حدیقہ کیانی بمقابلہ مولوی/ فاخرہ گل

سیلابی آفت کے دوران علم ہوا کہ سیلاب کے ان مشکل ترین دنوں میں حکومت کے ساتھ ساتھ جہاں دیگر ادارے امداد کے کاموں میں دن رات مصروف ہیں وہیں مذہبی رجحان رکھنے والی کئی تنظیمیں بھی اپنے ہم وطنوں کی مدد کیلیئے کوشاں ہیں
جن میں الخدمت ، بیت السلام ، آغاز سحر ، مرکزی جمعیت اہل حدیث ، اسوہ ، قران و سنت موومنٹ ، جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ انتظام آنے والی ذیلی تنظیمیں ، جماعت اہل سنت کی ذیلی تنظیمیں ، منہاج ویلفئیر فاؤنڈیشن، مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن ، مفتی طارق مسعود فاؤنڈیشن ، الاعظم ٹرسٹ ، المدرار آسانی ویلفئیر ٹرسٹ ، لبیک فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں ۔ یقیناً مزید نام بھی ہوں گے ۔
اور یہی نہیں بلکہ ان تنظیموں سے جُڑی ہوئی اور ان کے علاوہ بھی کئی باپردہ خواتین اپنا گھر بار اور بال بچے چھوڑ کر سیلاب کی مشکلات میں گھری اپنی ماؤں بہنوں کی مدد میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں
پھر وہ لوگ بھی ہیں جو کسی بھی تنظیم سے تعلق نہیں رکھتے لیکن خود چند دوست احباب کے گروپس بنا کر راشن ، ادویات ، کپڑے وغیرہ لے کر میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اور چونکہ اُن کا معاشرتی تاثر بہترین ہے لہذا لوگ اُنہیں بنا مانگے بھی اپنے عطیات پہنچا رہے ہیں
ساتھ ہی کئی مسجد کمیٹیاں بھی ایسی ہیں جو اپنے نزدیک ترین علاقوں سے سیلابی پانی کے اخراج اور وہاں پھنسے عوام کیلیئے تین وقت کے کھانے اور بستر سمیت علاج معالجے کی سہولیات دے رہے ہیں
اور یہی نہیں ایسی مزید بھی کئی مثالیں ہیں اور بے شک الّلہ کریم ان سب کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا
لیکن اس سب کے باوجود جیسے ہی چند لوگوں نے حدیقہ کیانی کو میدانِ عمل میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلیئے سرگرم دیکھا تو دل کے پھپھولے پھوڑنا شروع کر دئیے ذرا اُن کی تصویروں اور تحریروں کے کیپشنز پڑھیئے
ایک حدیقہ کیانی سب مولویوں پر بھاری پڑ گئی
کہاں ہیں وہ مُلّا جو اسلام اسلام کرتے ہیں آج دیکھیں صرف ایک عورت مدد کو نکلی ہے
ہزاروں تہجد گزاروں اور لاکھوں عبادت گزاروں سے بہتر ہے حدیقہ کیانی ، جو آفت میں گھرے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے
مولوی اذانیں دیتے رہ گئے اور حدیقہ کیانی نے دل جیت لئے
تمام برقعہ پوش عورتیں ایک طرف اور حدیقہ کیانی ایک طرف
حدیقہ کیانی گاتی بھی ہے ، جھومتی بھی ہے ، لیکن مشکل کے وقت مدد بھی کرتی ہے ، کیونکہ وہ مولویوں کی طرح گھر بیٹھے فتوے نہیں دیتی
یہ اور اس جیسے مزید۔۔
( ساتھ ہی موازنہ کرتے ہوئے ایک خاتون سیاستدان کو بھی گھسیٹ لیا جاتا ہے لیکن سیاست فی الحال میرا موضوع نہیں )
اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ حدیقہ کیانی پہلے بھی زلزلے اور سیلاب جیسی آفتوں میں بڑھ چڑھ کر مدد کرنے والوں میں ایک نمایاں نام رہی ہیں
وہ جو کر رہی ہیں بلاشبہ بہترین ہے اور باقی سب کی طرح اُنہیں بھی الّلہ کریم ہی بہترین اجر عطا فرمائے گا
لیکن پتہ نہیں کیوں حدیقہ کیانی کو تو جیسے مولویوں کے مقابلے پر لا کھڑا کیا ہے
ارے آپ لوگ اپنے گریبان میں تو جھانکئیے کہ کیا کسی ایک فریق کو نیچا دکھائے بغیر آپ دوسرے کی تعریف نہیں کر سکتے ؟
ایک کا دل دکھائے بغیر کسی دوسرے کا دل کیسے خوش کیا جاتا ہے ، نہیں سیکھا ؟
یا پھر دینِ اسلام سے جُڑے افراد پر انگلی اُٹھانے اور اُنہیں طعنے دینے کیلیئے آپ موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں ؟
اور کیا ہم واقعی اتنے گِر چکے ہیں کہ کسی ایک کی تعریف کرنے کے لیے کسی دوسرے کی تذلیل کرنی پڑتی ہے؟
کسی کو اچھا بتانے کے لیے ہم نے خود پر کیوں لازم کر لیا ہے کہ اب دوسرے کو ضرور برا کہا جائے
ہمیں تو قرآن نے “قولوا للناسِ حُسنا” سکھایا تھا ناں ؟
“ولا تلمزوا أنفسكم” کا حکم دے کر کہا تھا کہ ایک دوسرے کو طعنہ مت دو
نبی اکرم صلی الّلہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مومن ہونے کی شرط ہی یہ بتائی کہ مومن وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مومن محفوظ رہے
پھر آپ کیوں ہر وقت خاص طور پر اُن لوگوں کو طعنے دینے پر کمر باندھے رکھتے ہیں جن کا تعلق دین کے ساتھ نسبتاً زیادہ لگتا ہو ؟
آخر مسئلہ کیا آپ کے ساتھ؟
خدارا اپنے آپ کو سمجھائیے اور جسکی تعریف کرنی ہو ، خالص تعریف کریں ، کسی اور کو طعنے دے کر یا نیچا دکھا کر اُس میں اپنی طرف سے وزن پیدا کرنے کی ناکام کوشش نہ کریں۔




