دو غزلیں | لکی فاروقی حسرت
دو غزلیں
سونے چاندی کے تار سلتے ہیں
اُن کے جوتے سُنار سلتے ہیں
جرم کے تار تار دامن کو
منصفِ با وقار سلتے ہیں
اپنے مہمان کے لئے غنچے
تیری خوشبو سے ہار سلتے ہیں
شہرِ غربت کے نامور درزی
میرے کپڑے اُدھار سلتے ہیں
ہم جدائی کے کارخانے میں
لذّتِ انتظار سلتے ہیں
میرے دشمن کی آہنی پوشاک
میرے دیرینہ یار سلتے ہیں
گھوس کی سوئی سے کئی افسر
مرسڈیز اور تھار سلتے ہیں
فکر کی ذوالفقار سے حسرت
ہم غزل کا وقار سلتے ہیں
لکی فاروقی حسرت
جوبن کی گرم شال سے آگے نہ بڑھ سکی
خواہش ترے وصال سے آگے نہ بڑھ سکی
مصرعے اگرچہ کرتے رہے ذہن کا طواف
لیکن غزل خیال سے آگے نہ بڑھ سکی
جب جب مباحثے ہوئے حُسن و جمال پر
دنیا تری مثال سے آگے نہ بڑھ سکی
کی کوششیں تو لاکھ مگر آنسوؤں کی فوج
کاٹن کے اک رُمال سے آگے نہ بڑھ سکی
حالانکہ پھول اور بھی گلشن میں تھے مگر
تتلی تمہارے گال سے آگے نہ بڑھ سکی
لکی فاروقی حسرت



