اُردو نثربلاگنثر پارہ

حواس یافتہ /  حمزہ ابنِ وصی

حواسِ متعدد کا اشتداد باطن کو جیسے ظاہر میں لا چکا تھا۔ وہ باطن کی ظاہر سے تکرار پر مستقل چوٹ کھائے جارہا تھا۔ محسوسات ایک نظم سے ہم کنار ہوچکے تھے۔ اس کا جسم زخمی اور جگہ جگہ سے کھلا تھا ، جس کی پیوند کاری ممکنات میں سے نہیں تھی۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا کہ اس کے دل ، دماغ اور تمام اعضاء کو ہر کوئی چھو رہا ہو گو کہ مستقل اس کا آپریشن جاری تھا۔ آپریشن کرنے والے طبیب نہیں بلکہ معاشرتی مریض تھے جو خود کو لاحق ہوئے امراض اُس میں ترتیب دینے کی کوشش کررہے تھے۔

 

حواس کا بڑھنا منظرنامے کو یکسر تبدیل کرچکا تھا۔ دیکھتے دیکھتے اسے محسوس ہوتا جیسے ہر انسان سیدھ کے بجائے الٹ رخ پر موجود ہے۔ یہ سب کیا ہوگیا تھا۔ لوگوں پر لپٹے اژدھے منہ کھولے ایک دوسرے کو ڈسنے کھڑے تھے ۔ اس کے حواسی اشتداد کو ہر کوئی سمجھنے سے قاصر تھا کیوں کہ وہ لوگوں کی ڈس سے بچنے کے لیے کبھی رستہ تبدیل کرتا رہتا یا پھر کبھی کسی سے بات کرتے ہوئے یک دم پیچھے ہوجاتا، سب ہنسنے لگ جاتے۔

 

اُس کی آنکھیں منظر کو وصول کرنے سے قاصر کہ جو کچھ دکھ رہا تھا اس کے بارے ذہن میں جوابی کاروائی کا کوئی انصرام موجود نہیں تھا۔

 

اُسے ایسی آوازیں سنائی دیے جانی لگیں تھیں جن کے نہ کوئی معنی تھے نہ کوئی اسباب مگر یہ سب آوازیں باہمی طور پر ایسا شور پیدا کرتی تھیں جس کی وجہ سے وجود سلسلہ وار خراش زدہ رہتا۔

 

وہ جوئندگی میں وہاں نکل گیا، جہاں جانے کی کوئی خواہش نہ تھی۔ حواس کا محدود ہونا اسے نعمت محسوس ہونے لگا ۔ شدت نے تو اس کو بے حال کردیا۔ یہ بیماری عام بیماری نہیں ، یہ ایک دریافت تھی جو نایافت تھی۔

 

کہیں ایسے چشمے نہیں بنتے تھے جو بصیرت کو محدود کردیں اور اس کو صرف اتنا نظر آئے جتنا مقصود ہے۔ اس کو تو منظرنامے پر موجود سازشیں اور شاخسانہ عزائم بھی وجود کی مانند چلتے پھرتے نظر آنے لگے تھے۔

 

کوئی مشین ایسی نہیں تھی جو اس کی سماعت کو محدود کردے اور وہ صرف اتنا سنے جتنا درکار ہے۔ سننے کی بڑھی ہوئی صلاحیت ایسا درجہ اختیار کر چکی تھی کہ کانوں میں انگلیاں ڈال لینے سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا اور اصوات پتنگوں کی طرح اس کے کان میں شور کرتی رہتی تھیں۔

 

کوئی علاج میسر نہ ہوسکا کہ وہ خوشبو اور بدبو کی درجہ بندی کرسکے ۔ بے تحاشہ دھانس کی وجہ سے وہ سانس لینے میں بھی دشواری محسوس کرنے لگا تھا ، اور یہ بدبو کوئی عام بدبو نہیں بلکہ لوگوں کے اذہان میں پڑے پس کی تھی جس نے اس کو استھما کا مریض بنادیا تھا۔

 

اس کی زبان مستقل کڑواہٹ کا شکار تھی، اور یہ کڑواہٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ لوگوں کی زبانوں سے انتقال ہونے والے جرثوموں نے اس کے منہ کھلتے ہی زبان پر ڈیرہ ڈال لیا تھا ، اور گھائل زبان مثلِ قید میں تھی جس کو جراثیم نے جکڑ کر مکمل طور پر گرفتار کرلیا تھا۔

 

اس کو خارج میں موجود ہر شے کا لمس بغیر حرکت کیے محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ منظر میں موجود سب کے لمس کو بلا تحریک محسوس کرنے لگا تھا ۔ حس کی ایسی شدت کی وجہ سے اس کو اپنے آپ سے بھی کراہیت ہونے لگی۔ معاشرے میں موجود چپچپاہٹ کمیکل کی طرح تھی جو آہستگی سے وجود کے معمولی اثرات کو غیب میں تبدیل کردے اور انسان صرف ناموجود شے بن کر رہ جائے۔

 

حواسِ خمسہ کے محدود ہو جانے کی خواہش اس لیے ضروری ہوگئی تھی کہ وہ حواس کے اشتداد سے تلذذ کے بجائے تکلیف کا شکار ہورہا تھا۔ اسی طرح اس کا ذہن بھی تیز رفتاری میں مصروف ہوگیا تھا اور حواس کے ساتھ باہمی ربط پیدا کرنے کی غیر معمولی کوشش کرتا۔ انکشافات و اکتشافات نے اس کو نڈھال کردیا تھا۔ ذہن لاکھ کوششوں کے باوجود بھی حواسی تحریک سے انسلاک نہیں کرپایا۔

 

کبھی کبھی اسے الٹ رخ پر چلتے لوگ ، دوڑتی دنیا دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا تھا اور کبھی وہ حیرانی کو سمیٹتے سمیٹتے چکر کھا کر زمیں بوس ہوجاتا۔

 

اس کے حواس کی شدت کا مقابلہ ذہن کرنے سے قاصر ہی رہا ۔حواس برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے اور ذہن بشری تقاضوں سے بندھا ہوا اپنی صلاحیت کو حتی المقدور پیش کرتا مگر ذہن بے کار خانے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اسے محسوس ہوتا حواس کے گھوڑوں کے آگے ذہن اُس شتر کی مانند تھا جس کو کھیل سے نا اہلیت کی بناء پر ایک کھوٹٹے سے باندھ دیا گیا ہو۔

 

ایک وقت آیا کہ وہ ذہنی مریض بن گیا کیوں کہ حواس سے روابط اس کی رگوں پر بہت زور ڈال رہے تھے۔ جہاں محسوسات بڑھے وہاں اندروں رگیں سوکھی لکڑی کی مثل محسوس ہونے لگیں تھیں اور آخر کار دل و ذہن حواس کی کاروائی کو برداشت نہ کر پائےاور وہ حواس یافتہ کے بعد حواس باختہ ہوگیا، جو حالتِ مفلوجیت میں اظہار سے بے گانہ رہتا۔

Author

Related Articles

Back to top button