منتخب کالم

حیرت کدہ / میاں حبیب



ہمارے وطن عزیز کی نرالی ہی سیاست ہے۔ آج کوئی محب وطن اور سچا کھرا سیاستدان ہے تو کل کو وہ ملک دشمن ٹھہرتا ہے اور کسی دوسرے پر حب الوطنی کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔ اسی طرح وطنِ عزیز کے بارے میں بھی اندرون اور بیرون ملک معیارات بدلتے رہتے ہیں۔ مجھے تو جو سمجھ آتی ہے اس وطن عزیز کے معاملے میں سب محب وطن ہیں۔ ملک کی آزادی اور خودمختاری پر سب کی سوچ ایک جیسی ہے اور سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اگر ایٹم بم کی بنیاد رکھی تھی تو جنرل ضیاالحق بھٹو کے جانی دشمن ہونے کے باوجود بھٹو صاحب کے پروگرام کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور ایٹمی پروگرام کو عملی شکل پہنانے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ دنیا میں ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے۔ وہ دور تھا جب امریکہ کو ہماری ضرورت تھی ہم جہاد افغانستان کے نام پر امریکہ کے سب سے بڑے دشمن روس کے خلاف لڑ رہے تھے۔ امریکہ ہماری ہر بات ماننے کے لیے تیار تھا اور ہم نے اس وقت کا فائدہ اٹھا کر ایٹم بم بنا لیا ورنہ عام حالات میں کسی نے پاکستان کو اتنی آسانی سیایٹمی طاقت نہیں بننے دینا تھا۔ پھر بینظیر بھٹو نے کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی غرضیکہ ہر ایک نے چاہے وہ سرکاری ملازم تھا یا سیاسی عہدے دار، باتیں سننے کے باوجود وطن عزیز کی بقا کو مقدم رکھا۔ ویسے دیکھا جائے تو پاکستان واقعی ایک حیرت کدہ ہے کہ جس  ملک کے بارے سوئی تک نہ بنا پانے کا  بیرونی دنیا میں تاثر بن چکا ہو، وہ ایٹم بم، میزائل اور دنیا کے جدید ترین ہتھیار بنا کر دکھا رہا ہے۔ جسے فیل سٹیٹ قرار دیا جا رہا ہو وہ مہارت اور ٹیکنالوجی کے کمال استعمال سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال  دے۔ جو ملک کئی بار ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہو اور پھر معجزاتی طور پر سنبھل جائے اسے آپ کیا کہیں گے۔ جس ملک کے حالات کے تجزیے کرتے ہوئے لوگ کہیں کہ یہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گا وہ اپنے سے سات گنا بڑے ملک کو جو خود کو دنیا کی چوتھی بڑی اکانومی سمجھتا تھا، جو خود کو ناقابل تسخیر تصور کیے بیٹھا تھا، اس کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دے، اسے پوری دنیا میں تماشہ بنا کر رکھ دے تو اس سارے ماحول کا موازنہ آپ پاکستان کی کرکٹ ٹیم سے بھی کر سکتے ہیں کہ جب یہ ہارنے پر آئے تو کلب ٹیم سے بھی ہار جاتی ہے اور جب جیتنے پر آئے تو ورلڈ چمپین کو بھی اتنی بری طرح ہراتی ہے کہ ان کے پاس ہارنے کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہوتی۔ اسی طرح  ہمارے حکمران اور سیاستدان اڑ جائیں تو سپر پاور کو بھی کسی کھاتے میں نہیں لاتے اور ذلیل کرکے رکھ دیتے ہیں اور بچھنے پر آئیں تو اوپر سے ٹرک گزرنے پر بھی اف تک نہیں کرتے۔ اس حوالے سے جس کسی نے سبق سیکھنا ہو وہ بھارت کی حالیہ پاک بھارت جنگ سے سیکھ لے۔ ذرا پیچھے جائیں تو روس کے وجود کا جائزہ لے لیں۔ اب تو دنیا کو اور بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان پر کوئی جدید ٹیکنالوجی کا وار ہیڈ استعمال نہیں کرنا یہ فوری اس کا توڑ ایجاد کر لیتے ہیں۔ اس لیے اب دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان کی ظاہری حالت پہ نہ جانا، ان سے بچ کے رہنا۔
 اس حیرت کدہ نے آجکل پھر دنیا کو حیران کر رکھا ہے، پاکستان آج پھر دنیا کی نظروں میں ہے۔ ہمیں اس ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر کچھ اقدامات کر لینے چاہیں۔ ایک تو دنیا کے ساتھ اپنے روابط کو ازسر نو منظم کرنا چاہیے، اپنی صلاحیتوں کے مظاہرے سے جو مقام حاصل کیا ہے اسے دنیا کے سامنے رکھ کر اپنی خدمات کی قیمت لگوانی چاہیئے۔ دنیا میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کیے جائیں، اندرون ملک معیشت پر توجہ دی جائے، مڈل کلاس کو پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، فوری طور پر مختلف شعبوں کے تھنک ٹینک بنا کر ان سے تجاویز لی جائیں کہ موجودہ ماحول سے کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ فوری طور پر کن اقدامات کی ضرورت ہے سیاسی ہم آہنگی کیسے بہتر کی جا سکتی ہے قومی یکجہتی کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے ان سب باتوں پر سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہے لیکن کسی سیاسی جماعت نے اس پر غور وخوض نہیں کیا۔ خدا کے بندو! کم از کم اپنی اپنی پارٹی کے اندر ہی اس پر مشاورتی اجلاس کرلو۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button