خبریں

ہم فیصلہ کریں گے کہ کون پاکستان میں قیام کرے گا: دفتر خارجہ/ اردو ورثہ


حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ ’ہم فیصلہ کریں گے کہ کون (پاکستان میں) قیام کر سکتا ہے۔‘ قبل ازیں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ نے حکومت پر زور دیا کہ افغانستان میں آنے والے زلزلے کے بعد افغان شہریوں کو بڑی تعداد میں ملک بدر نہ کیا جائے۔

ہزاروں افغان جو پناہ گزین کے طور پر پاکستان میں رجسٹر تھے، گذشتہ دنوں سرحد پار کر گئے ہیں تاہم پناہ گزینوں کی واپسی میں اضافے ہو رہا ہے جب کہ ہفتے کے آخر میں آنے والے زلزلے میں افغانستان میں 2200 افراد جان سے گئے اور دیہات کے دیہات تباہ ہو گئے۔

اس صورت حال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ہائی کمشنر برائے فلیپو گراندی نے اپیل کی کہ ’حالات کو دیکھتے ہوئے میں حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد کو مؤخر کر دے۔‘

پاکستان نے تشدد اور انسانی بحرانوں کی وجہ سے ملک چھوڑنے والے افغان شہریوں کی چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک میزبانی کی۔ پاکستان نے سابق سوویت یونین کے افغانستان پر حملے سے لے کر سے لے 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے تک افغان پناہ گزینوں کو پناہ دیے رکھی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’جن لوگوں کے پاس کوئی دستاویز نہیں انہیں جانا چاہیے۔ یہی پاکستان کر رہا ہے اور یہی کوئی اور ملک کرے گا۔ یورپ اور دوسرے ممالک سمیت۔ یہ ہماری سرزمین ہے، ہم فیصلہ کریں گے کہ کون یہاں رہے۔‘

عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازے کے مطابق حال ہی میں دو لاکھ 70 ہزار واپس جانے والے افراد پاکستان سے ملحقہ زلزلہ متاثرہ اضلاع میں آباد ہوئے۔

جرمنی جانے کے منتظر افغان شہریوں کے مطابق کہ پولیس نے کئی گیسٹ ہاؤسز پر چھاپے مارے جہاں جرمن حکام نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنے کیسز پر کارروائی کے دوران مہینوں تک قیام کریں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشرقی افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ دیہات میں رہنے والوں میں سے کئی ان چار کروڑ سے زیادہ افغان شہریوں میں شامل ہیں جنہیں گذشتہ برسوں میں ایران اور پاکستان سے زبردستی واپس بھیجا گیا۔

افغان پناہ گزینوں کے مختلف گروہوں کو مختلف سہولتیں دی گئیں جس میں کام اور تعلیم تک رسائی بھی شامل ہے۔ کچھ افغان وہ ہیں جو پاکستان میں ہی پیدا ہوئے اور پلے بڑھے جب کہ دوسرے افغان شہریوں مغربی ملکوں میں دوبارہ آبادکاری کے لیے پاکستان کے راستے سفر کیا۔

تاہم پاکستان کی حکومت نے پرتشدد حملوں اور عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے 2023 میں افغان پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا اور انہیں ’دہشت گرد اور مجرم‘ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس کے بعد سے 12 لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کو پاکستان سے واپس جانے پر مجبور کیا گیا جن میں صرف رواں سال واپس بھیجے گئے چار لاکھ 43 ہزار سے زیادہ افغان شہری شامل ہیں۔

تازہ ترین کریک ڈاؤن کا نشانہ تقریباً 13 لاکھ وہ افغان پناہ گزین ہیں جن کے پاس اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ادارے یو این ایچ سی آر کے جاری کردہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہیں۔

پاکستانی حکومت نے ان کے لیے یکم ستمبر آخری تاریخ مقرر کی ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں اور بصورت دیگر گرفتاری اور ملک بدری کا سامنا کریں۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x