غزل
غزل / یہ نمی خون میں نہیں ہوتی / توحید زیب
غزل
یہ نمی خون میں نہیں ہوتی
شاعری خون میں نہیں ہوتی
یہ ہنر خود کمایا جاتا ہے
عاشقی خون میں نہیں ہوتی
چند اپنی ضروریات بھی ہیں
نوکری خون میں نہیں ہوتی
حادثہ رونما ہوا ہو گا
عاجزی خون میں نہیں ہوتی
کہیں باہر سے پیدا ہوتی ہے
بے حسی خون میں نہیں ہوتی
چند موقع پرست کہتے ہیں
مخبری خون میں نہیں ہوتی
Author
URL Copied



