غزل
غزل/کچھ روز عشق خوب دہائی مچائے گا/افتخار حیدر

غزل
افتخار حیدر
کچھ روز عشق خوب دہائی مچائے گا
پھر میری داستان زمانہ سنائے گا
سایہ سا ایک بال بکھیرے گا صحن میں
آئینہ ایک چھت پہ کھڑا مسکرائے گا
لَوٹا ہے کامیاب جو ہر رزم گاہ سے
وہ بھی محاذِ شوق سے واپس نہ آئے گا
اک آس بن کے روز بوقتِ طلوعِ فجر
جھونکا ہوا کا آئے گا در کھٹکھٹائے گا
یہ راستہ فنا سے گزرتا ہے گام گام
یہ راستہ ہمیں کو فقط راس آئے گا
عشاق تیرے شعر سنائیں گے افتخار
نازک دلوں میں نام ترا گھر بنائے گا




