ٹیکس بھگتیں عوام یا مہنگائی؟ اب تو ممکن نہیں گزارا بھیآئی ایم ایف سے گزارش ہےوہ بنا دے بجٹ ہمارا…
Read More »
جو ہم بے بَسوں، بے زبانوں کی صف ہے اِسی میں اُنہیں بھی بٹھائو تو جانیںغریبوں سے آسان ہے ٹیکس…
Read More »
ہمیں ملتا ہے جتنا فالتو وقت لگاتے ہیں وہ سارا فیس بُک پرہمارے پاس کوئی بُک نہیں ہےگزارا ہے ہمارا…
Read More »
اِس سے تو اپنے کام بھی ہوتے نہیں دُرستپھر کیا کرے ہماری مدد انتظامیہآتا ہے شہریوں کو اِسے دیکھ کر…
Read More »
کبھی اِس طرف ہے، کبھی اُس طرف ہےہمارے تمہارے خیالات کا رُخبھلا کیا ہو اندازہ سمت سفر کانہیں جانتا کوئی…
Read More »