غزل
غزل / بظاہر کچھ نہیں قصہ ہمارا / احمد معاذ
غزل
بظاہر کچھ نہیں قصہ ہمارا
پسِ تصویر ہے چہرہ ہمارا
خرابی ہے ستاروں میں ہمارے
جسے چاہیں ، نہیں ہوتا ہمارا
نظر بھر کے تجھے ہم دیکھتے ہیں
مگر یہ دل نہیں بھرتا ہمارا
جہاں ہر چیز کو ہونا فنا ہے
وہاں پر کیا تمہارا؟ کیا ہمارا ؟
کہاں ہیں ہم کہیں بھی تو نہیں ہیں!
کہاں رکھا گیا ہونا ہمارا ؟
کوئی ہم پر ، کسی پر ہم فدا ہیں
ہمارا دل نہیں رہتا ہمارا
Author
URL Copied




