خبریں

حسن اور حسین نواز شریف کی آج پاکستان آمد متوقع


پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے بعد حکومت سازی اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا
  • الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسران تعینات کر دیے

12 مارچ صبح 8 بجکر 17 منٹ

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے برطانیہ میں مقیم صاحبزادوں کی منگل کو پاکستان آمد متوقع ہے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار مونا خان کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حسن نواز اور حسین نواز کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا موقع دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری گذشتہ ہفتے معطل کیے تھے اور سماعت 14 مارچ تک ملتوی کی تھی۔

پاکستان پہنچنے کے بعد نواز شریف کے صاحبزادے 14 مارچ 2024 تک عدالت کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے محفوظ شدہ فیصلہ سات مارچ 2024 کو سنایا تھا۔

حسن اور حسین نواز کے  وکیل قاضی مصباح الحسن اور رانا عرفان ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے تھے جبکہ نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر، پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے۔

ملزمان کے وکیل قاضی مصباح الحسن ایڈوکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ریفرنس میں ہائی کورٹ سے تمام دیگر ملزمان بری ہوچکے ہیں، 12 مارچ کو حسن اور حسین نواز پاکستان آ کر عدالت پیش ہو جائیں گے۔‘

نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف نے عدالت سے کہا تھا کہ ’دو وارنٹ گرفتاری بھی پہلے سے معطل کر دیے گئے ہیں، قانون کہتا ہے ملزمان عدالت پیش ہوں تو ہی وارنٹ گرفتاری معطل ہوتے ہیں، پیشی کے بغیر وارنٹ گرفتاری معطل نہیں ہوسکتے۔ وارنٹ کا مطلب ہی ملزم کو عدالت لانا ہے، اس لیے ملزمان خود آکر عدالت میں سرنڈر کر سکتے ہیں، خود عدالت میں پیش ہوں، ملزمان کو عدالت پیش ہونے کا موقع دیا جائے۔‘

حسین نواز اور حسن نواز نے نیب ریفرنسز ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

احتساب عدالت نے سات سال قبل عدم پیشی پر دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے چھ جولائی 2018 کو دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

سپریم کورٹ میں پانامہ فیصلے کے نتیجے میں بننے والے ریفرنسز میں نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کے ساتھ حسن نواز اور حسین نواز بھی شریک ملزمان تھے۔


11 مارچ شب 11 بجکر 15 منٹ

وفاقی کابینہ میں شامل وزرا کو قلمدان سونپ دیے گئے

پاکستان کی وفاقی کابینہ میں شامل وزرا کو آج قلمدان سونپ دیے گئے۔  

حکومت سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق خواجہ محمد آصف کو دفاع، محمد اسحاق ڈار کو وزارت خارجہ، عطا ﷲ تارڑ کو وزارت اطلاعات، عبدالعلیم خان کو وزارت نجکاری، محمد احسن اقبال کو منصوبہ بندی، چوہدری سالک حسین کو اوورسیز پاکستانی اور محسن نقوی کو وزرات داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔

جام کمال خان کو وزارت تجارت، رانا تنویر حسین کو صنعت و پیداوار، مصدق ملک کو پیٹرولیم، اعظم نذیر تارڑ کو قانون، خالد مقبول صدیقی کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، قیصر شیخ، ریاض پیرزادہ ، احد چیمہ، اویس لغاری کو ریلوے اور محمد اورنگزیب کو وزارت خزانہ کا قلمندان دیا گیا ہے۔

احد چیمہ کو اکنامک افیئرز اور قیصر احمد شیخ کو میری ٹائمز کی وزارت دی گئی ہے۔


11 مارچ شب 9 بجکر 30 منٹ

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کی کو نئی منتخب وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے۔

ایوان وزیراعظم سے جاری ہونےو الے بیان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو ملک میں اشیائے خورد و نوش اور روز مرہ کی دیگر اشیا کی قیمتوں کے کنٹرول کے لیے فی الفور کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس میں وزارت تجارت کی سفارش پر کیلوں اور پیاز کی برآمد پر 15 اپریل 2024 تک پابندی عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

بیان کے مطابق یہ پابندی ماہ رمضان کے دوران کیلوں اور پیاز کی مارکیٹ میں وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے عائد کی گئی ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارا سب سے پہلا امتحان ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے۔‘

وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر نیدرلینڈز کے شہری محمد اورنگزیب کی پاکستانی شہریت دوبارہ حاصل کرنے کی درخواست منظور کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button