غزل

غزل : وہ نقش بھی جو خواب کے تئیں ملا تو کیا ہوا / عدنان منور

غزل

 

وہ نقش بھی جو خواب کے تئیں ملا تو کیا ہوا 

گُماں کی راہ پر مجھے یقیں ملا تو کیا ہوا

 

چمک دمک تو دیکھیے اسی کے دم قدم سے ہے

مکاں کو بعد مدتوں مکیں ملا تو کیا ہوا

 

میں سوچتا ہوں راہ میں زمیں کی کارگاہ میں 

نظر ملی تو کیا ہوئی نگیں ملا تو کیا ہوا

 

خدا کا شکر ہے مری تلاش ختم ہو گئی

اور آسمان بھی تہِ زمیں ملا تو کیا ہوا

 

کسی سوال کا سرا کسی جواب کا سرا

کہیں ملا تو مل گیا نہیں ملا تو کیا ہوا

 

میں خود کو ڈھونڈنے گیا ابد کی شاہراہ پر 

وہ شخص بھی وہیں ملا وہیں ملا تو کیا ہوا

 

ہمارے بیچ ہونے والی رنجشوں کے باوجود

نہال ہو کے وہ مجھے کہیں ملا تو کیا ہوا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button