سوچ کی طاقت / بصیرت فاطمہ

انسانی معاشرہ فقط انسانوں کا ایک مجموعہ نہیں، بلکہ یہ توانائیوں، رویّوں اور خیالات سے بُنا ایک زندہ اور متحرک نظام ہے۔ اس نظام میں موجود ہر فرد اپنی سوچ کے اعتبار سے اپنے گرد ایک ہالہ تشکیل دیتا ہے۔ یہ ہالہ محض ایک ایسی باطنی فضا ہے جو نہ صرف اس فرد کی اپنی ذات پر اثر انداز ہوتی ہے، بلکہ اس کے قرب و جوار میں موجود انسانوں، ان کے رویّوں اور پورے معاشرتی ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے۔
فکر اور رویے کی بنیاد پر افراد کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ مثبت اور منفی
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مثبت یا منفی سوچ محض خیالات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی رویّے، عمل اور شخصیت کی بنیاد ہے۔ عمومی طور پر مثبت سوچ کو ہر حال میں خوش رہنے اور منفی سوچ کو شکوہ و شکایت کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، مگر یہ تعریفیں سطحی اور ادھوری ہیں۔
مثبت سوچ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان زندگی کی تلخیوں سے آنکھیں چرا لے اور خود کو دھوکہ دے کر کہے "سب اچھا ہے”۔ بلکہ اس سوچ کی بنیاد تسلیم و رضا پر ہوتی ہے ۔ایک شعوری فیصلہ کہ میں حالات جیسے بھی ہوں، انہیں قبول کروں گا، خود کو بے بس نہیں بناؤں گا، اور اپنی مشکلات سے سیکھنے کی کوشش کروں گا۔
یہی وہ سوچ ہے جو انسان کے اندر امید کی شمع روشن رکھتی ہے ۔ جو یہ باور کرواتی ہے کہ انسان حالات کا غلام نہیں بلکہ ان پر اثر انداز ہونے والا شعور ہے۔ اسی سوچ کی بنا پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔
دوسری جانب، منفی سوچ ایک ازلی مایوسی کا نام ہے۔ ایک ایسا رویہ جس میں فرد خود کو مظلوم، بے بس اور شکست خوردہ محسوس کرتا ہے۔ خوف، خود ترسی، شکایت اور بداعتمادی ۔ یہ سب اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔ ایسے لوگ صرف اپنی ذات میں ہی مایوسی نہیں پھیلاتے، بلکہ ان کی گفتگو، رویے اور موجودگی دوسروں کی سوچ، جذبے اور عمل کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک منفی فضا قائم کر دیتے ہیں، جو دوسروں کی توانائی کو دیمک کی طرح چاٹتی ہے۔
اس کے برعکس، مثبت سوچ رکھنے والے افراد امید، امکان، تخلیق اور دریافت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کے بجائے، راہیں تلاش کرتے ہیں، نئے راستے بناتے ہیں۔ ان کی صحبت میں انسان نہ صرف خود کو بہتر محسوس کرتا ہے، بلکہ اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ فرد توانائی کا منبع ہے۔ جو ہم مسلسل سوچتے ہیں، وہی ہم بن جاتے ہیں۔ اور جیسی توانائی ہم پیدا کرتے ہیں، ویسی ہی فضا ہم دوسروں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔
میری والدہ کہا کرتی ہیں:
"بیٹا، انسان کو اپنی سوچ کا برتن ہمیشہ درست سمت میں رکھنا چاہیے۔ اس میں تازگی اور خیر ڈالنا اللہ کا کام ہے۔ اگر تم نے برتن الٹا رکھا، تو بارش بھی برسے، وہ خالی ہی رہے گا۔”
یہ تمثیل حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر ہماری سوچوں کا برتن منفی سمت میں رکھا ہو، تو تازہ خیالات، نئی روشنی اور زندگی کی امید ہم تک نہیں پہنچ پاتی۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ کو ہر روز جانچیں، سنواریں اور مثبت سمت میں موڑیں کیونکہ ہم جیسے سوچتے ہیں، ویسے ہی جیتے ہیں… اور ویسے ہی دوسروں کی زندگی میں شامل ہوتے ہیں۔




