اُردو ادبافسانچہ

چینل مالک کی ڈائری / شہزاد نئیر

1۔ آج میرے پاس ایک شخص آیا جسے میں نہیں جانتا۔ وہ مجھ سے ٹی وی چینل کے اس لائسنس کی بات کرنا چاہتا تھا جس کی میں نے درخواست دے رکھی تھی۔ وہ لباس ، حُلیے اور گفتگو سے خاصا پڑھا لکھا معلوم ہوتا تھا۔ اس نے بتایا کہ لائسنس کی دستیابی ایک یقین دہانی سے مشروط ہے۔ میں نے اسے گول مول سا جواب دے کر ٹال دیا۔
2۔ آج پھر وہی شخص آیا جو پچھلے ہفتے آیا تھا۔ وہی لباس اور ویسی ہی گفتگو ۔ میرے بے پناہ اصرار پر بھی اس نے مجھے اپنے ادارے کے بارے نہیں بتایا۔ بس وہ یقین دہانی چاہتا تھا کہ لائسنس ملنے کے بعد میرے ٹی وی چینل سے وہ سب کچھ نشر ہوگا جو اس کے ادارے کی جانب سے بتایا جائے گا۔ اس نے مجھے چینل کی پالیسی بارے سرسری انداز میں ہدایات بھی دیں جنہیں میں نے سن لیا۔ نہ واضح رضامندی دی اور نہ ہی انکار کیا۔
3۔ میرے ٹی وی چینل کے لائسنس کی منظوری کے اگلے ہی دن وہی شخص پھر آیا۔ اس بار بھی میں نے اس کا نام عہدہ اور ادارہ جاننا چاہا لیکن اس نے الٹا میرے بارے میں بتانا شروع کردیا۔ میرے بچپن، تعلیم، ملازمت، بیوی بچوں۔حتیٰ کہ خیالات و نظریات تک کا اسے پتہ تھا۔ مجھے اس سے خوف محسوس ہوا۔ جاتے ہوئے کہنے لگا:’’تم مجھے مسٹر ایکس کہہ سکتے ہو۔‘‘
4۔ آج میرے چینل کو آن ایئر ہوئے دو ماہ ہوگئے ہیں۔ اس دوران میں ایک طاقتور ادارے کی جانب سے اکثر اوقات مجھے خبروں کا چارہ بھیجا جاتا رہا۔ میں کچھ تبدیل کرکے، کچھ رخ بدل کر ان کی بھیجی ہوئی خبریں چلاتا رہا۔ کل میرے پاس ایک شخص آیا۔ اس کے بقول اسے مسٹرایکس نے بھیجا تھا۔ وہ ایک خاص خبر رکوانے کے لیے آیا تھا۔ میرے کہنے پر اس نے اپنے موبائل فون سے میری بات مسٹرایکس سے کروائی۔ میں نے ہوں ہاں میں جواب دے دیا۔ کوئی اور چینل وہ خبر نہیں چلا رہا تھا۔ خبر ایک طاقتور ادارے کی کرپشن کے بارے تھی۔ آج میں نے دھوم دھڑکے سے وہ خبر چلا دی۔ ہر طرف میرے چینل کی دھوم مچ گئی۔
-5 اگر میں غیرطبعی موت مر جائوں تو اسی ادارے کو ذمہ دار مانا جائے جس کے خلاف وہ خبر تھی۔ مجھے یقین ہے مسٹرایکس اور اس کا کارندہ بھی اسی ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔
شہزاد نیر

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x