خبریں

رفح کراسنگ پر بلڈوزرز اور تعمیراتی سامان غزہ میں داخلے کے منتظر/ اردو ورثہ


مصر کی سرحد کے ساتھ رفح کراسنگ پر درجنوں بلڈوزرز، تعمیراتی گاڑیاں اور عارضی گھروں سے لدے ٹرک جمع ہیں، جو غزہ میں داخلے کے منتظر ہیں۔

القاہرہ نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ سامان جنگ زدہ فلسطینی پٹی میں بھیجے جانے کے لیے سرحدی گزرگاہ پر موجود ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی ان گاڑیوں کی سرحد پر موجودگی کی تصدیق کی، جن میں کارواں لے جانے والے ٹرک بھی شامل تھے۔

رفح سرحدی گزرگاہ کے ایک اہلکار نے مصری سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کو بتایا کہ یہ سازوسامان آئندہ چند روز میں غزہ میں داخل ہوگا تاکہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں تباہ شدہ سڑکوں کی مرمت اور ملبہ ہٹانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھاری مشینری کو رفح کے راستے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے ترجمان عمر دوستری نے ایکس پر لکھا: ’غزہ میں کسی قسم کے عارضی گھر یا بھاری سازوسامان لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس حوالے سے فریقین میں کوئی اتفاق بھی نہیں ہوا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے مطابق: ’رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں کوئی سامان داخل نہیں کیا جا سکتا۔‘

فائر بندی کے معاہدے کے تحت رفح کراسنگ کو زخمیوں اور بیماروں کے انخلا کے لیے کھولا گیا ہے جبکہ دیگر امدادی سامان ابو سالم کراسنگ کے ذریعے غزہ پہنچنا ہے۔

سرحد پر موجود ایک ڈرائیور احمد عبدالدائم نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید ہے کہ اچھے دن آئیں گے۔‘

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے شہریوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کی تجویز پر شدید تناؤ بڑھ رہا ہے۔ مصر اور اردن نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے فلسطینیوں کی بے دخلی کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مصر اس منصوبے کا حصہ نہیں بن سکتا۔‘

ادھر اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی زور دیا کہ ان کا ملک ’فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خلاف اپنے موقف پر قائم ہے۔‘

مصر رواں ماہ عرب ممالک کی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں وہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کرے گا تاکہ فلسطینی اپنی سرزمین پر ہی رہ سکیں۔

مصر اور اردن، جو دونوں امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، غیر ملکی امداد پر انحصار کرتے ہیں اور امریکہ ان کے بڑے امدادی شراکت داروں میں شامل ہے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button