غزہ: سکول پر اسرائیلی حملے میں صحافی جان سے گیا
الجزیرہ عربی کے صحافی سامر ابو دقہ جنوبی غزہ کے خان یونس شہر میں ایک سکول پر اسرائیلی حملے کی کوریج کے دوران جان سے چلے گئے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق سامر ابو دقہ جمعہ کے روز ان کے بیورو چیف وائل دحدوح کے ساتھ خان یونس کے فرحانہ سکول پر پہلے فضائی حملے کی کوریج کر رہے تھے، جب دونوں صحافی ایک اور اسرائیلی میزائل حملے کا شکار ہوئے۔
وائل دحدوح کو ان کے بازو پر زخم آئے اور وہ ناصر ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔
تاہم ابو دقہ کئی گھنٹوں تک سکول میں پھنسے رہے۔ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کی وجہ سے طبی عملہ ان اور دوسرے متاثرہ افراد تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔
عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ سکول کے اطراف کے علاقے میں شدید گولہ باری کی گئی۔
وائل دحدوح نے خبردار کیا تھا کہ ابوداقہ ’شدید زخمی‘ ہیں۔
اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کے وسطی اور شمالی علاقوں کے بہت سے فلسطینیوں نے خان یونس میں پناہ حاصل کی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے خان یونس میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کرنے کے بعد اب بہت سے لوگوں کو غزہ کے جنوبی ترین شہر رفح کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔
یہ حملہ غزہ کے مختلف مقامات پر فلسطینی جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے درمیان ہوا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رائٹرز نیوز سروس کے مطابق رہائشیوں نے شمالی غزہ میں شیجایا، شیخ رضوان، زیتون، تفح اور بیت حنون، وسطی غزہ میں مغازی کے مشرق میں اور خان یونس کے مرکز اور شمالی کنارے میں لڑائی کی اطلاع دی۔ اکتوبر کے آخر میں وائل دہدوح نے اپنے خاندان کے چار افراد کو اسرائیلی فضائی حملے میں کھو دیا تھا۔
ان کا خاندان غزہ کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ میں پناہ کی تلاش میں تھا جب اسرائیلی فورسز نے ان کے گھر پر بمباری کی، جس میں ان کی اہلیہ ام حمزہ، ان کا 15 سالہ بیٹا محمود، سات سالہ بیٹی شام جان سے گئے تھے اور ان کا پوتا آدم، جو ہسپتال میں گھنٹوں بعد فوت ہوا۔
The press vest of journalist Wael Al dahdouh who was injured whilst covering the Israeli bombardment that targeted an UNRWA school in Khan Younis. 15.12.23
السترة الواقية للصحفي وائل الدحدوح الذي اصيب في استهداف مدرسة حيفا في خانيونس pic.twitter.com/yM8dXBgv7i
— Eye on Palestine (@EyeonPalestine) December 15, 2023
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (ایف آئی جے) نے اس حملے پر ’صدمہ‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم حملے کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کی جانوں کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔‘
گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی آئی ایف جے کی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ اس سال ملازمت پر مرنے والے صحافیوں میں سے 72 فیصد غزہ جنگ میں مارے گئے ہیں۔




