سندھ طاس معاہدہ اور مودی کی جہالت / زبیر بسرا

بھارت کے ایک سینئر تجزیہ کار نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت پر نہایت خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گاندھی جی کا تعلق گجرات سے تھا ان کا والد تاجر تھا خود اعلیٰ تعلیم یافتہ بیرسٹر تھے، خوش لباس تھے، مہنگا لباس سوٹ پہنتے، نکٹائی لگاتے تھے۔ انہوں نے سادہ لباس دھوتی کرتا پہننا شروع کر دیا تاکہ قوم ان کی تقلید میں سادگی اختیار کرے جو معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر فسادات کو روکنے کے لئے مرن بھرت رکھا تاکہ خون خرابہ اور املاک کا نقصان نہ ہو اور قومی یکجہتی قائم رہے۔ نریندر مودی بھی گجرات کے ہیں، لیکن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ ایک چائے بنانے والا ہے اس کی سوچ محدود ہے مہنگے لباس پہنتا ہے انتہاء درجے کا شر پسند ہے۔
پہلگام واقعہ کو بھارت کے اعتدال پسند دانشور اور سیاستدان بھی ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی الیکشن کے موقع پر ایسے ڈرامے ہو چکے ہیں۔مودی کے متعصب فیصلوں گیدڑ بھبکیوں اور قانوں سازی کی وجہ سے بھارت شکست و ریخت کا شکار ہے منی پور اور میزورام خودمختار ہو چکے ہیں اور بھی کئی صوبوں میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔
مودی کے رویے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت ابھی تک زمانہ جاہلیت میں ہے
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پر جھگڑا
نفرت اور بغض کی سیاست قوموں کے زوال کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہے۔زراعت کا انحصار پانی پر ہوتا ہے بدقسمتی سے ہمارے دریا بھارت اور کشمیر سے آتے ہیں۔ پانی بند کرنے کو بھارت ٹرمپ کارڈ سمجھتا ہے یہ اس کی خام خیالی ہے اِس سے قبل لیاقت علی خان کے دور میں بھی یہ دھمکی دی گئی تھی نوا بزاد لیاقت علی خاں نے مکا دکھا کر اس دھمکی کی ہوا نکال دی تھی۔
اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے 19 ستمبر 1960ء میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو پاکستان آئے ان کے اور صدر ایوب کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا تیسرا فریق ورلڈ بنک تھا جس کے تحت ستلج بیاس اور راوی پر بھارت کا حق اور بقیہ تین دریاؤں چناب جہلم اور سندھ پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا۔ پاکستان میں آبپاشی کا انحصار انھی دریاؤں پر ہے۔
اِس سے پہلے بھی بھارت اس معاہدے میں ترمیم کے لئے پاکستان کو نوٹس بھیج چکا ہے یہ بھی مودی کے دور حکومت میں ہوا ہے۔ بھارت کے دو ڈیم پاکستانی سرحد کے قریب ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ تحمل سے کام لیا ہے ورنہ یہ ڈیم منٹوں میں اُڑائے جا سکتے ہیں علاوہ ازیں بھارت اس معاہدے میں ترمیم کرنے یا معاہدہ منسوخ کرنے کا مختار نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی ضمانت ورلڈ بنک نے دی ہوئی ہے۔ عالمی سطح کے تنازعات کو نمٹانے کے لئے بین الاقوامی عدالت انصاف موجود ہے۔ مودی کی یہ بڑھ سیاسی مفاد کے لئے ہے۔
بعض تجزیہ کار ریٹنگ کی دوڑ میں زوروشور سے کہہ رہے ہیں کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے پر ہیں ایٹمی جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔بھارت میں عام لوگ یہی سمجھ رہے ہیں اور خوفزدہ ہیں، جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے سوشل میڈیا پر اور عوامی سطح پر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کئی بھارتی سابق فوجی افسر اور دانشور کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں جنگ لڑنے کی اہلیت نہیں ہے۔ خصوصاً فضائیہ کمزور ہے فوج خوفزدہ ہے۔ مشرقی پنجاب کے سکھ رہنماء بھی بیان دے رہے ہیں کہ ہندوستانی فوج کو پنجاب سے گزرنے نہیں دیں گے اس صورتحال میں جنگ کا کوئی امکان نہیں۔
نریندر مودی کی سوچ گائے کی موت سے شروع ہو کر گوبر تک محدود ہے۔ ذہن گندہ ہو تو منہ سے گند ہی نکلے گا۔ نفرت تعصب اور شر کے سوا اس کے گیارہ سالہ دورِ حکومت میں ہوا کیا ہے۔ یہ صورتحال بھارت کی سلامتی کے لئے خطرناک ہے، جس کے آثار نظر آرہے ہیں۔
بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے صرف وہ ہی نہیں کئی اور ملکوں پر بھی ہماری ایٹمی طاقت اور میزائل ٹیکنولوجی کا خوف طاری ہے۔ تاہم کفار کی ریشہ دوانیوں کے باوجود اللہ کے فضل سے پاکستان مضبوط اور قائم ہے، قائم رہے گا۔
ستیزہ کار ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
٭٭٭٭٭




