اسرائیل کی حمایت کا الزام: مردان میں کے ایف سی ’زنجیریں لگا کر بند‘ کر دیا گیا
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ناظم کی سربراہی میں جمعرات کو عالمی فاسٹ فوڈ برانڈ کے ایف سی کی فرنچائز کو اسرائیل کی حمایت کے الزام میں زبردستی بند کر دیا گیا۔
آج (جمعرات) مردان کی ضلعی کونسل کے ایک اجلاس میں ناظم حمایت اللہ مایار نے کے ایف سی مردان کو بند کرنے کے لیے قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
قرار داد منظور ہونے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ میئر حمایت اللہ کی سربراہ میں مظاہرین افطار کے بعد کے ایف سی کی مقامی فرنچائز پر پہنچے اور اس کے دروازے کو زنجیریں ڈال کر بند کر دیا۔
حمایت اللہ نے انڈپیںڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’ہم نے علامتی طور پر کے ایف سی کے دروازوں کو زنجریں لگا کر بند کر دیا۔‘
ان کے مطابق: ’ضلعی انتظامیہ یا کے ایف سی انتظامیہ اگر کھولنا چاہے تو ان کی مرضی ہے، لیکن آج کے ایف سی کو بند کرنے کا مقصد عوام میں اسرائیلی مظالم کے بارے میں آگاہی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ کسی کے کاروبار کو بند کرنے کے حق میں نہیں لیکن ’ہم عوام میں آگاہی پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اسرائیلی مصنوعات کی بایئکاٹ کا اعلان کریں۔‘
افطاری کے بعد وہ مظاہرین سمیت موقعے پر پہنچے اور کے ایف سی کو بند کر دیا۔ گذشتہ ہفتے جماعت اسلامی نے کے ایف سی مردان کی عمارت کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بند کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جماعت اسلامی نے کے ایف سی پر اسرائیل کے حمایت یافتہ برانڈ ہونے کا الزام لگایا تھا۔
کے ایف سی مردان کی انتظامیہ کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی کہ مظاہرین نے آج ہماری برانچ کو بند کر دیا۔
ان سے جب برانچ کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
کے ایف سی کی بنیاد امریکہ کے کرنل ہارلینڈ سینڈرز نے رکھی تھی، جن کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے مطابق امریکہ میں پانچ ہزار سے زائد جبکہ پوری دنیا کے 145 ممالک میں 25 ہزار سے زائد شاخیں ہیں۔
پاکستان میں کے ایف سی نے 1997 میں قدم رکھا اور آج ملک کے 37 شہروں میں اس کی 128 شاخیں موجود ہیں۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




