا تو تم نے رات کے اندھیرے میں انہیں ختم کردیا۔ یاد آیا کچھ”
ارحم کے سامنے ماضی کی کتاب کھل چکی تھی وہ ماضی جس سے وہ دور بھاگ آیا تھا۔
"پورے پانچ سال لگ گئے تمہیں تلاش کرنے میں، صرف اپنے بابا کو انصاف دلانے کے لئے میں نے پولیس فورس جوائن کی۔ تم نے کیا سوچا کہ تم چھوٹے شہر سے بھاگ کر کراچی کہ ہجوم میں چھپ جاؤ گے تو ماضی تمہارا پیچھا چھوڑ دے گا۔”
"وہ حادثہ تھا بس ایک حادثہ” وہ زور سے چلایا۔
"تم امیر زادوں کا یہی طریقہ واردات ہوتا ہے کہ اپنے جرم کو چھپانے کے لیے حادثہ کہہ کر بری الزمہ ہو جاتے ہو۔” فریشہ نے غصے سے کہا اور پولیس کو اسے لے جانے کا اشارہ کیا۔
"ایک منٹ”
ابھی وہ لوگ دروازے سے باہر نہیں نکلے تھے کہ فریشہ کی آواز پر رک گئے۔
"اپنی آخری خواہش تو پوری کرلو” فریشہ نے استہزاء سے کہتے ہوئے اپنا نقاب گرا دیا۔
ارحم دم بخود اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ بلاشبہہ اپسرا تھی۔ گزرتے وقت نے اس کے دامن اور چہرے دونوں کے داغ دھو کر اسے مصفاہ کر دیا تھا۔




