غزل
غزل /بے خیالی میں نہ جانے کس نگر میں آگئے ہیں /افتخار حیدر

غزل
افتخار حیدر
شام گہری ہوچلی ہے ، راستے دھندلاگئے ہیں
بے خیالی میں نہ جانے کس نگر میں آگئے ہیں
سب مکیں پردیس میں ہیں ،گیٹ پر تالا پڑا ہے
بیل سوکھی رہ گئی ہے پھول سب مرجھاگئے ہیں
ایک جیسی وردیاں تھیں ،اور پرچم ایک سا تھا
اُس طرف کے کچھ سپاہی ، اِس طرف کو آگئے ہیں
دلربائی دیکھیے وہ چل کے آئے ، پاس بیٹھے
بات کچھ کہنے لگے ہیں اور پھر شرماگئے ہیں
کچھ سوال ایسے تھے جن کی کھوج پاگل کرگئی تھی
واعظوں کے وعظ سن کر اور بھی چکرا گئے ہیں
افتخار اس دل کتھا میں خاص تو کچھ بھی نہیں ہے
اس سے پہلے میر صاحب بھی یہی فرماگئے ہیں




