بلاگ
امریکہ کا غیر روایتی کردار: تجارتی جنگ اور عالمی انتشار / تحریر: شاہد چودھری

ایک زمانہ تھا جب امریکہ کو عالمی امن، انسانی حقوق اور اقتصادی استحکام کا پرچم بردار سمجھا جاتا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد، دنیا کے ملبے پر امریکہ نے عالمی نظام کی تعمیر کی۔ بریٹن ووڈز، مارشل پلان، عالمی مالیاتی ادارے اور اقوام متحدہ — یہ سب اس کی قیادت کے مظاہر تھے۔ سرد جنگ میں بھی نظریاتی تقسیم کے باوجود امریکہ کا بیانیہ متوازن تھا، جو مغربی دنیا میں استحکام لایا۔ لیکن 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ کی واحد طاقت کا خواب حقیقت بن گیا۔ مگر اس طاقت کے ساتھ عالمی ذمہ داری کا شعور کم ہونے لگا۔ افغانستان، عراق اور لیبیا میں مداخلت نے جمہوریت کے بجائے انتشار کو جنم دیا۔ گلوبل ساؤتھ میں امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی اور اس پر اعتماد متزلزل ہونے لگا۔
اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں امریکی خارجہ پالیسی نے ایک انوکھا موڑ لیا، خاص طور پر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران۔ "America First” کا نعرہ دنیا کو پیغام تھا کہ امریکہ اب صرف اپنے مفاد کے تابع چلے گا۔ پیرس معاہدے سے نکلنا، نیٹو پر بدگمانی، ایران سے جوہری معاہدے کا خاتمہ، چین پر تجارتی دباؤ، اور عالمی سطح پر سفارتی بے ربطی — یہ سب غیر روایتی مگر واضح فیصلے تھے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی ٹرمپ کا کردار غیر معمولی تھا۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، ایران پر مزید پابندیاں لگانا، اور عرب ممالک کو اسرائیل سے تعلقات پر آمادہ کرنا — یہ سب وقتی سیاسی فائدے تو لائے، لیکن خطے میں اعتماد کی بنیاد کو کمزور کر دیا۔ امریکہ کا کردار ثالث کم اور فریق زیادہ محسوس ہوا۔
آج کا امریکہ، قائد سے زیادہ ایک عالمی تاجر محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے اب اصولوں سے نہیں، مفادات سے جڑے ہیں۔ چین کے ساتھ اقتصادی سرد جنگ، یورپ سے محصولات پر تنازع، روس-یوکرین جنگ میں محدود شمولیت — یہ سب نشانی ہے کہ امریکہ کی عالمی برتری متزلزل ہو رہی ہے۔ تجارتی جنگوں اور اقتصادی پابندیوں نے صرف متعلقہ ممالک کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا۔ مہنگائی، کرنسی بحران، سرمایہ کاری کی بے یقینی، اور مالیاتی دباؤ — یہ سب ترقی پذیر اقوام کے لیے مہلک ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکہ اب عالمی نظام میں توازن کا نہیں، عدم توازن کا باعث بنتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ تبدیلی کسی ایک صدر یا جماعت کی نہیں، بلکہ امریکہ کی اندرونی سیاسی، سماجی اور نظریاتی تقسیم کی عکاسی ہے۔ نسل پرستی، اسلحہ کلچر، امیگریشن پر انتہاپسندی، اور 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملہ — یہ سب اس کی جمہوری ساخت کے اندرونی کھوکھلے پن کو ظاہر کرتے ہیں۔ خود امریکہ کے اندر تقسیم اور بداعتمادی ہے تو عالمی سطح پر اس سے قیادت کی توقع رکھنا سادہ لوحی ہو گی۔ اب دنیا کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو محض طاقت پر نہیں، بلکہ شراکت اور انصاف پر مبنی ہو۔ امریکہ کو اب خود اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ دنیا کو جو اقدار سکھاتا رہا، وہ خود اس کے اندر ماند پڑ چکی ہیں۔
دنیا اب ایک نئے عالمی ڈھانچے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین، روس، بھارت، یورپی یونین، ترکی اور افریقی ممالک اب امریکی بالادستی کے متبادل نظام تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ "کثیر قطبی” دنیا صرف طاقت کی جنگ نہیں، ایک نئے فکری توازن کی طرف اشارہ ہے۔ امریکہ کے غیر روایتی رویے سے پیدا ہونے والا بحران صرف معیشت تک محدود نہیں، بلکہ سفارت، امن، اور عالمی تعاون کے امکانات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ دنیا کو اب قیادت کی نہیں، ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ قیادت وہی معتبر ہے جو دوسروں کی آواز سنے، نہ کہ صرف اپنی سنائے۔

Author
URL Copied




