منتخب کالم
ان کی جگہ بندہ لگ گیا ہے/ ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

جناب! اب توخوش ہو جائیں، "ان کی جگہ بندہ لگ گیا ہے”، بجا کہا، خوشی کی بات تو ہے آپکی آرگنائزیشن نے ان کی بجائے بندہ لگا دیا ہے۔ ورنہ پہلے تو انہی سے کام چلایا جا رہا تھا۔ لگتا تھا کہ آپ اس سیٹ پہ بندہ نہیں لگاتے، بس کام ہیں چلاتے، ڈنگ ٹپاو تے مٹی پاؤ۔ بجا ہے کہ غیر سرکاری تنظیم ہے مگر لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک تو نہیں کرنا چاہیے۔” گفتگو ایک غیرسرکاری تنظیم کے اہلکار کے بارے میں ہو رہی تھی جس نے لوگوں کو نکو نک کر رکھا تھا۔ تنظیم جس علاقے میں کام کر رہی تھی وہاں لوگوں کی اکثریت ناخواندہ تھی، ہر لحاظ سے پسماندہ تھی۔ ذات پات کو عزت کا معیار بنانے والے معاشرے میں ان کی ذات بھی کوئی تگڑی ذات نہیں سمجھی جاتی تھی۔تنطیم کے زیادہ تر نمائندے انسانیت نواز تھے۔درد دل رکھتے تھے لیکن اکا دکا ایسے بھی تھے جو شرافت کیلئے نہیں بلکہ خباثت کیلئے مشہور تھے۔ ایک نمائندہ سے تو اہل علاقہ کو بہت شکایات تھیں مگر وہ دو سا ل سے یہیں تعینات تھا، دھمکی دیتا تھا کہ پروجیکٹ کی تکمیل تک ادھر ہی رہے گا،کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ رویے پر نظر ثانی کرنے کا کہا جاتا تو ہنس کر ایک قصہ سناتا، ” کسی علاقے میں درویش اور اس کا چیلہ رہتے تھے۔ دونو ں دعا مانگتے تھے اللہ تعالیٰ انہیں حاکم بنا دے، درویش دعا مانگتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو حاکم بنا دیں تو وہ لوگوں کو ہر طرح کی آسانیاں فراہم کرے گا، ہسپتا ل بنائے گا،سڑکیں بنوائے گا، ہر طرح کا اچھا کام کرے گا۔ چیلہ دعا مانگتا تھا کہ اگر وہ حاکم بنا تو لوگوں پر ہر طرح کا ظلم وستم ڈھائے گا۔ ان کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دے گا۔ وقت گزرتا گیا۔ چیلہ حاکم بن گیا۔ لوگوں کا جینا محال ہو گیا۔ درویش نے جنگل میں کٹیا بسا لی۔ عرصہِ دراز گزر گیا۔ لوگ چیلے کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر درویش کے پاس حاضر ہوئے، استدعا کی کہ وہ اپنے چیلے کو سمجھائیں۔ درویش سے رہا نہ گیا، چیلے کے دربار میں آ گئے، چیلے نے فل پروٹوکول دیا، فلی فرنشڈ کمرے میں ٹھہرایا، بہترین کھانا کھلایا، درویش نے جب لوگوں کا مسئلہ بتایا، چیلے نے جلاد کو بلایا، استاد کو بہت پٹوایا، انتہائی دانشمندانہ لہجے میں فرمایا، آ پ بھی دعا مانگتے تھے میں بھی دعا مانگتا تھا، آپ کی دعا ان کی فلاح کیلئے تھی تو میری دعا ان کی سزا کیلئے تھی، میری دعا قبول ہوئی تو یہ لوگ اسی سلوک کے مستحق ہیں۔” یہ قصہ سنا کر اہل کار ہنس کر کہتا ” میرا رویہ بلکل ٹھیک ہے، مجھے نہ سمجھائیں، انہیں سمجھائیں "۔ کہاوت ہے ” خدا کی چکی آہستہ پیستی ہے مگر پورا پیستی ہے”، مثل مشہور ہے ” دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں "۔ ظالم کو یاد نہیں رہتا کہ زندگی اور موت اس لئے تخلیق کئے گئے ہیں، انسان کو آزمایا جائے، وہ کیسے اعمال کرتا ہے۔ وقت کے ولی کے قتل پر مسرور، جابر حکمران کو کسی نے بتایا تھا کہ تم نے اس کی دنیا نہیں بگاڑی، اپنی آخرت تباہ کر لی ہے۔ قابیل کو بھی یہی گمان ہو گا کہ ہابیل قتل کے لائق ہے ہابیل قتل تو ہو گیا مگر رسوانہیں ہوا، آخرت سنور گئی۔قابیل نے اپنی آخرت تباہ کر لی، آج تک انسانیت کے ماتھے پر داغ ہے۔ امام نے بجا فرمایا کہ کوئی بھی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ مرقوم ہے کہ ذرا برابر نیکی بھی دیکھا دی جائے گی اور برائی بھی۔ نہ صرف دیکھا دی جائے گی بلکہ لوٹا دی جائے گی۔ پورا پورا بدلہ دیا جائیگا۔ ہمارا دین کسی بھی طرح کا ظلم کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ کہا گیا ہے مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان اور انسان محفوظ رہیں۔ بعض اوقات اللہ تعالی ظالم کو دنیا میں بھی رسواکردیتا ہے۔ ظالم کی آخرت تو تباہ ہے۔ ظالم یا مظلوم بننے سے پناہ مانگنی چاہیے۔ ارشاد پاکؐ کا مفہوم ہے ” مسلمان بھائی کی مدد کرنی چاہئے بھلے وہ ظالم ہو یا مظلوم”۔ پوچھا گیا، مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ آتا ہے مگر ظالم کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے۔ فرمایا گیا ظالم کو ظلم کرنے سے روکنا ہی اس کی مدد کرنا ہے۔ ظلم تباہی ہے، دین فقط خیرخواہی ہے۔ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون کیلئے ایک موسی بھی پیدا کیا ہے۔ ابرہہ جیسا ظالم ابابیل کے اک کنکر کی تاب نہ لا سکا۔ نمرود کو ایک مچھر نے خوار کر دیا۔ ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھنا عدل ہے اور اصل مقام نہ دینا ظلم۔ وطن سے محبت کا تقاضا ہے، اہل وطن پر ظلم نہ کیا جائے۔ اولاد سے محبت کا تقاضاہے، اولاد کی بہترین تربیت کی جائے۔ خود سے محبت کا تقاضاہے خلاف شریعت کام نہ کیا جائے۔ شرک کو ظلم عظیم کہا گیاہے،شرک نہ کیا جائے۔اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی جائے۔




