منتخب کالم
سابق چیف جسٹس کی طرف سے سرپرائز/ بلقیس ریاض

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ارشاد حسن خان صاحب کی فون آئی کہ…میں اس عید پر آپ کو تحفہ دینا چاہتا ہوں…آپ کا کوئی بھائی حیات نہیں اور آپ مجھ کو سگا بھائی مانتی ہیں…میں نے جلدی سے جواب دیا کہ پلیز کسی قسم کی ضرورت نہیں بہت سے کپڑے اور جوتے ہیں، وہ ہی سنبھالے نہیں جاتے…بس آپ کی دعا کی ضرورت ہے. اچھا مجھے بتا تو دیں کہ آپ مجھے کیا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔
’’بس ایک سرپرائز ہے‘‘۔
اچھا تحفہ تحفہ ہی ہوتا ہے آپ کو قبول کرنا پڑے گا…میں آگے سے کوئی جواب نہ دے سکی…دوسرے دن میں نے اخبار میں دیکھا تو انہوں نے مجھ پر کالم لکھا ہوا تھا…میں نے جب پڑھا تو حیران رہ گئی…میری تحریر پر اس قدر ستائش تھی کہ میں سوچ میں پڑ گئی…اتنی خوبیاں تو مجھ میں ہیں نہیں جتنی انہوں نے اپنے کالم میں بیان کر دی ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ جب یہ چیف جسٹس کے طور پر کہیں جاتے تھے تو ہم ان کے ہمراہ ہوتے تھے…سینیارٹی کے لحاظ سے یہ میرے میاں شیخ ریاض احمد سابق چیف جسٹس آف پاکستان سے سینئر تھے…انٹرنیشنل لیول پر…یہ میرا تعارف کرواتے وہاں کے پرائم منسٹر…ججز اور لائیرز کے ساتھ اور یہ بھی بتاتے کہ یہ بڑی اچھی لکھاری ہیں. جب یہ کہتے تو میں دل میں شرمندہ سی ہو جاتی کہ اتنی تعریفیں…….!!
یوں تو میرا اس دنیا میں کوئی بھائی نہیں ہے…مگر میں ان کو اپنا سگا بھائی سمجھتی ہوں…یہ خود بھی بہت بڑے لکھاری ہیں…نوائے وقت میں ان کے کالم چھپتے ہیں؛اور سوانح عمری بھی انہوں نے اپنی زندگی کی تحریر کی ہے…جو نہایت ہی عمدہ ہے۔ انہوں نیاپنی سوانح عمری میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہر بات صاف صاف لکھی…کوئی بات نہیں چھپائی اور صاف صاف بات لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے…مگر انہوں نے لکھ دیا۔ یہ بھی ان کا کمال ہے۔ سوانح عمری میں ایک بات بڑی اچھی لکھی ہے کہ وکیل اور جج کو کیسا ہونا چاہیے۔ ان کے والد کا انتقال 1945ء میں ہوا اور جب ملک تقسیم ہوا تو کسمپرسی میں ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ اور کچھ عرصہ کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے…بڑے بڑے زمینداروں اور افسروں کے بیٹوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کالج میں مشہور ہوئے۔ ایل ایل بی کرنے کے بعد میدان وکالت میں قدم رکھا اور بہت محنت کی….یہاں تک کہ کم عمری میں ہی خود مختار تھے… کیونکہ والدین سر پر حیات نہیں تھے… اپنی محنت،جستجو اور لگن سے…ساری منزلیں طے کرتے ہوئے 5جنوری2000ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔
ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد میرے میاں چیف جسٹس بنے اور ہمارا باہر کے ملکوں کا سفر اسی طرح جاری رہا…یہ ہمارے ہمراہ جاتے تھے…سفر کے دوران میں نے ان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کی…اندر سے بڑے ہی نرم دل تھے…مگر لوگوں کے ساتھ اتنا ملتے جلتے نہیں تھے…ان کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر زیادہ لوگوں سے ملنا ملانا رہا تو…وہ اپنے مسائل میرے سامنے رکھیں گے۔ ان کی شخصیت کی ایک یہ بھی بڑی خوبی ہے کہ یہ نہایت ہی بااخلاق…شفیق…دوسروں کا دکھ محسوس کرنے والے ہیں۔
غریبوں کی بہت مدد کرتے ہیں…کئی گھروں کا چولہا اللہ کے حکم سے ان کی وجہ سے چلتا ہے۔
میری ان کے ساتھ رشتہ داری بھی ہے…لیکن یہ میرے میاں کو رشتہ دار نہیں بلکہ جگری دوست سمجھتے ہیں…اور مجھے کہتے ہیں…تم میری بہن ہو…کیونکہ میری بہنیں بھی حیات نہیں۔
میں پھر کہنا چاہتی ہوں کہ ارشاد حسن خان نہ صرف قانون کی عملداری کے داعی ہیں بلکہ مسائل کے حل کیلئے ایک خاص فہم کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کو رحم اورمحبت سے بھی نواز رکھا ہے۔ ہر قسم کے لوگوں سے ملنے سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ اس آڑ میں لوگ پھر قانونی مسائل کیلئے سفارش کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس سلسلے سے میں یوں کہوں گی کہ خدا نے ان کی شخصیت ایسی بنائی ہے کہ جو بھی آتا ہے۔ ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے…بھرپور مجلسی شخصیت ہیں۔ دیر تک ان کے قہقہے کمرے میں گونجتے رہتے ہیں. جو بھی آتا ہے بہت خوش ہو کر جاتا ہے…خاطر تواضع میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔ اللہ ان کا دستر خوان اور بھی وسیع کرے۔ ان کی طبیعت آج کل ناساز رہتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کو کامل شفا دے۔ ان کی عمر دراز کرے اور یہ ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہیں۔
’’بس ایک سرپرائز ہے‘‘۔
اچھا تحفہ تحفہ ہی ہوتا ہے آپ کو قبول کرنا پڑے گا…میں آگے سے کوئی جواب نہ دے سکی…دوسرے دن میں نے اخبار میں دیکھا تو انہوں نے مجھ پر کالم لکھا ہوا تھا…میں نے جب پڑھا تو حیران رہ گئی…میری تحریر پر اس قدر ستائش تھی کہ میں سوچ میں پڑ گئی…اتنی خوبیاں تو مجھ میں ہیں نہیں جتنی انہوں نے اپنے کالم میں بیان کر دی ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ جب یہ چیف جسٹس کے طور پر کہیں جاتے تھے تو ہم ان کے ہمراہ ہوتے تھے…سینیارٹی کے لحاظ سے یہ میرے میاں شیخ ریاض احمد سابق چیف جسٹس آف پاکستان سے سینئر تھے…انٹرنیشنل لیول پر…یہ میرا تعارف کرواتے وہاں کے پرائم منسٹر…ججز اور لائیرز کے ساتھ اور یہ بھی بتاتے کہ یہ بڑی اچھی لکھاری ہیں. جب یہ کہتے تو میں دل میں شرمندہ سی ہو جاتی کہ اتنی تعریفیں…….!!
یوں تو میرا اس دنیا میں کوئی بھائی نہیں ہے…مگر میں ان کو اپنا سگا بھائی سمجھتی ہوں…یہ خود بھی بہت بڑے لکھاری ہیں…نوائے وقت میں ان کے کالم چھپتے ہیں؛اور سوانح عمری بھی انہوں نے اپنی زندگی کی تحریر کی ہے…جو نہایت ہی عمدہ ہے۔ انہوں نیاپنی سوانح عمری میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہر بات صاف صاف لکھی…کوئی بات نہیں چھپائی اور صاف صاف بات لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے…مگر انہوں نے لکھ دیا۔ یہ بھی ان کا کمال ہے۔ سوانح عمری میں ایک بات بڑی اچھی لکھی ہے کہ وکیل اور جج کو کیسا ہونا چاہیے۔ ان کے والد کا انتقال 1945ء میں ہوا اور جب ملک تقسیم ہوا تو کسمپرسی میں ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ اور کچھ عرصہ کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے…بڑے بڑے زمینداروں اور افسروں کے بیٹوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کالج میں مشہور ہوئے۔ ایل ایل بی کرنے کے بعد میدان وکالت میں قدم رکھا اور بہت محنت کی….یہاں تک کہ کم عمری میں ہی خود مختار تھے… کیونکہ والدین سر پر حیات نہیں تھے… اپنی محنت،جستجو اور لگن سے…ساری منزلیں طے کرتے ہوئے 5جنوری2000ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔
ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد میرے میاں چیف جسٹس بنے اور ہمارا باہر کے ملکوں کا سفر اسی طرح جاری رہا…یہ ہمارے ہمراہ جاتے تھے…سفر کے دوران میں نے ان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کی…اندر سے بڑے ہی نرم دل تھے…مگر لوگوں کے ساتھ اتنا ملتے جلتے نہیں تھے…ان کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر زیادہ لوگوں سے ملنا ملانا رہا تو…وہ اپنے مسائل میرے سامنے رکھیں گے۔ ان کی شخصیت کی ایک یہ بھی بڑی خوبی ہے کہ یہ نہایت ہی بااخلاق…شفیق…دوسروں کا دکھ محسوس کرنے والے ہیں۔
غریبوں کی بہت مدد کرتے ہیں…کئی گھروں کا چولہا اللہ کے حکم سے ان کی وجہ سے چلتا ہے۔
میری ان کے ساتھ رشتہ داری بھی ہے…لیکن یہ میرے میاں کو رشتہ دار نہیں بلکہ جگری دوست سمجھتے ہیں…اور مجھے کہتے ہیں…تم میری بہن ہو…کیونکہ میری بہنیں بھی حیات نہیں۔
میں پھر کہنا چاہتی ہوں کہ ارشاد حسن خان نہ صرف قانون کی عملداری کے داعی ہیں بلکہ مسائل کے حل کیلئے ایک خاص فہم کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کو رحم اورمحبت سے بھی نواز رکھا ہے۔ ہر قسم کے لوگوں سے ملنے سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ اس آڑ میں لوگ پھر قانونی مسائل کیلئے سفارش کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس سلسلے سے میں یوں کہوں گی کہ خدا نے ان کی شخصیت ایسی بنائی ہے کہ جو بھی آتا ہے۔ ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے…بھرپور مجلسی شخصیت ہیں۔ دیر تک ان کے قہقہے کمرے میں گونجتے رہتے ہیں. جو بھی آتا ہے بہت خوش ہو کر جاتا ہے…خاطر تواضع میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔ اللہ ان کا دستر خوان اور بھی وسیع کرے۔ ان کی طبیعت آج کل ناساز رہتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کو کامل شفا دے۔ ان کی عمر دراز کرے اور یہ ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہیں۔




