ایک خواب ! (افسانہ)
عفیفہ،،،،،،، عفیفہ ،،،،، اماں باورچی خانے سے چیخ رہی تھیں ، ان کا چیخنا جائز تھا۔ صبح کے 10 بج چکے تھے ، دھوپ قدرے تیز ہو چکی تھی۔۔ اماں باورچی خانے میں سب کی فرمائش پر مختلف قسم کے ناشتے بنانے میں مصروف تھیں، ان کا ہاتھ بٹانے والا کوئی نہ تھا۔۔ ابا دفتر کے لیے تیار ہو رہے تھے، ان کو جوتے اور کپڑے چاہیے۔ چھوٹا بھائی اسکول کی تیاری کر رہا تھا، وہ اپنا کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر پاتا ۔ آئے دن یہ سب ناٹک دیکھ کر اماں تھک چکی تھیں عفیفہ رات ہی ہاسٹل سے گھر آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات دیر سے سونے کی وجہ سے صبح آنکھ نہیں کھلی۔ اتنے میں اماں، ابا اور بھائی کی حرکتوں سے تنگ آکر ایک سانس میں کئی آوازیں دیں۔ ۔۔۔۔۔۔
اماں نے غصے میں بڑبڑاتے ہوئے آواز لگائی۔ اٹھ جاؤ عفیفہ ! آج تو تھوڑی سی مدد کر دو۔۔ روزانہ سارا کام تو ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن عفیفہ کو کوی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ کام سے جی چراتی تھی۔انہی وجہوں سے بارہویں کے بعد ہاسٹل کا انتخاب کیا ۔ وہاں آزاد رہنا چاہتی تھی ، اسے مسلم گھرانے کی عام لڑکیوں کی طرح شریعت کی پابندی قید و بند کی زندگی گزارنا پسند نہیں تھا۔ والدین کا بار بار روکنا ٹوکنا ، ہر بات پر سوال جواب کرنا اسے پسند نہ تھا۔ یہ سب دسویں کے بعد ہی سے اسے سمجھ آنے لگا تھا لیکن اس عمر میں اس کے پاس آزادی سے گھومنے، پھرنے باہر نکلنے کا بہانہ نہیں تھا لیکن اب وہ بارہویں میں ٹاپر تھی۔ اسے زندگی میں آگے بڑھنا تھا کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا ۔ مالی اعتبار سے خود کو خود مختار بنانا چاہتی تھی۔ لیکن ابا سے بات کرے گی کیسے ؟ ابا گرم مزاج تھے ، وہ حالات اور ماحول سے اچھی طرح واقف تھے ۔ جب ان کو لڑکے شفیق کا زیادہ رات تک باہر رہنا۔ آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا پسند نہیں تھا تو لڑکیوں کے لیے کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ لڑکیوں کے معاملے میں بہت سخت تھے لیکن اپنی بیوی بچوں سے بہت زیادہ محبت بھی کرتے تھے ۔ ان کی ایک فرمائش پر سب خواہشیں پوری کرتے تھے۔ ایک باپ ، شوہر، اور محافظ ہونے کی حیثیت سے ان کا سب کے لیے فکر مند ہونا اور روکنا ، ٹوکنا جائز تھا لیکن 16 ، 17 سال کی عمر ایسی ہوتی ہے جہاں والدین کی اچھی باتیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابا عاصم معاشرے میں ایک پرہیزگار ، نیک اور عزت دار تاجر سمجھے جاتے تھے ۔ لوگ ان کی عزت کرتے تھے ، کچھ نوجوان ان کو اپنا رہنما اور رول ماڈل مانتے تھے۔ عاصم کو اردو ادب سے بھی دلچسپی تھی انہوں نے گودان، توبۃ النصوح کا مطالعہ بھی کیا ہوا تھا اور یہ کہانیاں اپنی بیوی بچوں کو بھی سنایا کرتے تھے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن عفیفہ پر کچھ کچھ اس کی سہیلی کا رنگ چڑھا تھا ۔ دونوں پڑوسی تھیں ، اور درجہ اول سے بارہویں تک کا سفر ایک ساتھ طے کیا تھا۔ *جمیلہ* پڑھای میں کبھی دلچسپی نہ لیتی اور ہمیشہ جی چراتی ، خود بھی نہیں پڑھتی اور عفیفہ کو بھی خرافات میں الجھائے رکھتی۔ یہ جمیلہ کی غلطی نہیں تھی بلکہ ان کا گھرانہ ہی ان پڑھ تھا، آزاد خیال پریوار، نہ تعلیم و تعلم کا ماحول ۔جمیلہ پہلی ایسی لڑکی تھی جس نے بارہویں پاس کی تھی وہ بھی اول نمبر سے۔ اس لیے اسے ہاسٹل جانے کی اجازت بآسانی مل گئی تھی اور اب وہ اپنی سہیلی عفیفہ کو بھی ساتھ لے جانا چاہتی تھی لیکن عفیفہ کے ابا کیسے اجازت دیتے، ان کے ابا سے بات کرے گا کون ؟ ہاسٹل جانے کے سلسلے میں عاصم سے بات کرنا گویا” *بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنا* ” تھا ,
ایک دن باورچی خانے میں عفیفہ کی اماں فہمیدہ نے ان سے پوچھا۔
*بیٹی* ! کالج میں داخلے کے لیے عرضی ڈال دی ؟
امی ! میں ہاسٹل جانا چاہتی ہوں ، اعلی تعلیم حاصل کر کے قوم اور سماج کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں ، ” عفیفہ نے اماں سے کہا”
ارے واہ تمہارے خواب تو بہت بڑے ہیں !
لیکن ہمارے یہاں لڑکیاں ہاسٹل نہیں جاتیں ،،،،،
ہمارے یہاں لڑکیوں کو ہاسٹل میں رہ کر اکیلے تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ” عفیفہ کی اماں نے کہا ” ،،،،،
وہ کیوں اماں ؟ ” عفیفہ نے بڑی معصومیت سے پوچھا ”
بیٹی !
وہاں لڑکا لڑکی ساتھ ہوتے ہیں , مخلوط تعلیم ہوتی ہے ،
ساتھ گھومتے پھرتے ہیں ۔ کسی شریف گھرانے کے لوگ اچھا نہیں سمجھتے ۔” عفیفہ کی اماں نے کہا”
اس پر عفیفہ نے کہا۔ اماں ہر لڑکی ایک جیسی تو نہیں ہوتی ، اور گرچہ لڑکیاں باہر نہیں جاتیں لیکن کسی نہ کسی کو تو آگے بڑھنا ہوگا ۔
اور ،،،، اور ،جمیلہ کو دیکھیے ان کے گھر والوں نے خود ہی ان کو جانے کی اجازت دے دی حالانکہ آپ بھی جانتی ہیں وہ پڑھائی میں کیسی ہیں ؟
میں تو الحمدللہ ! اس سے لاکھ درجہ بہتر ہوں آپ کی اور ابا کی بیٹی ہوں ۔ *آپ کی تربیت ہی ایسی ہے کہ میرے دل میں قوم ، سماج کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے، خود مختار بننا چاہتی ہوں، والدین، گھر ، خاندان کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں* ۔
والدہ ساری باتیں غور سے سنتی رہیں اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی تھی۔ اور دل ہی دل اللہ کا شکر بھی ادا کر رہی تھی۔ لیکن وہ مجبور تھی، کیونکہ ان کی اجازت کوی معنی نہیں رکھتی ۔ لیکن اماں نے مثبت انداز میں حوصلہ افزائی کرتے ہوے کہا ۔
ارے واہ ! شاباش میری پیاری گڑیا ، تو اب بہت سمجھدار ہو گئی ہے ۔
خدا تیرا حامی وہ ناصر ہو ۔ کوئی مناسب موقع دیکھ کر ابا سے بات کرنا شاید وہ مان جایں اور اجازت مل جاے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں سب لوگ کھانا کھانے کے لیے دسترخوان پر بیٹھے ، کھاتے ہوئے عاصم نے پوچھا ۔
بیٹی ! تمہاری سہیلی کیا کر رہی ہے ؟ اس نے آگے کا کیا سوچا ہے ؟
ہم نے سنا ہے وہ ہاسٹل جا رہی ہے ؟
عفیفہ۔۔ وہ،،،، وہ ،،، ابا ۔۔ ہاں ! وہ ہاسٹل جا رہی ہے ۔ لیکن "لڑکھڑاتی ہوئی زبان میں ” معصومانہ انداز میں پوچھا ۔۔
ابا ! آپ کو کیسے معلوم ؟
عاصم نے مسکراتے ہوئے بیٹی کی طرف دیکھ کر کہا۔
آج جمیلہ کے ابا عابد بھائی ملے تھے اور وہ تمہاری بہت تعریف کر رہے تھے، کہہ رہے تھے ، آپ کے گھر بیٹی نہیں ہیرا پیدا ہوا ہے، ہیرا ۔ ایک نمبر بیٹی ہے ، کیا لائق بیٹی پائی ہے آپ نے ! اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو اسے اپنے گھر بہو بنا لاتا ۔ "مزاحیہ انداز میں کہا” ۔
عفیفہ نے شرماتے ہوئے اپنی گردن جھکا لی ۔
بیٹی ! انہوں نے بہت ساری دعائیں دیں ، ہمارا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا ۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا ۔ بیٹی کو خوب پڑھاییےاور مت سمجھیے کہ بیٹی ہے تو باہر نہیں بھیج سکتے ، زیادہ پڑھا نہیں سکتے ۔ جب میری بیٹی پڑھائی چور ہونے کے بعد بھی آگے پڑھ سکتی ہے تو آپ کی بیٹی زیادہ حقدار ہے ۔ اتنے میں اماں گویا ہویں۔ آگے کیسے پڑھے گی؟ گھر کے آس پاس کوئی لائق کالج ہی نہیں ہے ؟
ہاں محترمہ !
آپ یہ بات تو درست فرما رہی ہیں۔ ” ابا نے اماں سے کہا "۔ اب کیسے کیا ہوگا ؟ کیسے اس کی آگے کی پڑھائی مکمل ہو پائے گی؟ اس کا خواب کیسے پورا ہوگا؟” اماں نے ابا سے کہا” ۔۔۔۔
ابا نے کہا ۔ بیٹا ! تمہاری سہیلی کس کالج میں جا رہی ہے ۔ وہ تو ہندو کالج جا رہی ہے۔ جہاں ہاسٹل بھی ہے ۔ ” عفیفہ نے جواب دیا”
ابا فہمیدہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ! کیا خیال ہے ؟ عفیفہ کو بھی وہیں بھیج دیتے ہیں تاکہ دونوں ساتھ رہیں گی تو من بھی بہل جائے گا آنے جانے میں پریشانی بھی نہیں ہوگی۔
میرے خیال میں یہی بہتر رہے گا۔ ” فہمیدہ نے کہا”
بیٹی ! وہاں جا تو رہی ہو لیکن جو مقصد ہے اس پر دھیان دینا اور آے دن حالات خراب ہوتے جارہے ہیں ۔ اس لیے اچھا ، برا سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھانا۔” ابا نے ناصحانہ انداز میں کہا” ۔۔۔۔۔۔۔۔
دو چار دن بعد عفیفہ اور جمیلہ نے ہاسٹل کے لیے اپنا رخت سفر باندھ لیا۔ دونوں کالج پہنچی۔ عفیفہ میڈیکل کی طالبہ تھی اور جمیلہ کامرس کی ۔ دونوں کا کلاس الگ تھا ، دونوں کو رہنے کے لیے پی جی بھی مل گئی تھی۔ دونوں اپنے اپنے راستے چل پڑی ۔جمیلہ گھر سے ہی آزاد خیال لڑکی تھی ، وہی عادت یہاں بھی تھی ، بے تکلف لڑکوں سے بات کرنا، کندھے پہ ہاتھ رکھنا ، ساتھ گھومنا پھرنا عام بات ہو گئی تھی۔ اور کالج وغیرہ میں یہ سب معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بسا اوقات اس کے نتایج بہت خطرناک ہوتے ہیں ۔ ایک سمیسٹر گزر چکا تھا تب تک کلاس ساتھیوں سے اس کی دوستی بھی اچھی ہو گئی تھی ہر ایک سے منہ لگنا، فارغ اوقات میں کینٹین میں دوستوں کے ساتھ گپیں مارنا اس کامعمول تھا۔۔ ادھر عفیفہ جس مقصد کے لیے آئی تھی اس پر مکمل دھیان دے رہی تھی، کلاس میں لڑکیوں سے دوستی تھی ، لڑکوں سے بقدر ضرورت کلاس کے اوقات میں بات چیت، فارغ اوقات میں کتب خانے میں بیٹھ کر مطالعہ کرتی ہوئی نظر آتی، تعلیمی انہماک اور محنت کی وجہ سے سمیسٹر امتحان میں کلاس کی ٹاپر بن گیی۔ جس وجہ سے سارے فیکلٹی ممبرز اور کلاس ساتھی اس کا احترام کرنے لگے، اس سے خلوص اور محبت سے پیش آنے لگے ، سب اس کی عزت کرنے لگے۔ اسی طرح اس کی محنت پروان چڑھتی رہی اور وہ کامیابیوں کی سیڑھیاں طے کرتی رہیں۔۔۔۔۔
ادھر جمیلہ کالج آکر مزید بے لگام گھوڑے کی طرح آزاد ہو گئی۔ کلاس کی لڑکیوں سے زیادہ لڑکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ان کو اچھا لگتا۔ اسی طرح دن گزرتا رہا اور لڑکے ان سے قریب ہونے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو ،۔۔۔۔ *دراز قامت ، گلاب چہرہ ، خمار انکھیں ، صراحی گردن، لہراتی زلفیں اور خوبصورتی ایسی گویا کوی افسرا ساڑی زیب تن کرے تو اس کا پلو ہوا سے باتیں کرتا ہوا نظر آے*
لڑکے کیسے نہ ان سے قریب ہونے کی کوشش کرتے؟ پورے کالج میں زبان زد عام و خاص تھا کہ کامرس میں جمیلہ نام کی ایک لڑکی آی ہے ۔ کیا قہر ڈھا رہی ہے؟ اس کی خوبصورتی کے سامنے چاند بھی پھیکا نظر آتا ہے ۔ چاروں طرف اس کی خوبصورتی کے چرچے۔ تمام لڑکے محبت کے خواب بننے لگے۔ لیکن آزاد خیال لڑکی اتنی آسانی سے کسی کی میٹھی میٹھی باتو میں نہیں آتی۔ نہ ہی کسی کی محبت کے جال میں پھنستی ہے ۔ وہ بھی اچھا برا سمجھتی ہے اور پھر اس کے پاس عفیفہ جیسی نیک سیرت دوست بھی تھی جسے جمیلہ ہر بات بتاتی تھی ۔۔ اور عفیفہ اسے سمجھاتی تھی لیکن وہ یہ کہہ کر ٹال دیتی کہ اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن اچانک شام ٦ بجے ہاسٹل کے باہر کسی کے چیخنے چلانے کی آواز آئی ۔ ہاسٹل کی تمام لڑکیاں باہر جھانکنے لگیں عفیفہ اور جمیلہ بھی کھڑکی سے جھانکنے لگیں تو عفیفہ نے دیکھا ایک لڑکا گارڈ سے کہہ رہا تھا۔ آپ بلا تو دیجیے ۔ وہ مجھے جانتی ہے ، گارڈ بار بار اسے بھگا رہا تھا، بات نہ ماننے پر پولیس بلانے کی دھمکی دے رہا تھا لیکن وہ اپنی ضد پر اڑا تھا۔ اور بار بار یہی جملہ دوہرا رہا تھا کہ” وہ مجھے جانتی ہے اسے بلا دیجیے "۔ عفیفہ نے جمیلہ سے کہا وہ تو شاید تمہارا کلاس ساتھی ہے پھر جمیلہ عفیفہ کے ہمراہ نیچے آئی تو دیکھا اس کا کلاس ساتھی *راہل* ہے ۔ پہلے پہل جمیلہ اسے اس حال میں یہاں دیکھ کر حیرت زدہ ہو گیی کیونکہ آج تک کوئی سہیلی یہاں نہیں آی ، لڑکا تو دور کی بات ۔ *راہل* سے جمیلہ مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگی ، کیا بات ہے راہل ؟ اس وقت یہاں ؟ ایسی کون سی مصیبت آن پڑی ؟ جو یہاں آنے پر مجبور کر دیا؟ *راہل* "لڑکھڑاتی زبان سے ” بولنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ گارڈ اور عفیفہ کے سامنے کچھ کہنے سے گھبرا رہا تھا ۔ پھر اس نے کہا آؤ تھوڑا باہر چلیں پھر بتاتے ہیں ۔ جمیلہ نے گہری سانس لی اور کہا دیکھو راہل! میں ازاد خیال ضرور ہوں لیکن اتنی بھی بے غیرت نہیں کہ اس وقت اکیلی تمہارے ساتھ باہر چلوں ۔ اگر کوئی ضروری بات ہے تو کہہ سکتے ہو ؟ ورنہ جاؤ کل کلاس میں ملتے ہیں۔ راہل کے چہرے پر مایوسی تھی، ایسا لگ رہا تھا وہ جمیلہ سے دل کی بات کہنے آیا تھا لیکن جمیلہ کے جواب سے ناکام ہو گیا ۔۔۔۔اتنے میں *بی بی خالہ* آگیئں ” ہاسٹل کی لڑکیاں نگرانی صاحبہ کو محبت سے *بی بی خالہ* کہتی تھیں” ۔۔۔۔
بی بی خالہ نے سختی سے راہل کو ڈانٹا اور پولیس بلانے کی دھمکی دی تو راہل کو ڈر محسوس ہونے لگا اور واپسی کی راہ لی۔ اور بی بی خالہ عفیفہ اور جمیلہ کو لے کر اندر آگئی اور باقی لڑکیوں کو اپنے کمروں میں جانے کا حکم دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب ماحول ٹھنڈا ہو گیا تو بی بی خالہ جمیلہ اور عفیفہ کے کمرے میں گئی اور جمیلہ سے کالج سے متعلق استفسار کیا ۔
جمیلہ نے بھی بے جھجک الف سے ی تک ساری باتیں بتا دی۔ راہل کے بارے میں اسے ذرہ برابر بھی یہ خیال نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی حرکت کرے گا۔۔ پھر بی بی خالہ نے اپنے پاس بٹھا کر اسے سمجھایا کہ بیٹی ! آج کل ماحول بہت خراب چل رہا ہے ، لڑکے لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اس کو اغوا کر لیتے ہیں، یا بعد میں لڑکی کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ تمہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ ٹھیک ہے تم آزاد خیال رہو ، لیکن پہلے اس کا مطلب تو سمجھو۔۔۔۔۔۔۔” آزاد خیال کا مطلب یہ نہیں کہ آوارہ لڑکوں کی طرح جہاں ، جب ، جس کے ساتھ چاہو گھومو ، پھرو، بات کرو ” ۔۔۔۔۔۔۔،بلکہ” *آزاد خیال یہ ہے کہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھو, خوب ترقی کرو ,خود مختار بنو، اپنے والدین ، گھر، خاندان، قوم کا نام روشن کرو، قوم کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ دل میں رکھو، تاکہ تمہیں دیکھ کر دوسرے والدین بھی اپنی بیٹیوں کو اعلی تعلیم کی اجازت دیں ، انہیں حوصلہ ملے، دوسروں کے لیے نمونہ اور رول ماڈل بنو*”…….. تمہاری سہیلی عفیفہ کو دیکھ لو۔۔۔۔۔۔
دونوں بی بی خالہ کی بات غور سے سن رہی تھیں لیکن جمیلہ نے ان کی باتوں کو ان سنی کر دی. اور کہا آپ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان ہو جاتے ہیں۔
وہ یہ کہہ کر اپنے بستر پر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر حسب معمول عفیفہ اور جمیلہ کالج جاتی رہیں ، راہل جمیلہ سے نظریں ملا نہیں پا رہا تھا ۔ وہ حادثہ ہر وقت اس کے دماغ میں گردش کر رہا تھا راہل اس کا حل تلاش کر رہا تھا ۔ اسے ایک ترکیب سمجھ آی ۔ ۔۔۔۔
چند دن بعد راہل نے تمام دوستوں کو ایک پارٹی میں بلایا، جہاں جمیلہ بھی مدعو تھی۔ معمول کی ہنسی خوشی کے ساتھ وقت بیت گیا، مگر واپسی پر رات کافی ہو چکی تھی۔
جمیلہ کے چہرے پر تھکن اور پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ راہل نے نرمی سے کہا:
"اگر کہو تو میں ہاسٹل تک چھوڑ دوں؟”
جمیلہ تھوڑی جھجکی، مگر وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے اس کی ہامی بھر لی۔
مگر کچھ دیر بعد جمیلہ نے محسوس کیا کہ گاڑی غلط سمت میں جا رہی ہے۔
"یہ راستہ کہاں جا رہا ہے راہل؟”
وہ کئی بار پوچھ چکی تھی، لیکن راہل خاموش رہا۔
جمیلہ کا دل بیٹھنے لگا۔ اسے خطرہ محسوس ہوا اور جیسے ہی موقع ملا، وہ گاڑی سے اتر کر دور ہٹ گئی۔
کسی نہ کسی طرح وہ ہاسٹل واپس پہنچی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ عفیفہ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اس کے آنسو، ندامت کی زبان بن چکی تھی ۔
عفیفہ اسے دلاسا دے رہی تھی کہ” تم تو بہادر ہو اور بہادر لوگ روتے نہیں” جمیلہ کو اب پچھتاوا ہو رہا تھا اسے اپنی بے فکری اور لاپرواہی پر افسوس ہو رہا تھا ۔اسے بی بی خالہ کی اس نصیحت کا مطلب اب سمجھ آرہا تھا ، ۔ بی بی خالہ کی نصیحت اور اس حادثے نے اسے اندر سے جھنجھوڑ دیا۔ کہ اس نے اپنی طرز زندگی کو تبدیل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ اور پھر وہ اپنی پڑھای پر توجہ دینے لگی جس کا نتیجہ تھا کہ سالانہ اجلاس میں اپنی سہیلی کے ساتھ اعزازی تمغہ لینے کے لیے اسٹیج پر نظر آئی۔ عفیفہ کے والدین اپنی بیٹی کے ڈاکٹر بننے پر بہت زیادہ خوش تھے اور جمیلہ کے والدین جمیلہ کی کامیابی سے کہیں زیادہ اس کی آزاد خیالی میں تبدیلی سے خوش نظر آرہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے ۔ان کےلیے ایک نیی صبح کا آغاز تھا۔۔۔ دونوں سہیلیاں ایک دوسرے سے گلے مل کر خوشی سے رونے لگیں ۔عفیفہ کا خواب نہ صرف اس کا اپنا ، بلکہ جمیلہ کا بھی بن چکا تھا اور اب وہ دونوں اس خواب کو جیت چکی تھیں۔ دونوں نے قوم ، گھر ،، خاندان کا نام روشن کیا اور آنے والی نسل کےلیے راہیں ہموار کیں ۔ اور دونوں گاؤں کے بچے، بچیوں کےلیے رہنما اور رول ماڈل بن گییں ۔۔



