خبریں

طورخم بارڈر تین ہفتوں سے بند: ’یومیہ ایک ارب سے زائد نقصان‘، جرگے کا دوسرا دور آج/ اردو ورثہ


پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد کی بندش کے معاملے کے حل کے لیے دونوں ممالک کے مابین لویہ جرگہ کی دوسری نششت پیر یعنی آج طورخم میں منعقد ہوگا۔

سرحد کی بندش سے چیمبر آف کامرس کے مطابق دو طرفہ تجارت کی بندش سے یومیہ ایک ارب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین ضلع خیبر میں اہم تجارتی گزرگاہ گذشتہ تین ہفتوں سے (22 فروری ) ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے اور اس کی وجہ افغانستان کی جانب متنازعہ بارڈر پوسٹ کی تعمیر ہے۔

حالیہ مسئلے کے حل کے لیے 24 فروری کو پاکستان اور افغان حکام کے مابین ایک نشست بھی ہوئی لیکن تاحال اس کا کوئی خاطر خوا نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔

اس کے بعد خیبر چیمبر آف کامرس کے مشران کی سربراہی میں منعقدہ 22 رکنی پاکستانی جرگہ کی افغانستان کے 35 رکنی لویہ جرگہ کے اراکین کے ساتھ نو مارچ کو طورخم میں پہلی نشست ہوئی تھی جس میں دونوں جانب سے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

پہلی نشست کے حوالے سے افغانستان کے صوبہ جلال آباد (طورخم سے متصل افغانستان کا صوبہ) کے محکمہ اطلاعات کی جانب سے نو مارچ کو جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ بارڈر کے حوالے سے حتمی فیصلہ افغان طالبان کی مرکزی قیادت کرے گی۔

اس بیان کے مطابق، ’پاکستان اور افغان حکام کے مابین طورخم بارڈر کی بندش کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ اعلیٰ حکام کریں گے۔‘

خیبر چیمبر آف کامرس نے پہلی نشست کے حوالے سے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ جرگہ اراکین نے اگلی نشست تک امن تیگہ (فائر بندی) پر اتفاق کیا تھا۔

اسی سلسلے میں پیر 17 مارچ 2025 کو جرگے کی دوسری نشست منعقد کی جائے گی، تاکہ پاکستانی جرگہ اراکین کے مطابق سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے۔

معاملہ کیسے شروع ہوا؟

پاکستان اور افغانستان بارڈر انتظامیہ نے ایک دوسرے پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کے علاقوں میں بغیر مشورے کے تعمیرات کی ہیں جو غیرقانونی ہیں۔

تاہم بعد میں پاکستانی حکام نے بتایا کہ افغانستان کی جانب سے سرحد کے قریب زیرو پوائنٹ پر غیرقانونی تعیرات کی جا رہی ہیں جو کسی صورت قبول نہیں ہوں گی۔

اس کے بعد دونوں پاکستان بارڈر فورسز اور افغانستان کے بارڈر پر تعینات افغان طالبان کے مابین جھڑپیں بھی دیکھی گئیں جس میں تین مارچ کو پولیس حکام کے مطابق فائرنگ سے بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں ایک مسافر جان سے بھی گیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاملہ مزید کشیدہ ہو گیا اور تب سے اب تک اس معاملے کو تین ہفتے گزر چکے ہیں اور سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے جس سے چیمبر آف کامرس کے حکام کے مطابق اربوں روپوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر فضل مقیم خان نے 16 مارچ کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ طورخم کی بندش سے یومیہ ایک ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔

بیان میں بتایا گیا تھا کہ ماہ رمضان میں عمومی طور پر پاکستان سے سامان کی ترسیل زیادہ کی جاتی ہے۔

سرحد چیمبر آف کامرس نے اپنے بیان میں مزید بتایا ہے کہ ’طورخم بارڈر پر مختلف سامان سے لدھی پانچ ہزار سے زائد گاڑیاں کھڑی ہیں جن میں کھانے پینے کا سامان خراب ہو رہے ہیں اور رمضان میں سامان کی ترسیل مزید تیز ہوتی ہے لیکن سرحد بند ہونے سے کاروباری طبقے کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔‘

پاکستان امپورٹ میں افغانستان کا تیسرا بڑا پارٹنر ہے جبکہ ایکسپورٹ اور امپورٹ میں پہلے نمبر پر سب سے بڑا پارٹنر ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023 اور 2024 میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم 526 ملین ڈالر (147 ارب روپے سے زائد) تھا۔

افغانستان سے سب سے زیادہ پیاز، ٹماٹر، انگور، خشک خوبانی،کاٹن، کوئلہ، دالیں، کھیرا، سیب درآمد کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان سے افغانستان برآمدات میں چاول، پھل اور سبزیاں، سیمنٹ، لکڑی، پلاسٹک، موٹر سائکل، ٹریکٹر، وغیرہ شامل ہیں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button